کمیونٹی

کینیڈا اسٹرانگ پاس کے تحت اس موسمِ گرما میں بینف نیشنل پارک میں مفت داخلہ

📷 image credit to social media

کینیڈا اسٹرانگ پاس کے تحت اس موسمِ گرما میں بینف نیشنل پارک میں مفت داخلہ

اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے موسمِ گرما کے دوران شہریوں اور سیاحوں کے لیے ایک بڑی سہولت کا اعلان کرتے ہوئے “کینیڈا اسٹرانگ پاس” دوبارہ متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت ملک بھر کے قومی پارکوں، تاریخی مقامات اور بعض عجائب گھروں میں مفت یا رعایتی داخلہ فراہم کیا جائے گا۔ اس اسکیم کا اطلاق 19 جون سے 7 ستمبر تک ہوگا اور اس کے ذریعے لاکھوں افراد کینیڈا کے قدرتی اور ثقافتی ورثے سے کم خرچ میں لطف اندوز ہو سکیں گے۔

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا کے مشہور سیاحتی مقام بینف نیشنل پارک میں گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ تعداد میں سیاحوں کی آمد دیکھی گئی، جس کے باعث مقامی حکام نے ٹریفک اور ہجوم کے مسائل پر بھی توجہ دلائی ہے۔

بینف نیشنل پارک میں مفت داخلے کی سہولت

کینیڈا اسٹرانگ پاس کے تحت ملک بھر کے تمام پارکس کینیڈا کے زیرِ انتظام قومی پارکوں، تاریخی مقامات اور محفوظ علاقوں میں مفت داخلہ حاصل کیا جا سکے گا۔ اس کے علاوہ کیمپنگ فیس پر 25 فیصد رعایت بھی دی جائے گی، جس سے خاندانوں اور سیاحوں کو نمایاں مالی فائدہ پہنچے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو قدرتی مقامات کی سیر کی ترغیب دینا، ملکی سیاحت کو فروغ دینا اور کینیڈا کے تاریخی و ثقافتی ورثے تک عوام کی رسائی آسان بنانا ہے۔

عجائب گھروں میں بھی خصوصی رعایت

کینیڈا اسٹرانگ پاس صرف قومی پارکوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے تحت قومی عجائب گھروں میں بھی خصوصی رعایت فراہم کی جا رہی ہے۔ اس اسکیم کے مطابق 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے داخلہ مکمل طور پر مفت ہوگا، جبکہ 18 سے 24 سال کے نوجوانوں کو داخلہ فیس میں 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔

حکومت کا خیال ہے کہ اس اقدام سے نوجوان نسل میں تاریخ، ثقافت اور قومی ورثے کے بارے میں آگاہی بڑھے گی اور انہیں ملک کے مختلف حصوں کی سیر کا موقع ملے گا۔

بینف میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد

بینف نیشنل پارک کینیڈا کے سب سے مشہور سیاحتی مقامات میں شمار ہوتا ہے اور گزشتہ مالی سال 2025-26 کے دوران یہاں سیاحوں کی تعداد نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے میں 45 لاکھ سے زائد افراد بینف کے داخلی راستوں سے گزرے، جو اس مقام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا واضح ثبوت ہے۔

بینف اپنی دلکش جھیلوں، برف پوش پہاڑوں، جنگلات، قدرتی مناظر اور سیاحتی سرگرمیوں کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ تاہم بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کے باعث ٹریفک، پارکنگ اور ماحولیاتی دباؤ جیسے مسائل بھی سامنے آ رہے ہیں۔

میئر کی سیاحوں سے پبلک ٹرانزٹ استعمال کرنے کی اپیل

بینف کی میئر کوری ڈی مانو نے سیاحوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی گاڑیاں لانے کے بجائے پبلک ٹرانزٹ یا متبادل سفری ذرائع استعمال کریں تاکہ شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بات کے واضح اعداد و شمار موجود نہیں کہ گزشتہ سال کینیڈا اسٹرانگ پاس اور سیاحوں کی تعداد میں اضافے کے درمیان براہِ راست کیا تعلق تھا، تاہم ایک حقیقت یہ ہے کہ بینف نے اپنی تاریخ میں پہلی بار داخلی راستوں پر گاڑیوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی۔

میئر کے مطابق شہر میں محدود پارکنگ اور بڑھتی ہوئی ٹریفک کے باعث پبلک ٹرانزٹ کو ترجیح دینا نہ صرف سیاحوں کے لیے آسان ہوگا بلکہ مقامی انفراسٹرکچر پر دباؤ بھی کم کرے گا۔

روام پبلک ٹرانزٹ کی مقبولیت میں اضافہ

بینف میں چلنے والی روام پبلک ٹرانزٹ سروس نے بھی گزشتہ سال نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران اس سروس سے 30 لاکھ سے زائد مسافروں نے فائدہ اٹھایا۔

مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس سال مزید سیاح اپنی گاڑیاں استعمال کرنے کے بجائے روام ٹرانزٹ کے ذریعے شہر اور گردونواح کے مقامات کی سیر کریں گے۔

بغیر گاڑی بینف کی سیر کا منصوبہ

بینف کے حکام نے سیاحوں کے لیے Car Free Banff نامی منصوبے کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے، جس کے تحت ایسے سفری پروگرام اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے جن کی مدد سے سیاح ذاتی گاڑی کے بغیر بینف پہنچ سکتے ہیں اور مختلف مقامات کی سیر کر سکتے ہیں۔

میئر کے مطابق یہ ماڈل ماحول دوست سیاحت کو فروغ دیتا ہے اور شہر میں ٹریفک کے مسائل کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاحت کے اخراجات میں کمی کا موقع

سیاحتی شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ بینف کی سیر بعض اوقات مہنگی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم کینیڈا اسٹرانگ پاس کی بدولت اس موسمِ گرما میں بہت سے اخراجات کم کیے جا سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر سیاح مصروف اوقات کے بجائے صبح سویرے یا شام کے وقت سفر کریں اور پبلک ٹرانزٹ استعمال کریں تو نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ ہجوم سے بھی بچا جا سکے گا۔

کینیڈا اسٹرانگ پاس 7 ستمبر تک مؤثر رہے گا، جس کے دوران شہری اور سیاح قومی پارکوں، تاریخی مقامات اور مختلف ثقافتی مراکز میں مفت یا رعایتی سہولتوں سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں گے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories