دنیا

جماعت کے رہنماؤں نے امریکہ ایران معاہدے کا کیا خیرمقدم

📷 Photo credit to StudioXNews

جماعت کے رہنماؤں نے امریکہ ایران معاہدے کا کیا خیرمقدم، راجیہ سبھا انتخابی عمل کی شفافیت اور مغربی بنگال کی صورت حال پر تشویش کا کیا اظہار

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس میں جماعت کے سینئر رہنماؤں نے امریکہ ایران امن معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں جاری انہدامی کارروائیوں، راجیہ سبھا انتخابات کی شفافیت اور مغربی بنگال میں انتخابات کے بعد کی صورت حال پر اپنی گہری تشویش ظاہر کی ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے دہلی میں جاری انہدامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ کارروائیاں قانونی تقاضوں اور بازآبادکاری کے منصوبوں کے بغیر انجام دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کو انتہائی غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بنیادی حقوق اور انسانی وقار کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ ملک معتصم خان نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران دہلی، باندرہ، فرید آباد، ویرم گام (گجرات)، گورے گاؤں (مہاراشٹر)، وارانسی، سنبھل، جے پور، بھائیندر، پی سی ایم سی اور اٹاوہ میں بڑے پیمانے پر انہدامی کارروائیاں کی گئیں ہیں۔ پمپری چنچواڑ میں حکام نے متعدد مذہبی مقامات کو نوٹس جاری کی اور رات کے وقت کارروائی کرتے ہوئے کئی عمارتوں کو منہدم کر دیا۔ سورت کے ناصر نگر میں تین دن کے دوران 106 مکانات گرائے گئے، جبکہ جے پور میں سڑک کی توسیع کے نام پر نورانی مسجد کو شہید کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ خاندان بڑی تعداد میں بے گھر ہو چکے ہیں ۔ ان کی بازآبادکاری کے حوالے سے حکومت نے ابھی تک کوئی واضح پالیسی نہیں بنائی ہے ۔ شدید گرمی کے دوران انہدامی کارروائیوں نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا کیا ہے، جبکہ آنے والا مان سون اس صورت حال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کی واضح ہدایت موجود ہے کہ مناسب بازآبادکاری کے بغیر بے دخلی کی کارروائیاں نہیں کی جانی چاہئیں۔

ملک معتصم خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت اور متعلقہ حکام فوری طور پرانہدامی کارروائیوں کو روکیں اور ملک کے ہر شہری کے لیے باوقار زندگی کو یقینی بنائیں۔

اس موقع پر امریکہ ایران امن معاہدے پر اظہار خیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند حال امریکہ اور ایران کے درمیان  طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ اس کے طے شدہ نکات پر متعلقہ فریق مکمل دیانت داری کے ساتھ عمل کریں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے پیش نظر یہ معاہدہ تنازعات میں کمی اور خطے میں استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ ثالثی کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی برادری اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے۔ اگر کوئی فریق خلاف ورزی کا مرتکب ہو تو اس کے خلاف مؤثر کارروائی کی جانی چاہیے خواہ اس کی سیاسی، عسکری یا اقتصادی طاقت کچھ بھی ہو۔ اس معاہدے سے معاشی دباؤ میں کمی آنے ، مہنگائی، بے روزگاری اور مالی مشکلات سے متاثرعام لوگوں کو کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔  انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند امید کرتی ہے کہ حکومت ہند امن کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کرے گی۔ ساتھ ہی ہم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کے حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی ضروری ہے کہ بین الاقوامی برادری غزہ اور فلسطین میں جاری ناانصافیوں، جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز نہ کرے۔

راجیہ سبھا انتخابات کے حوالے سے پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ حالیہ رجحانات نے انتخابی عمل کی ساکھ کے بارے میں تشویشناک سوالات کھڑے کر دئے ہیں۔ ووٹوں کی خرید و فروخت، دولت کے ناجائز استعمال، ارکانِ اسمبلی کو ہراساں کرنے اور کراس ووٹنگ کے الزامات اب ایک حقیقت بن چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ من مانے فیصلوں، جانچ پڑتال میں جانبداری اور نامزدگی کے عمل میں شفافیت کے فقدان سے الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر سنگین شبہات پیدا ہوئے ہیں۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے ایک امیدوار کا راجیہ سبھا کے لیے پرچہ نامزدگی مسترد ہونا، جو اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے ،  طریقۂ کار کی منصفانہ حیثیت پر سوالیہ نشان لگاتا ہے اور ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے۔مغربی بنگال کی صورت حال پر اظہار خیال کرتے ہوئے اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کرانے، اپوزیشن جماعتوں کو توڑنے اور سیاسی مخالفین کے خلاف سڑکوں پر تشدد کے متعدد واقعات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس سے ریاست میں خوف اور جبر کا ماحول پیدا ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کے ٹوپسیہ جیسے علاقوں کی صورت حال انتہائی تشویشناک ہے جہاں انہدامی نوٹسوں کی وجہ سے ہزاروں افراد بے گھر ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ایسے اقدامات شفافیت اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ اگر کہیں غیر قانونی تعمیرات موجود ہیں تو ان کے خلاف کارروائی صرف قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔ مغربی بنگال میں انہدامی کارروائی کےساتھ سیاسی دباؤ اور ڈرانے دھمکانے کی اطلاعات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہاں جمہوری عمل کے خلاف ایک خطرناک ماحول پیدا ہو رہا ہے۔جماعت اسلامی ہند کے رہنماؤں نے اجتماعی طور پر سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین سے اپیل کی کہ وہ ان مسائل کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور متاثرہ افراد کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ جماعت اسلامی ہند نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام شہریوں کے حقوق، وقار اور سلامتی کا تحفظ ملک کے آئینی اور جمہوری ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories