مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت تک پہنچ گئے، کینیڈا کساد بازاری کا شکار
کینیڈا : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور توانائی کے عالمی بحران کے اثرات دنیا کی بڑی معیشتوں پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ عالمی تجارتی سرگرمیوں میں سست روی، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور بین الاقوامی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث متعدد ممالک کو معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ ان حالات میں کینیڈا کی معیشت مسلسل دوسری سہ ماہی میں سکڑنے کے بعد باضابطہ طور پر کساد بازاری (Recession) کی زد میں آ گئی ہے، جبکہ یورپی ممالک بھی معاشی مشکلات کے خدشات سے دوچار ہیں۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کے اطراف غیر یقینی حالات کے باعث تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ توانائی کی بڑھتی ہوئی لاگت نے دنیا بھر میں ایندھن، ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی اثر ڈالا ہے، جس سے افراطِ زر کے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
کینیڈا کی معاشی مشکلات صرف بین الاقوامی عوامل تک محدود نہیں رہیں۔ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاملات میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور محصولات (ٹیرف) سے متعلق تنازعات نے بھی ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ چونکہ امریکہ کینیڈا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اس لیے دوطرفہ تجارت میں کسی بھی قسم کی کمی یا رکاوٹ براہِ راست کینیڈین صنعتوں اور برآمدات کو متاثر کرتی ہے۔
تازہ معاشی اعداد و شمار کے مطابق کینیڈا کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 0.1 فیصد کم ہوئی، جبکہ اس سے قبل کی سہ ماہی میں بھی ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ مسلسل دو سہ ماہیوں تک معاشی سکڑاؤ کو اقتصادی اصطلاح میں کساد بازاری قرار دیا جاتا ہے، جس کے باعث ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
ماہرین کو امید تھی کہ معیشت دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی اور دوسری سہ ماہی میں خاطر خواہ بہتری دیکھنے کو ملے گی، لیکن نتائج توقعات کے برعکس سامنے آئے۔ معاشی سرگرمیوں کی رفتار کمزور رہی اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی شرح میں بھی کمی دیکھی گئی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی داخلی اور خارجی عوامل نے مل کر یہ صورتحال پیدا کی ہے۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سست روی، رہائشی منصوبوں کی رفتار میں کمی، کاروباری اداروں کی جانب سے نئے سرمایہ کاری منصوبوں میں احتیاط اور عالمی منڈیوں میں غیر یقینی حالات نے مجموعی معاشی نمو کو متاثر کیا ہے۔ اس کے اثرات روزگار، پیداوار اور صارفین کے اخراجات پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب کینیڈا میں گھریلو بچت کی شرح بھی کم ہو کر 3.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ برسوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام شہریوں کے اخراجات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا، جس کے باعث لوگ اپنی بچت استعمال کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
اقتصادی حلقوں کا خیال ہے کہ اگر عالمی توانائی بحران، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں کینیڈا سمیت دیگر ترقی یافتہ معیشتوں کو بھی مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عالمی سطح پر استحکام اور تجارتی روابط کی بحالی ہی معاشی بحالی کے لیے سب سے اہم عنصر ثابت ہو سکتی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

