لبنان پر حملے، کسی علاقے پر قبضہ معاہدے کی خلاف ورزی تصور ہوگا: عباس عراقچی
تہران (خصوصی رپورٹ) ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان کے کسی بھی علاقے پر حملے جاری رہے یا وہاں قبضے کی کوشش کی گئی تو اسے خطے میں جاری سفارتی کوششوں اور مفاہمتی عمل کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے اور ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی پورے خطے کے امن و استحکام کو متاثر کر سکتی ہے۔
تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عباس عراقچی نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی اصولوں کا تقاضا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر اسرائیل لبنان کے اندر اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کرتا ہے یا کسی علاقے پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنے اور ممکنہ جنگ بندی کے حوالے سے مختلف سفارتی ذرائع کے ذریعے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابھی تک کسی حتمی اور باضابطہ معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم متعدد فریقین کے درمیان رابطے موجود ہیں اور حالات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان میں امریکہ پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے کی موجودہ صورتحال میں بالواسطہ طور پر ذمہ دار ہے کیونکہ وہ اپنے قریبی اتحادی اسرائیل کی کارروائیوں کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق اگر امریکہ واقعی خطے میں امن کا خواہاں ہے تو اسے اسرائیل پر دباؤ ڈالنا ہوگا تاکہ فوجی کارروائیوں میں کمی لائی جا سکے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ عراقچی کے مطابق اگر اسرائیلی کارروائیاں جاری رہتی ہیں تو نہ صرف جاری سفارتی رابطے متاثر ہوں گے بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
لبنان گزشتہ کئی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کا ایک اہم مرکز رہا ہے اور حالیہ مہینوں میں اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے درمیان تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرحدی علاقوں میں وقفے وقفے سے جھڑپوں، راکٹ حملوں اور فضائی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث خطے میں عدم استحکام بڑھا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران مسلسل لبنان کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہ کسی بھی ایسی پیش رفت کو اپنے علاقائی مفادات سے جوڑ کر دیکھتا ہے جو حزب اللہ یا لبنان کی سلامتی کو متاثر کر سکتی ہو۔ اسی تناظر میں عباس عراقچی کا حالیہ بیان بھی خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اس قسم کے بیانات کے ذریعے امریکہ اور اسرائیل پر سیاسی و سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ لبنان کے مسئلے کو وسیع تر علاقائی مذاکرات کا حصہ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ لبنان میں ہونے والی کسی بھی بڑی پیش رفت کا اثر پورے خطے کے توازن پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کی جانب سے مفاہمتی عمل اور سفارتی رابطوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، لیکن اب تک کسی ایسے جامع بین الاقوامی معاہدے کی آزادانہ اور باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی جس میں امریکہ، اسرائیل، ایران اور حزب اللہ کو ایک مشترکہ فریم ورک کے تحت شامل کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں تمام دعوؤں اور بیانات کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب لبنان میں عوامی سطح پر بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ کسی بھی نئی فوجی کشیدگی کے نتیجے میں پہلے سے مشکلات کا شکار ملک کو مزید معاشی اور انسانی بحرانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے بھی بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات ناگزیر ہیں۔
عباس عراقچی نے اپنے بیان کے اختتام پر ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ لبنان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی یا کسی علاقے پر قبضے کی کوشش خطے میں جاری مفاہمتی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی اور اسے ایک سنگین پیش رفت کے طور پر دیکھا جائے گا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ سے بچایا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

