وفاقی حکومت کی نئی تجویز، دیہی علاقوں میں گوشت کی فراہمی بہتر بنانے اور خوراکی تحفظ مضبوط کرنے پر زور
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک میں خوراکی تحفظ کو مزید مستحکم بنانے اور سرخ گوشت کی بین الصوبائی تجارت میں حائل رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی (CFIA) نے سیف فوڈ فار کینیڈینز ریگولیشنز (SFCR) میں مخصوص اور عارضی ترامیم کی تجویز پیش کی ہے، جن کے ذریعے ایسے علاقوں میں گوشت کی بین الصوبائی نقل و حمل کو آسان بنایا جائے گا جہاں ذبح کرنے کی سہولیات ناکافی ہیں۔
یہ اقدام حکومت کی قومی غذائی تحفظ حکمت عملی (National Food Security Strategy) کا حصہ ہے، جس کا مقصد مقامی سطح پر تیار ہونے والے سستے اور معیاری گوشت کی دستیابی کو بڑھانا، خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانا اور ملکی غذائی نظام کو زیادہ مضبوط اور پائیدار بنانا ہے۔
ذبح کرنے کی محدود سہولیات کا مسئلہ حل کرنے کی کوشش
وفاقی حکومت کے مطابق کینیڈا کے کئی دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں چھوٹے مویشی پالنے والے کسانوں کو اپنے صوبے کے اندر مناسب ذبح خانے دستیاب نہیں ہوتے، جس کے باعث انہیں طویل فاصلے طے کر کے جانور ذبح کروانے پڑتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ مقامی کاروبار بھی متاثر ہوتا ہے۔
مجوزہ ترامیم کے تحت، اگر کسی صوبے میں ذبح کرنے کی صلاحیت ناکافی ہو تو کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی مخصوص حالات میں محدود مقدار میں سرخ گوشت کو دوسرے صوبے میں منتقل کرنے اور فروخت کرنے کی عارضی اجازت دے سکے گی، بشرطیکہ متعلقہ صوبائی حکومتیں اس کی منظوری دیں اور خوراک کے معیار کی نگرانی جاری رکھیں۔
خوراکی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ مجوزہ تبدیلیوں کے باوجود خوراکی تحفظ کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق یہ رعایت صرف محدود مقدار میں گوشت کے لیے ہوگی اور اس میں مکمل ٹریس ایبلٹی یعنی گوشت کے ماخذ اور نقل و حمل کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ گوشت کی تجارت میں شامل دونوں صوبوں کو خوراک کے معیار، صفائی اور حفاظتی اصولوں کی نگرانی کرنا لازمی ہوگا تاکہ صارفین کو محفوظ اور معیاری خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
وفاقی حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے کینیڈا کی بین الاقوامی تجارتی ساکھ یا برآمدی نظام پر بھی کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
چھوٹے کسانوں اور کاروباروں کو ہوگا فائدہ
حکومت کے مطابق مجوزہ ترامیم سے سب سے زیادہ فائدہ چھوٹے پیمانے پر مویشی پالنے والے کسانوں اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے ذبح خانوں کو ہوگا۔
اس وقت بہت سے کسان صرف اس وجہ سے اپنی پیداوار کو دوسرے صوبوں میں فروخت نہیں کر سکتے کیونکہ وہ وفاقی لائسنس یافتہ ذبح خانوں تک رسائی نہیں رکھتے۔ نئی تجویز کے تحت وہ قریبی صوبوں میں اپنی مصنوعات فروخت کر سکیں گے، جس سے ان کے لیے نئی منڈیاں کھلیں گی اور کاروبار میں وسعت آئے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے کسانوں کے سفری اخراجات میں بھی نمایاں کمی آئے گی اور ان کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی۔
ذبح خانوں کے لیے بھی نئے مواقع
وفاقی حکومت کے مطابق صوبائی سطح پر کام کرنے والے چھوٹے ذبح خانے بھی اس اقدام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہیں محدود مدت کے لیے دوسرے صوبوں میں گوشت فروخت کرنے کا موقع ملے گا، جس کے ذریعے وہ اپنی کاروباری صلاحیت کا جائزہ لے سکیں گے۔
اس دوران کینیڈین فوڈ انسپیکشن ایجنسی ان اداروں کی رہنمائی بھی کرے گی تاکہ اگر وہ مستقبل میں وفاقی لائسنس حاصل کرنا چاہیں تو اس کے لیے بہتر تیاری کر سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے مقامی ذبح خانوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ اپنی خدمات کو مزید وسعت دینے کے قابل ہوں گے۔
غیر ضروری ضابطوں میں نرمی کی تجویز
مجوزہ ترامیم میں صرف بین الصوبائی تجارت ہی شامل نہیں بلکہ بعض ایسے ضابطوں میں بھی نرمی کی تجویز دی گئی ہے جو کاروباری اداروں کے لیے غیر ضروری رکاوٹ بن رہے تھے۔
حکومت کے مطابق مسلسل جاری رہنے والی بعض سرگرمیوں کے لیے کام کے اوقات سے متعلق غیر ارادی تقاضوں کو ختم کیا جائے گا، جبکہ سیف فوڈ فار کینیڈینز ریگولیشنز کی بعض شقوں کو مزید واضح بنایا جائے گا تاکہ کاروباری ادارے انہیں بہتر انداز میں سمجھ سکیں اور ان پر عمل درآمد آسان ہو۔
خوراکی تحفظ اور اندرونی تجارت کو فروغ دینے کی حکمت عملی
وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صوبائی اور وفاقی وزرائے زراعت کے اس مشترکہ عزم کا حصہ ہے جس کے تحت کینیڈا میں اندرونی تجارت کو فروغ دینے، مقامی خوراک کی فراہمی مضبوط بنانے اور کسانوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق اگر یہ تجاویز منظور ہو جاتی ہیں تو نہ صرف چھوٹے کاروباروں کو فروغ ملے گا بلکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی مقامی سطح پر تیار ہونے والا معیاری گوشت نسبتاً آسانی سے دستیاب ہوگا، جس سے کینیڈا کے غذائی نظام کو مزید مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

