دنیا

لبنان پر حملے جاری رہے تو امریکا سے مذاکرات معطل کر دیں گے، ایران کی سخت وارننگ

📷 Iran warns it will suspend talks with US if attacks on Lebanon continue

لبنان پر حملے جاری رہے تو امریکا سے مذاکرات معطل کر دیں گے، ایران کی سخت وارننگ

تہران: ایران نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حملوں کا سلسلہ بند نہ ہوا تو امریکا کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات معطل کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی قیادت نے اس صورتحال کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشیدگی میں مزید اضافے کے نتائج پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا کہ لبنان پر حملوں کے تسلسل کی صورت میں تہران اپنی سفارتی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیاں مذاکراتی ماحول کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ایسے حالات میں تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانا مشکل ہو جاتا ہے۔

دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے بھی سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان اور غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں مزاحمتی گروپوں کو ردعمل پر مجبور کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو خطے کی اہم بحری گزرگاہوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

انہوں نے اشارہ دیا کہ باب المندب جیسے اہم بحری راستوں میں بھی ایسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے جو عالمی تجارت اور بحری نقل و حمل کے لیے مشکلات کا سبب بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری تنازعات کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ لبنان پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے اتحادیوں اور علاقائی استحکام کے تحفظ کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف سیکیورٹی صورتحال کو متاثر کر رہی ہے بلکہ سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں تنازعات کے سیاسی حل اور جنگ بندی کی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع اور علاقائی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے حالیہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو خطے میں سیاسی اور عسکری تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories