اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک میں غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے اور مقامی خوراک کو عوام کے لیے زیادہ سستا اور قابلِ رسائی بنانے کے مقصد سے ایک جامع قومی حکمتِ عملی کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت آئندہ دس برسوں میں تین ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ نئی غذائی تحفظ حکمتِ عملی کے ذریعے خوراک کی پیداوار، ترسیل، ذخیرہ اندوزی اور تقسیم کے نظام میں اہم اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی تاکہ کسانوں، چھوٹے کاروباروں اور صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچ سکے۔حکومت کے مطابق منصوبے کا ایک اہم حصہ ایک ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ پروگرام ہے، جس کے تحت ملک بھر میں جدید خوراکی تقسیم مراکز اور ذخیرہ گاہیں قائم کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور آزاد دکانداروں کو بڑی ریٹیل چینز کے مقابلے میں بہتر مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مقامی کسانوں اور غذائی مصنوعات تیار کرنے والوں سے براہِ راست سامان حاصل کر سکیں۔نئی حکمتِ عملی میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے فوڈ پروسیسنگ اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے اور ان کی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ حکومتی حکام کے مطابق اس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ کینیڈین غذائی مصنوعات عالمی منڈی میں بھی بہتر مقابلہ کر سکیں گی۔منصوبے کے تحت 750 ملین ڈالر گرین ہاؤسز اور جدید مٹی کے بغیر کاشتکاری کے نظاموں پر خرچ کیے جائیں گے تاکہ سال بھر مقامی پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نے خاص طور پر دیہی، شمالی اور دور دراز علاقوں میں اس شعبے کی ترقی پر زور دیا ہے۔وفاقی حکومت نے زرعی شعبے میں بیجوں، جانوروں کی خوراک، کھادوں اور ویٹرنری مصنوعات کی منظوری کے عمل کو تیز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ غیر ضروری تاخیر اور انتظامی پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکے۔وزیرِ اعظم مارک کارنی نے ٹورنٹو کے علاقے ایٹوبیکوک میں ایک غذائی مرکز کے دورے کے دوران کہا کہ کینیڈا دنیا کے بڑے زرعی ممالک میں شمار ہوتا ہے اور ملک کے کسان، مویشی پالنے والے اور غذائی صنعت سے وابستہ ادارے ہر سال تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات برآمد کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ کینیڈا زرعی پیداوار میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے، لیکن عام شہری اب تک اس کا مکمل فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔ ان کے مطابق 2019 کے بعد سے خوراک کی قیمتوں میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ ایک اوسط کینیڈین خاندان سالانہ تقریباً 10 ہزار ڈالر خوراک پر خرچ کرتا ہے۔مارک کارنی نے اس بات کی نشاندہی بھی کی کہ کینیڈا میں پیدا ہونے والی بڑی مقدار میں زرعی پیداوار کی پراسیسنگ اب بھی بیرونِ ملک کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اپنی تازہ پھلوں اور خشک میوہ جات کی تقریباً 90 فیصد ضروریات درآمدات سے پوری کرتا ہے، جبکہ سبزیوں کا 70 فیصد سے زائد حصہ بھی بیرونِ ملک سے آتا ہے۔حکومت کے مطابق ملک کی غذائی منڈی پر چند بڑی تجارتی کمپنیاں حاوی ہیں اور صرف پانچ بڑے ریٹیل ادارے مجموعی مارکیٹ کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قابض ہیں، جس کے باعث چھوٹے کاروباروں کو سخت مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔نئی پالیسی کے تحت کسانوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے کے مزید مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ آزاد دکانداروں کو متبادل سپلائی چینز تک رسائی دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صارفین کو بہتر معیار کی تازہ خوراک زیادہ مناسب قیمتوں پر دستیاب ہوگی، خصوصاً دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں رہنے والے افراد کو نمایاں فائدہ پہنچے گا۔ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو جاتا ہے تو کینیڈا نہ صرف غذائی درآمدات پر اپنا انحصار کم کر سکے گا بلکہ مقامی پیداوار، روزگار اور غذائی تحفظ میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے مثبت اثرات براہِ راست عوام کی زندگی اور گھریلو اخراجات پر مرتب ہوں گے۔۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

