جرمنی کا فیفا ورلڈ کپ 2026 میں شاندار آغاز، کوراکاؤ کو 1-7 سے شکست، کائی ہاورٹز کے دو گول
ڈلاس (اسپورٹس ڈیسک): چار مرتبہ کی عالمی چیمپئن جرمنی نے فیفا ورلڈ کپ 2026 میں اپنے پہلے ہی میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیریبین ملک کوراکاؤ کو 1-7 سے شکست دے دی۔ گروپ ای کے اس یکطرفہ مقابلے میں جرمن ٹیم نے ابتدا ہی سے اپنی برتری ثابت کی اور حریف کو سنبھلنے کا موقع نہ دیا۔ جرمنی کی جانب سے کائی ہاورٹز نے دو گول اسکور کیے جبکہ دیگر کھلاڑیوں نے بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے ٹیم کی بڑی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔
جرمنی کا جارحانہ آغاز
میچ کے آغاز سے ہی جرمن کھلاڑیوں نے جارحانہ حکمت عملی اپنائی۔ مقابلے کے صرف چھٹے منٹ میں فیلکس نیمیچا نے فلوریان ورٹز کے ساتھ شاندار اشتراک کے بعد گیند کو جال میں پہنچا دیا۔ یہ گول نہ صرف جرمنی کو ابتدائی برتری دلانے کا باعث بنا بلکہ اب تک ٹورنامنٹ کا تیز ترین گول بھی قرار پایا۔
ابتدائی گول کے بعد جرمنی نے مسلسل حملے جاری رکھے اور کوراکاؤ کے دفاع پر شدید دباؤ برقرار رکھا۔ جرمن مڈفیلڈرز اور فارورڈز کے درمیان بہترین تال میل نے حریف ٹیم کو مشکلات سے دوچار کیے رکھا۔
کوراکاؤ نے تاریخ رقم کر دی
اگرچہ میچ پر جرمنی کا مکمل کنٹرول تھا، تاہم کوراکاؤ نے پہلے ہاف میں ایک یادگار لمحہ پیدا کر کے اپنے مداحوں کے دل جیت لیے۔ تقریباً ایک لاکھ پچپن ہزار آبادی اور صرف 171 مربع میل رقبے پر مشتمل یہ چھوٹا سا جزیرہ نما ملک پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ میں شریک ہوا ہے۔
کوراکاؤ کے مڈفیلڈر لیوانو کومینینسیا نے ایک زبردست شاٹ کے ذریعے اپنی ٹیم کا پہلا ورلڈ کپ گول اسکور کیا۔ گیند راستے میں معمولی ڈیفلیکشن کے بعد جرمنی کے تجربہ کار گول کیپر مینوئل نوئر کو دھوکا دیتے ہوئے جال میں جا پہنچی۔ اس گول پر کوراکاؤ کے کھلاڑیوں اور شائقین نے بھرپور جشن منایا کیونکہ یہ ان کی فٹبال تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا۔
جرمنی نے برتری مزید مستحکم کر لی
کوراکاؤ کے گول کے بعد کچھ دیر کے لیے میچ میں سنسنی پیدا ہوئی، لیکن جرمن ٹیم نے فوری طور پر اپنی گرفت دوبارہ مضبوط کر لی۔ نکلاس شلوٹر بیک نے ایک کارنر کک پر شاندار ہیڈر کے ذریعے جرمنی کو 1-2 کی برتری دلا دی۔
پہلے ہاف کے اختتامی لمحات میں جرمنی کو پنالٹی حاصل ہوئی جب کوراکاؤ کے دفاعی کھلاڑی ریچیڈلی بازور نے فیلکس نیمیچا کو فاؤل کیا۔ کائی ہاورٹز نے پنالٹی پر کوئی غلطی نہ کرتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچایا اور اسکور 1-3 کر دیا۔ یوں پہلے ہاف کے اختتام تک جرمنی مضبوط پوزیشن میں آ چکا تھا۔
دوسرے ہاف میں جرمن طوفان
دوسرے ہاف کے آغاز کے ساتھ ہی جرمنی نے اپنی برتری میں مزید اضافہ کر دیا۔ کھیل دوبارہ شروع ہونے کے صرف 69 سیکنڈ بعد جمال موسیالا نے شاندار گول اسکور کرتے ہوئے اسکور 1-4 کر دیا۔
اس گول کے بعد کوراکاؤ کی واپسی کی تمام امیدیں تقریباً ختم ہو گئیں۔ جرمن ٹیم نے مسلسل حملے جاری رکھے اور مخالف دفاع کو مکمل طور پر بے بس کر دیا۔
نئے کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی
جرمنی کے نوجوان کھلاڑی نیتھنئیل براؤن نے اپنے ورلڈ کپ ڈیبیو کو یادگار بناتے ہوئے پانچواں گول اسکور کیا۔ اس گول نے جرمنی کی برتری کو مزید مستحکم کر دیا اور اسکور 1-5 ہو گیا۔
چند ہی منٹ بعد ڈینیز انڈاو نے بھی اپنا نام اسکور شیٹ میں شامل کر لیا اور چھٹا گول داغ دیا۔ انڈاو نہ صرف خود گول کرنے میں کامیاب رہے بلکہ ٹیم کے ساتویں گول کی بنیاد بھی انہوں نے ہی رکھی۔
کائی ہاورٹز کے دو گول
میچ کے آخری حصے میں ڈینیز انڈاو کے شاندار پاس پر کائی ہاورٹز نے اپنا دوسرا اور جرمنی کا ساتواں گول اسکور کیا۔ ہاورٹز نے پورے میچ میں زبردست کارکردگی دکھائی اور دو گول کرکے ٹیم کی فتح میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ان کے علاوہ فیلکس نیمیچا، جمال موسیالا، نکلاس شلوٹر بیک، نیتھنئیل براؤن اور ڈینیز انڈاو بھی گول کرنے والوں میں شامل رہے۔
جرمنی کی جانب سے طاقتور پیغام
اس شاندار فتح کے ساتھ جرمنی نے نہ صرف تین قیمتی پوائنٹس حاصل کیے بلکہ اپنے حریفوں کو بھی واضح پیغام دیا کہ وہ اس بار عالمی کپ جیتنے کے لیے سنجیدہ دعویدار ہے۔ جرمن ٹیم نے حملے اور دفاع دونوں شعبوں میں متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب کوراکاؤ اگرچہ میچ ہار گیا، لیکن اپنی پہلی ورلڈ کپ مہم میں گول اسکور کرکے اس نے اپنے مداحوں کو یادگار لمحہ فراہم کیا۔ چھوٹے سے ملک کی ٹیم نے کئی مواقع پر جرات مندانہ کھیل پیش کیا اور مستقبل کے لیے مثبت اشارے دیے۔
گروپ ای میں جرمنی کی یہ بڑی کامیابی اسے پوائنٹس ٹیبل پر مضبوط پوزیشن فراہم کرتی ہے، جبکہ کوراکاؤ کو اگلے میچوں میں بہتر کارکردگی دکھا کر واپسی کی کوشش کرنا ہوگی۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں جرمنی نے جس انداز سے میدان مارا ہے، اس کے بعد فٹبال ماہرین اسے ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شمار کر رہے ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

