2026 فیفا ورلڈ کپ کا آج سے آغاز، امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں فٹبال کا عالمی میلہ سج گیا
ٹورنٹو/میکسیکو سٹی/نیویارک: دنیا کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ 2026 فیفا ورلڈ کپ کا آج باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والا یہ تاریخی ٹورنامنٹ 19 جولائی تک جاری رہے گا۔ فٹبال کے شائقین کے لیے یہ ورلڈ کپ کئی حوالوں سے منفرد اور یادگار قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ 48 ٹیمیں عالمی چیمپئن بننے کے لیے میدان میں اتری ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ کے گزشتہ ایڈیشنز میں 32 ٹیمیں حصہ لیتی تھیں، تاہم 2026 کے ایڈیشن میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس کے باعث دنیا بھر کے مزید ممالک کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا ہے۔ میزبان ممالک امریکا، کینیڈا اور میکسیکو نے براہِ راست ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا، جبکہ باقی 45 ٹیموں نے دو سال تک جاری رہنے والے سخت اور طویل کوالیفائنگ مرحلے کے بعد اپنی جگہ بنائی۔
اس مرتبہ ٹورنامنٹ میں مجموعی طور پر 12 گروپس تشکیل دیے گئے ہیں اور ہر گروپ میں چار ٹیمیں شامل ہیں۔ گروپ مرحلے کے اختتام پر ہر گروپ کی پہلی دو ٹیمیں براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ جائیں گی، جبکہ تمام گروپس میں تیسرے نمبر پر آنے والی آٹھ بہترین ٹیمیں بھی اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔ اس طرح مجموعی طور پر 32 ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔
2026 ورلڈ کپ میں ریکارڈ 104 میچز کھیلے جائیں گے، جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ان میں 72 میچز گروپ مرحلے میں جبکہ 32 میچز ناک آؤٹ مرحلے میں منعقد ہوں گے۔ ٹورنامنٹ کا فائنل 19 جولائی کو کھیلا جائے گا، جس کے بعد نئی عالمی چیمپئن ٹیم کا تاج پہنایا جائے گا۔
فٹبال ماہرین کے مطابق ٹیموں کی تعداد میں اضافے سے مقابلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت اور دلچسپ ہو جائے گا۔ ایشیا، افریقہ، شمالی امریکا اور اوشیانا کے ممالک کی زیادہ نمائندگی سے عالمی فٹبال میں توازن پیدا ہونے کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔
میزبان ممالک نے اس بڑے ایونٹ کے لیے وسیع پیمانے پر تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ امریکا کے مختلف شہروں، کینیڈا کے ٹورنٹو اور وینکوور جبکہ میکسیکو کے متعدد اسٹیڈیمز میں میچز منعقد کیے جائیں گے۔ لاکھوں شائقین دنیا بھر سے ان ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جس کے باعث سیاحت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور مقامی معیشت کو بھی نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
کینیڈا میں خاص طور پر اس ایونٹ کو تاریخی اہمیت حاصل ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ ملک ورلڈ کپ کے اتنے بڑے حصے کی میزبانی کر رہا ہے۔ ٹورنٹو اور وینکوور میں فین فیسٹیولز، ثقافتی پروگرامز اور خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ مقامی شہریوں اور بین الاقوامی مہمانوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
فٹبال کے شائقین کی نظریں روایتی طاقتور ٹیموں جیسے برازیل، ارجنٹینا، فرانس، جرمنی، اسپین اور انگلینڈ پر مرکوز ہیں، تاہم کئی ابھرتی ہوئی ٹیمیں بھی اس بار حیران کن کارکردگی دکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ دفاعی چیمپئن سمیت متعدد مضبوط ٹیمیں عالمی اعزاز برقرار رکھنے یا حاصل کرنے کے لیے سخت جدوجہد کریں گی۔
فیفا حکام کا کہنا ہے کہ 2026 ورلڈ کپ نہ صرف کھیلوں کا ایک بڑا مقابلہ ہے بلکہ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور قوموں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ان کے مطابق یہ ٹورنامنٹ فٹبال کی عالمی مقبولیت کو مزید فروغ دے گا اور نئی نسل کو اس کھیل کی طرف راغب کرے گا۔
دنیا بھر کے اربوں ناظرین ٹیلی ویژن اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اس عالمی ایونٹ کو دیکھیں گے، جبکہ لاکھوں شائقین اسٹیڈیمز میں جا کر اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ 19 جولائی تک جاری رہنے والا یہ عالمی میلہ فٹبال کے سنسنی خیز مقابلوں، یادگار لمحات اور نئے ریکارڈز کا گواہ بننے جا رہا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

