ٹورنٹو: کینیڈا کے قومی ہنر مندی مقابلوں اسکلز کینیڈا نیشنل کمپیٹیشن میں ٹیم اونٹاریو نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر 38 تمغے حاصل کر لیے۔ دو روزہ مقابلوں کے اختتام پر منعقدہ تقریب میں اعلان کیا گیا کہ ٹیم اونٹاریو نے 16 طلائی، 15 چاندی اور 7 کانسی کے تمغے جیت کر ملک بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
یہ مقابلے 29 اور 30 مئی کو ٹورنٹو میں منعقد ہوئے، جہاں مختلف صوبوں اور علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں نے ہنر، ٹیکنالوجی اور فنی تعلیم کے مختلف شعبوں میں اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کیا۔ اسکلز کینیڈا نیشنل کمپیٹیشن کو ملک کا سب سے بڑا فنی اور پیشہ ورانہ مہارتوں کا مقابلہ سمجھا جاتا ہے، جس میں سیکنڈری اسکول، کالج اور پولی ٹیکنک اداروں کے طلبہ شرکت کرتے ہیں۔
مقابلوں کے دوران نوجوانوں نے تعمیرات، مکینیکل انجینئرنگ، آٹو باڈی ریپئر، کھانا پکانے، الیکٹرانکس، روبوٹکس، کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور دیگر متعدد شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ کیا۔ ماہرین کے مطابق ایسے مقابلے نوجوانوں کو عملی تجربہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اختتامی تقریب میں ٹیم اونٹاریو کے شرکاء کی کامیابیوں کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ منتظمین کے مطابق قومی سطح تک رسائی حاصل کرنا ہی ایک بڑا اعزاز ہے، جبکہ تمغے جیتنا ان نوجوانوں کی مسلسل محنت، لگن اور پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت ہے۔
اس موقع پر رائل بینک آف کینیڈا (RBC) کی جانب سے “آر بی سی بیسٹ آف ریجن ایوارڈ” بھی پیش کیا گیا، جو ہر صوبے اور علاقے کے بہترین مجموعی کارکردگی دکھانے والے مقابل کو دیا جاتا ہے۔ اونٹاریو کے لیے یہ اعزاز اووین گرفن کے نام رہا، جو ہیملٹن-وینٹ ورتھ ڈسٹرکٹ اسکول بورڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے سیکنڈری سطح کے مکینیکل سی اے ڈی (Mechanical CAD) مقابلے میں طلائی تمغہ حاصل کیا اور بہترین مجموعی اسکور کی بنیاد پر یہ خصوصی ایوارڈ اپنے نام کیا۔
اسکلز اونٹاریو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایان ہاؤکرافٹ نے کامیاب نوجوانوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ قومی سطح پر مقابلہ کرنا بذاتِ خود ایک بڑی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں نے اس مقام تک پہنچنے کے لیے سخت محنت کی اور اپنی فنی مہارتوں کو مسلسل بہتر بنایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اونٹاریو کا مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے کیونکہ یہ نوجوان نہ صرف خود کامیابی حاصل کر رہے ہیں بلکہ دوسرے نوجوانوں کو بھی ہنر مند پیشوں اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں آگے بڑھنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہی نوجوان مستقبل میں کینیڈا کی معیشت اور صنعت کی قیادت کریں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں ہنر مند کارکنوں کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر اس نوعیت کے مقابلے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ تعمیرات، مینوفیکچرنگ، روبوٹکس، انجینئرنگ اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت یافتہ افراد کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اور اسکلز کینیڈا جیسے پلیٹ فارم نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع فراہم کرتے ہیں۔
ٹیم اونٹاریو کی کامیابیوں کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ ستمبر 2026 میں ٹیم اونٹاریو کے چار نمایاں مقابلے باز ورلڈ اسکلز (WorldSkills) کے عالمی مقابلوں میں کینیڈا کی نمائندگی کریں گے۔ یہ عالمی مقابلے چین کے شہر شنگھائی میں منعقد ہوں گے، جہاں دنیا بھر کے بہترین ہنر مند نوجوان اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔
کینیڈا کی قومی ٹیم میں شامل ہونے والے اونٹاریو کے نوجوانوں میں ایتھن المیڈا شامل ہیں، جو سینٹینیل کالج سے تعلق رکھتے ہیں اور آٹو باڈی ریپئر کے شعبے میں مقابلہ کریں گے۔ اسی طرح لوکا اسد، جو جارج براؤن پولی ٹیکنک کے طالب علم ہیں، کھانا پکانے کے مقابلے میں کینیڈا کی نمائندگی کریں گے۔
اس کے علاوہ کول ہنٹر اور گرانٹ میڈاک، جو ہمبر پولی ٹیکنک سے وابستہ ہیں، میکاٹرونکس کے شعبے میں عالمی مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ میکاٹرونکس ایک جدید شعبہ ہے جس میں مکینیکل انجینئرنگ، الیکٹرانکس، کمپیوٹر سسٹمز اور آٹومیشن کو یکجا کیا جاتا ہے۔
تعلیمی اور صنعتی حلقوں نے ٹیم اونٹاریو کی کامیابی کو نوجوان نسل کی صلاحیتوں اور فنی تعلیم کے فروغ کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مقابلے نوجوانوں کو نہ صرف اعتماد فراہم کرتے ہیں بلکہ انہیں بین الاقوامی سطح پر اپنی مہارتیں منوانے کا موقع بھی دیتے ہیں۔ ٹیم اونٹاریو کی حالیہ کامیابی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبے کے نوجوان ہنر، ٹیکنالوجی اور جدت کے میدان میں روشن مستقبل کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

