تفریح

جیکلین فرنانڈیز کے کیس سے سپریم کورٹ کے جج الگ، 200 کروڑ روپے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت اب نئی بنچ کرے گی

📷 Image credit:Social Media

جیکلین فرنانڈیز کے کیس سے سپریم کورٹ کے جج الگ، 200 کروڑ روپے منی لانڈرنگ کیس کی سماعت اب نئی بنچ کرے گی

نئی دہلی: بالی ووڈ اداکارہ جیکلین فرنانڈیز سے متعلق 200 کروڑ روپے کے مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بھارت کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس پرشانت کمار مشرا نے اس معاملے کی سماعت سے خود کو الگ کر لیا ہے، جس کے بعد کیس اب کسی دوسری بنچ کے سامنے سنا جائے گا۔

سپریم کورٹ میں جیکلین فرنانڈیز کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہو رہی تھی، جس میں انہوں نے دہلی کی ایک عدالت کے اس فیصلے کو چیلنج کیا ہے جس کے تحت ان کے خلاف 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں الزامات طے کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

جسٹس پرشانت کمار مشرا اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل بنچ نے سماعت کے آغاز میں ہی فریقین کو آگاہ کیا کہ یہ مقدمہ اب کسی دوسری بنچ کے سپرد کیا جائے گا۔ جسٹس مشرا نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے متعلق ایک مقدمے میں ان کے صاحبزادے حکومت کی جانب سے پیش ہو چکے ہیں، اس لیے وہ اس کیس کی سماعت میں شامل نہیں رہ سکتے۔

عدالت نے ہدایت دی کہ مقدمہ 25 جون کو ایسی نئی بنچ کے سامنے پیش کیا جائے جس میں موجودہ بنچ کے دونوں ججوں میں سے کوئی شامل نہ ہو۔

عدالت نے 17 ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے کا حکم دیا تھا

واضح رہے کہ 30 مئی کو دہلی کی ایک عدالت نے جیکلین فرنانڈیز، مبینہ ٹھگ سوکیش چندرشیکھر اور دیگر 15 افراد کے خلاف 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کیس میں الزامات طے کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اس فیصلے کے بعد جیکلین فرنانڈیز 3 جون کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش ہوئی تھیں، جہاں انہوں نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے خود کو مکمل طور پر بے قصور بتایا تھا۔

کیا ہے 200 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ کا معاملہ؟

یہ پورا کیس مبینہ ٹھگ سوکیش چندرشیکھر سے متعلق ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے دہلی کی روہنی جیل میں قید رہتے ہوئے فورٹس ہیلتھ کیئر کے سابق پروموٹر شیوندر سنگھ کی اہلیہ ادیتی سنگھ سے دھوکہ دہی اور دباؤ کے ذریعے تقریباً 200 کروڑ روپے وصول کیے تھے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے مطابق سوکیش نے اس مبینہ غیر قانونی رقم کا ایک بڑا حصہ جیکلین فرنانڈیز اور ان کے اہلِ خانہ پر خرچ کیا۔ تحقیقات کے مطابق اداکارہ کو کئی مہنگے اور قیمتی تحائف دیے گئے، جن میں لگژری گاڑیاں، قیمتی زیورات، برانڈڈ بیگز، مہنگے ملبوسات اور دیگر قیمتی اشیا شامل تھیں۔

ای ڈی کا مؤقف ہے کہ جیکلین فرنانڈیز کو سوکیش چندرشیکھر کے مجرمانہ پس منظر اور رقم کے مشتبہ ذرائع کے بارے میں معلومات تھیں، اس کے باوجود انہوں نے اس سے تحائف وصول کیے۔ اسی بنیاد پر ای ڈی نے اپنی ضمنی چارج شیٹ میں اداکارہ کو بھی ملزم نامزد کیا تھا۔

جیکلین کا مؤقف کیا ہے؟

دوسری جانب جیکلین فرنانڈیز اور ان کی قانونی ٹیم تمام الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔ اداکارہ کے وکلا کا کہنا ہے کہ جیکلین خود سوکیش چندرشیکھر کے دھوکے اور سازش کا شکار ہوئیں اور انہیں اس کے مبینہ جرائم یا مالی بے ضابطگیوں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

ان کا مؤقف ہے کہ جیکلین نے سوکیش کو ایک کامیاب کاروباری شخصیت سمجھ کر اس سے تعلقات قائم کیے تھے اور وہ اس کی اصل شناخت اور سرگرمیوں سے بے خبر تھیں۔

وائرل تصاویر نے بھی توجہ حاصل کی

تحقیقات کے دوران سوکیش چندرشیکھر اور جیکلین فرنانڈیز کی متعدد نجی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئی تھیں، جو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی تھیں۔ ان تصاویر نے اس کیس کو مزید سرخیوں میں لا کھڑا کیا اور عوامی دلچسپی میں اضافہ کیا۔

فی الحال سپریم کورٹ میں جیکلین فرنانڈیز کی درخواست پر آئندہ سماعت 25 جون کو متوقع ہے، جبکہ عدالت اس بات کا جائزہ لے گی کہ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات اور دستیاب شواہد مقدمے کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔ اس کیس کو بالی ووڈ اور قانونی حلقوں میں خاصی اہمیت حاصل ہے اور اس کی آئندہ سماعت پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories