دنیا

خطے میں امن کا سورج طلوع، پاکستان کی کوششیں کامیاب، امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، باضابطہ دستخط 19 جون کو ہوں گے: شہباز شریف

📷 Photo Credit to StudioXNews

خطے میں امن کا سورج طلوع، پاکستان کی کوششیں کامیاب، امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، باضابطہ دستخط 19 جون کو ہوں گے: شہباز شریف

اسلام آباد – وزیراعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم امن معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے باضابطہ دستخط 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے والی ایک خصوصی تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ وزیراعظم کے مطابق یہ پیش رفت مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے قیام اور طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ کئی ماہ سے جاری سفارتی رابطوں، مذاکرات اور مختلف ممالک کی مشترکہ کوششوں کے نتیجے میں دونوں فریق ایک ایسے معاہدے پر متفق ہوئے ہیں جس کا مقصد خطے میں پائیدار امن قائم کرنا اور تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری کی راہ ہموار کرے گا بلکہ پورے خطے پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے مختلف محاذوں پر جاری عسکری سرگرمیوں کو فوری اور مستقل طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے میں ایسے نکات بھی شامل ہیں جن کا مقصد کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور مستقبل میں تنازعات کے پرامن حل کو یقینی بنانا ہے۔

شہباز شریف کے مطابق معاہدے کے دائرہ کار میں لبنان سمیت خطے کے دیگر متاثرہ علاقوں کی صورتحال بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی ذرائع کو ترجیح دی جائے گی۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق معاہدے پر دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی، جس میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی نمائندوں، سفارت کاروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے عہدیداروں کی شرکت متوقع ہے۔ اعلامیے میں ان تمام ممالک اور اداروں کا شکریہ ادا کیا گیا جنہوں نے اس سفارتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے مسلسل کردار ادا کیا۔

وزیراعظم نے قطر کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ برادر ملک نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور مختلف فریقوں کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق قطر کی قیادت نے کئی اہم مواقع پر مثبت سفارتی اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں مذاکرات کو کامیابی کی جانب بڑھانے میں مدد ملی۔

اعلامیے میں سعودی عرب اور ترکیہ کی کوششوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ وزیراعظم کے مطابق دونوں ممالک نے اعتماد سازی، رابطوں کے فروغ اور مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا کے ان اہم ممالک کی معاونت کے بغیر اس سطح کی پیش رفت ممکن نہیں تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے بھی خطے میں امن کے فروغ، کشیدگی میں کمی اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے مسلسل کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مذاکرات، باہمی احترام اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر مبنی رہی ہے، اور اسی پالیسی کے تحت پاکستان نے اس عمل کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ معاہدے کے بعد ثالثی میں شامل ممالک آئندہ چند روز کے دوران متعدد مشاورتی اجلاس اور ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں معاہدے پر عمل درآمد کے مختلف پہلوؤں، تکنیکی امور، نگرانی کے طریقہ کار اور دستخطی تقریب کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ طے شدہ نکات پر مؤثر انداز میں عمل کیا جا سکے۔

سیاسی و سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو اس کے خطے اور عالمی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی کے لیے بھی مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔

تاہم مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ معاہدے کی مکمل تفصیلات، اس کے قانونی نکات اور عملی نفاذ کے طریقہ کار سامنے آنے کے بعد ہی اس کی حقیقی اہمیت اور اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔ فی الحال عالمی برادری کی نظریں 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں متوقع دستخطی تقریب اور اس سے قبل ہونے والی سفارتی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان کے اختتام پر امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا اور تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری کے مؤثر کردار کو مزید مضبوط بنائے گا۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories