فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل میں مراکش سے مقابلہ، دونوں ٹیمیں تاریخ رقم کرنے کے بعد آمنے سامنے
کینیڈا کی قومی فٹ بال ٹیم ہفتہ کو فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل میں اپنے اب تک کے سب سے مضبوط حریف مراکش کے خلاف میدان میں اترے گی۔ دونوں ٹیموں نے اس عالمی ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کی ہے، تاہم اب دونوں میں سے صرف ایک ٹیم ہی کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کر سکے گی جبکہ دوسری ٹیم کا عالمی کپ کا سفر اختتام پذیر ہو جائے گا۔
کینیڈا نے اس مرتبہ میزبان ملک ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی بہترین کارکردگی کے ذریعے عالمی فٹ بال میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب مراکش نے نہ صرف اپنی فتوحات کا سلسلہ برقرار رکھا بلکہ افریقی فٹ بال کی تاریخ میں کئی نئے ریکارڈ بھی اپنے نام کیے ہیں۔
مراکش کی ناقابلِ شکست کارکردگی
فیفا کی تازہ عالمی درجہ بندی میں چھٹے نمبر پر موجود مراکش اس وقت مسلسل 33 بین الاقوامی میچز جیتنے کا شاندار ریکارڈ اپنے نام کر چکا ہے۔ ورلڈ کپ 2026 میں بھی مراکش نے انتہائی متوازن اور جارحانہ کھیل پیش کرتے ہوئے خود کو ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں شامل کر لیا ہے۔
اس عالمی کپ کے دوران مراکش افریقہ کی جانب سے ورلڈ کپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ گول کرنے والی ٹیم بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ اس نے آٹھ فتوحات کے ساتھ ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ کامیاب افریقی ٹیم ہونے کا اعزاز بھی حاصل کر لیا ہے۔
گروپ سی سے ناک آؤٹ مرحلے میں رسائی حاصل کرنا بھی مراکش کے لیے ایک تاریخی کامیابی رہی، کیونکہ یہ صرف تیسرا موقع ہے جب کسی افریقی ملک نے فیفا ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی ہے۔
2022 کی شکست کا حساب چکانے کا موقع
کینیڈا اور مراکش کی آخری ملاقات فیفا ورلڈ کپ 2022 کے گروپ مرحلے میں یکم دسمبر 2022 کو قطر کے شہر دوحہ میں ہوئی تھی، جہاں مراکش نے کینیڈا کو 2-1 سے شکست دی تھی۔
اس شکست کے بعد اب کینیڈا کے پاس نہ صرف اگلے مرحلے میں رسائی کا سنہری موقع ہے بلکہ وہ چار برس قبل ہونے والی اس شکست کا بدلہ لینے کی بھی کوشش کرے گا۔
فٹ بال ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ کینیڈا پہلے سے کہیں زیادہ منظم، پراعتماد اور مضبوط ٹیم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے باعث یہ مقابلہ گزشتہ ملاقات کے مقابلے میں کہیں زیادہ دلچسپ اور سخت ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
جیسے مارش نے مراکش کی طاقت کا اعتراف کیا
کینیڈا کے ہیڈ کوچ جیسے مارش نے مراکش کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ٹیم کے خلاف حکمت عملی تیار کرنا کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مراکش اس وقت غیرمعمولی فارم میں ہے اور اس کی کارکردگی دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ہر شعبے میں انتہائی مضبوط ٹیم ہے۔
مارش نے کہا کہ:
“مراکش کو کھیلتے دیکھنا ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی خوفناک خواب ہو۔ وہ اتنی اچھی ٹیم ہے کہ بعض اوقات دل ہی نہیں چاہتا کہ ان کے میچ دیکھے جائیں۔”
ان کے مطابق مراکش دفاع، مڈفیلڈ اور حملے تینوں شعبوں میں انتہائی متوازن ٹیم ہے، جس کے باعث کینیڈا کے لیے یہ مقابلہ اب تک کا سب سے بڑا امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
کینیڈا کو کمزور سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے
اگرچہ مراکش کو اس مقابلے میں فیورٹ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم جیسے مارش نے واضح کیا کہ ان کی ٹیم خود کو کسی بھی صورت کمزور نہیں سمجھتی۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے محض خوش قسمتی کے باعث ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کی بلکہ اپنی محنت، نظم و ضبط اور اجتماعی کھیل کے ذریعے یہاں تک پہنچا ہے۔
مارش کا کہنا تھا کہ دنیا شاید کینیڈا کو اس میچ میں کمزور سمجھے، لیکن یہی چیز ان کے لیے ایک بڑا موقع بھی بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم کی توجہ صرف اس بات پر مرکوز ہے کہ وہ اپنی زندگی کی بہترین کارکردگی پیش کرے تاکہ ورلڈ کپ میں مزید آگے بڑھنے کا خواب حقیقت میں بدل سکے۔
تاریخی مقابلے پر دنیا کی نظریں
کینیڈا اور مراکش کے درمیان ہونے والا یہ مقابلہ ورلڈ کپ 2026 کے سب سے دلچسپ ناک آؤٹ میچز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف افریقہ کی تاریخ رقم کرنے والی مراکش کی ٹیم ہے، جبکہ دوسری جانب میزبان کینیڈا اپنے شائقین کے سامنے نئی تاریخ لکھنے کے لیے بے تاب دکھائی دے رہا ہے۔
دونوں ٹیموں کی حالیہ فارم، مضبوط دفاعی حکمت عملی اور تیز رفتار حملہ آور انداز کو دیکھتے ہوئے ماہرین ایک سخت اور سنسنی خیز مقابلے کی توقع کر رہے ہیں۔
اگر کینیڈا اس میچ میں کامیابی حاصل کرتا ہے تو وہ پہلی مرتبہ فیفا ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں جگہ بنائے گا، جبکہ مراکش اپنی مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ برقرار رکھتے ہوئے ایک اور تاریخی سنگ میل عبور کرنے کی کوشش کرے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

