ایکواڈور کو 2-0 سے شکست، ناک آؤٹ مرحلے میں شاندار کامیابی
میکسیکو کی تاریخی فتح، 40 سالہ انتظار ختم
میکسیکو سٹی: فیفا ورلڈ کپ 2026 میں میزبان ملک میکسیکو نے اپنے شائقین کو ایک یادگار لمحہ دیتے ہوئے 40 برس بعد ناک آؤٹ مرحلے میں فتح حاصل کر لی۔ راؤنڈ آف 32 کے اہم مقابلے میں میکسیکو نے ایکواڈور کو 2-0 سے شکست دے کر نہ صرف پری کوارٹر فائنل (راؤنڈ آف 16) میں جگہ بنا لی بلکہ چار دہائیوں سے جاری ناک آؤٹ مرحلے کی ناکامیوں کا سلسلہ بھی توڑ دیا۔
یہ کامیابی میکسیکو کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ آخری مرتبہ اس نے 1986 کے فیفا ورلڈ کپ میں بلغاریہ کو 2-0 سے شکست دے کر ناک آؤٹ مرحلے کا میچ جیتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ مقابلہ بھی میکسیکو سٹی اسٹیڈیم میں ہی کھیلا گیا تھا، جہاں اس بار بھی تاریخ دہرائی گئی۔
چار دہائیوں بعد تاریخ دہرائی گئی
1986 کے بعد میکسیکو ہر ورلڈ کپ میں ناک آؤٹ مرحلے تک تو پہنچا، مگر ہر مرتبہ اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ 1994، 2002، 2006، 2010، 2014، 2018 اور 2022 کے عالمی کپ میں میکسیکو کی ٹیم ابتدائی ناک آؤٹ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔
اس طویل انتظار نے نہ صرف ٹیم بلکہ لاکھوں شائقین کو بھی مایوس کیا، تاہم 2026 میں اپنی سرزمین پر کھیلتے ہوئے میکسیکو نے آخرکار اس بدقسمت روایت کا خاتمہ کر دیا۔
کوچ جاویئر اگیری کے لیے بھی یادگار لمحہ
اس کامیابی نے میکسیکو کے موجودہ ہیڈ کوچ جاویئر اگیری کے لیے بھی ایک خاص یادگار لمحہ پیدا کر دیا۔ 1986 کے ورلڈ کپ میں جب میکسیکو نے بلغاریہ کو شکست دی تھی، اس وقت جاویئر اگیری خود ٹیم کے مڈفیلڈر کی حیثیت سے میدان میں موجود تھے۔
اب تقریباً چار دہائیوں بعد انہوں نے بطور کوچ اپنی ٹیم کو ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی دلوا کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ میچ کے بعد انہوں نے اس کامیابی کو پورے ملک اور میکسیکو کے عوام کے نام کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک جیت نہیں بلکہ برسوں کے انتظار کا اختتام ہے۔
کوئنونیس نے برتری دلائی
مقابلے کے آغاز سے ہی میکسیکو نے جارحانہ انداز اپنایا اور مسلسل ایکواڈور کے دفاع پر دباؤ برقرار رکھا۔ میچ کے 22ویں منٹ میں فارورڈ جولیان کوئنونیس نے خوبصورت موو مکمل کرتے ہوئے گیند کو جال میں پہنچا دیا اور اپنی ٹیم کو 1-0 کی برتری دلا دی۔
اس گول کے بعد میکسیکو کے کھلاڑیوں کا اعتماد مزید بڑھ گیا جبکہ ایکواڈور کی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔
راؤل خیمنیز نے فتح یقینی بنائی
پہلا گول کرنے کے صرف نو منٹ بعد میکسیکو نے اپنی برتری دگنی کر دی۔ 31ویں منٹ میں تجربہ کار اسٹرائیکر راؤل خیمنیز نے شاندار فنش کے ذریعے دوسرا گول اسکور کیا، جس کے بعد اسکور 2-0 ہو گیا۔
دوسرے ہاف میں ایکواڈور نے واپسی کی بھرپور کوشش کی، لیکن میکسیکو کے مضبوط دفاع اور منظم کھیل کے باعث وہ کوئی گول نہ کر سکا۔ میکسیکو نے آخر تک اپنی برتری برقرار رکھتے ہوئے یادگار فتح اپنے نام کر لی۔
دونوں فارورڈز بنے میچ کے ہیرو
جولیان کوئنونیس اور راؤل خیمنیز نے نہ صرف گول اسکور کیے بلکہ پورے میچ کے دوران شاندار کھیل پیش کیا۔ دونوں کھلاڑیوں کی بہترین کارکردگی نے میکسیکو کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا اور شائقین نے انہیں بھرپور داد دی۔
ماہرین کے مطابق میزبان ٹیم نے دفاع اور حملے دونوں شعبوں میں متوازن کھیل پیش کیا، جس کی بدولت وہ ایکواڈور کو کسی بھی مرحلے پر میچ میں واپس آنے کا موقع نہیں دے سکی۔
راؤنڈ آف 16 میں سخت امتحان
اس کامیابی کے ساتھ میکسیکو نے راؤنڈ آف 16 میں اپنی جگہ یقینی بنا لی ہے، جہاں اس کا مقابلہ انگلینڈ اور ڈی آر کانگو کے درمیان ہونے والے میچ کی فاتح ٹیم سے ہوگا۔
فٹبال ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر میکسیکو اپنی موجودہ فارم برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تو وہ اس مرتبہ ورلڈ کپ میں مزید آگے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اگلا مقابلہ کہیں زیادہ سخت ہوگا، کیونکہ ممکنہ طور پر اسے مضبوط یورپی ٹیم انگلینڈ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شائقین میں جشن کا ماحول
میکسیکو کی تاریخی فتح کے بعد میکسیکو سٹی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں شائقین نے جشن منایا۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے آخری سیٹی بجتے ہی قومی پرچم لہرا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی میکسیکو کی اس کامیابی کو چار دہائیوں کے انتظار کے خاتمے کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔
یہ فتح صرف ایک میچ کی کامیابی نہیں بلکہ میکسیکو کی فٹبال تاریخ کا ایک اہم سنگ میل سمجھی جا رہی ہے۔ اب پوری قوم کی نظریں راؤنڈ آف 16 پر مرکوز ہیں، جہاں شائقین کو امید ہے کہ ان کی ٹیم اس تاریخی مہم کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے عالمی اعزاز کی دوڑ میں اپنی مضبوط موجودگی برقرار رکھے گی۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

