کاروبار

بھارت اور کینیڈا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر مذاکرات تیز

📷 India–Canada Free Trade Agreement Talks Gain Momentum(Image:Credit to Akashwani)

دونوں ممالک نے ایف ٹی اے مذاکرات جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا

تک دوطرفہ تجارت کو 50 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف2030

نئی دہلی: بھارت اور کینیڈا کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (Free Trade Agreement – FTA) پر جاری مذاکرات کو مزید تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جبکہ دونوں ممالک نے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (Comprehensive Economic Partnership Agreement – CEPA) کو 2026 کے اختتام تک حتمی شکل دینے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔

بھارت کے مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے نئی دہلی میں انڈو-کینیڈین بزنس چیمبر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور کینیڈا آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات کو تیز رفتاری سے آگے بڑھائیں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کو کینیڈا کے ساتھ مختلف اہم شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات نظر آتے ہیں، جن میں اہم معدنیات (Critical Minerals)، صاف توانائی (Clean Energy)، جوہری توانائی (Nuclear Energy) اور عالمی سپلائی چین کو مزید متنوع بنانے جیسے شعبے شامل ہیں۔

جی-20 ملاقات میں اقتصادی تعاون پر اتفاق

پیوش گوئل نے بتایا کہ حال ہی میں جی-20 سربراہی اجلاس کے موقع پر بھارت کے وزیر اعظم اور کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اعلیٰ معیار کے جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (CEPA) پر مذاکرات شروع کرنے اور انہیں جلد از جلد مکمل کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی دونوں رہنماؤں نے 2030 تک دوطرفہ تجارت کو 50 ارب امریکی ڈالر تک پہنچانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

سرمایہ کاری اور تجارتی تعلقات میں نئی پیش رفت

مرکزی وزیر تجارت نے کہا کہ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری، برآمدات، درآمدات اور صنعتی تعاون کے لیے نئے دروازے کھولے گا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور کینیڈین سرمایہ کاروں کے لیے یہاں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کی معیشتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، اس لیے باہمی تعاون سے نہ صرف تجارت بڑھے گی بلکہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی کو بھی نئی رفتار ملے گی۔

اہم معدنیات اور صاف توانائی میں اشتراک

پیوش گوئل نے کہا کہ مستقبل کی عالمی معیشت میں اہم معدنیات، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں، صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، جبکہ کینیڈا ان شعبوں میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت ان شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور طویل المدتی شراکت داری کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی تعاون قائم کر سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی سپلائی چین میں آنے والی تبدیلیوں کے پیش نظر بھارت اور کینیڈا کے درمیان تعاون دونوں ممالک کے ساتھ ساتھ عالمی تجارت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوگا۔

کینیڈین سرمایہ کاروں کو بھارت آنے کی دعوت

پیوش گوئل نے کینیڈین صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو بھارت میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بھارت 2047 تک ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے قومی ہدف پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے، توانائی، مینوفیکچرنگ، زراعت، جدید ٹیکنالوجی، تعلیم اور دیگر کئی شعبوں میں کینیڈین سرمایہ کاروں کے لیے بہترین مواقع موجود ہیں۔

ان کے مطابق بھارت کی بڑی صارف منڈی، نوجوان افرادی قوت اور مسلسل ترقی کرتی معیشت عالمی سرمایہ کاروں کے لیے نہایت پرکشش ہے۔

2026 کے اختتام تک معاہدے کی تکمیل کی امید

حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک اس بات کے لیے پُرامید ہیں کہ آزاد تجارتی معاہدے سے متعلق مذاکرات 2026 کے اختتام تک مکمل کر لیے جائیں گے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان محصولات میں کمی، تجارت میں اضافہ، نئی سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔

ماہرین کے مطابق بھارت اور کینیڈا کے درمیان مجوزہ آزاد تجارتی معاہدہ دونوں معیشتوں کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے، جو نہ صرف دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی تجارتی منظرنامے میں بھی دونوں ممالک کی شراکت داری کو نئی جہت دے گا۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories