کینیڈا اور آئرلینڈ کے درمیان سائنس، ٹیکنالوجی اور ثقافت میں شراکت داری میں توسیع
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے آئرلینڈ کے ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور ثقافت کے شعبوں میں اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔
ایک زیادہ خطرناک اور تقسیم شدہ دنیا میں کینیڈا اپنی اندرونی طاقت کو مضبوط بنانے اور بیرونی سطح پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو متنوع بنا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے یورپی اتحادی کینیڈا کی حکمتِ عملی میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ دونوں خطے مشترکہ تاریخ، اقدار اور بڑھتے ہوئے مشترکہ مفادات اور اہداف رکھتے ہیں۔
آئرلینڈ یورپ میں کینیڈا کے قریبی ترین شراکت داروں میں سے ایک ہے، اور آج دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں دو طرفہ تجارت میں تقریباً 150 فیصد اضافہ ہوا ہے، اور آئرلینڈ سرمایہ کاری، زراعت، غذائی صنعت، صاف توانائی اور اقتصادی سلامتی کے شعبوں میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس پیش رفت کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم مارک کارنی نے آئرلینڈ کا ایک کامیاب دورہ مکمل کیا، جو تقریباً ایک دہائی بعد کسی کینیڈین وزیر اعظم کا پہلا دورہ تھا۔
ڈبلن میں اپنے قیام کے دوران وزیر اعظم کارنی نے آئرلینڈ کے وزیر اعظم (Taoiseach) مارٹن سے ملاقات کی اور دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ بیان کی بنیاد پر مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا، جن میں درج ذیل اہم نکات شامل ہیں:
دونوں ممالک نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت کینیڈا کی AI حکمتِ عملی اور آئرلینڈ کی “ڈیجیٹل آئرلینڈ” حکمتِ عملی کو ہم آہنگ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کینیڈا کی کمپنی OpenText نے آئرلینڈ کے شہر کارک میں 160 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے، جہاں وہ اپنا یورپی AI مرکز قائم کرے گی۔
دونوں ممالک نے صحت کے نظام اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، خاص طور پر ری جنریٹو میڈیسن، فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ، افرادی قوت کی تربیت اور بائیو مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں۔ اس حوالے سے کئی مفاہمتی یادداشتیں بھی دستخط کی گئیں، جن میں کینیڈا اور آئرلینڈ کے تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون شامل ہے تاکہ صحت کی جدید ٹیکنالوجیز کی ترقی اور تجارتی استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
زراعت اور غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی دونوں ممالک نے سرمایہ کاری بڑھانے اور عالمی فوڈ سکیورٹی کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ ماحولیات اور کلین انرجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، میتھین اخراج میں کمی اور عالمی فورمز میں مشترکہ کردار پر بھی زور دیا گیا۔
تحقیق، اختراع اور نئی ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھی دونوں ممالک نے محققین کے تبادلے، تجارتی تحقیق اور جدت کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔
ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزیر اعظم کارنی نے “کینیڈا-آئرلینڈ 180” نامی ایک ثقافتی منصوبے کے آغاز کے لیے 2 ملین ڈالر تک کی مالی معاونت کا اعلان کیا۔ یہ پروگرام 2027 میں آئرش ہجرت کے 180 سال مکمل ہونے پر منعقد کیا جائے گا اور دونوں ممالک کے مشترکہ ورثے کو اجاگر کرے گا۔
دونوں رہنماؤں نے دفاع اور سلامتی کے شعبے میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا، جس میں یورپی یونین کے سکیورٹی اور دفاعی منصوبوں کے ذریعے عملی اشتراک شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بحری سلامتی اور دفاعی تربیت کے شعبے میں بھی تعاون پر بات ہوئی۔
ملاقات میں کینیڈا-یورپی یونین جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (CETA) کو معاشی ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا اور اس کی مکمل توثیق کے عمل میں پیش رفت کا خیرمقدم کیا گیا۔
بعد ازاں وزیر اعظم کارنی نے آئرلینڈ کے کاؤنٹی مایو کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی سے ملاقات کی اور مقامی کمیونٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کی۔
وزیر اعظم نے کہا کہ کینیڈا کی نئی حکومت ایک مضبوط، مسابقتی اور لچکدار معیشت کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے، اور بین الاقوامی شراکت داریوں کو فروغ دے کر ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ تاریخ اور اقدار کے ساتھ کینیڈا اور آئرلینڈ کا تعلق ایک منفرد بین البراعظمی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے، اور دونوں ممالک مل کر اپنے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

