کینیڈا

کینیڈا میں آنکھوں کی دیکھ بھال کے لیے پہلی قومی حکمتِ عملی پارلیمنٹ میں پیش

📷 Canada’s First National Strategy for Eye Care Tabled in Parliament

کینیڈا میں آنکھوں کی دیکھ بھال کے لیے پہلی قومی حکمتِ عملی پارلیمنٹ میں پیش

اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ملک بھر میں آنکھوں کی صحت اور بینائی کے تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے اپنی نوعیت کی پہلی قومی حکمتِ عملی برائے آنکھوں کی دیکھ بھال (National Strategy for Eye Care) پارلیمنٹ میں پیش کر دی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی کا مقصد آنکھوں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص، بینائی سے محرومی کی روک تھام، علاج تک رسائی میں بہتری اور نابینا یا جزوی طور پر بینائی سے محروم افراد کے لیے معاونت کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

3 جون کو کینیڈا کی وزیر صحت مارجوری مشیل نے پارلیمنٹ میں اس قومی حکمتِ عملی کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اچھی بینائی اور آنکھوں کی صحت مجموعی صحت کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کے مطابق اگر بینائی کے مسائل کو بروقت روکا یا مؤثر طریقے سے سنبھالا جائے تو افراد نہ صرف زیادہ صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں بلکہ معاشرتی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وفاقی حکومت کے مطابق یہ پہلی بار ہے کہ کینیڈا میں تمام سطحوں کی حکومتوں، صحت کے اداروں، ماہرین اور متعلقہ شراکت داروں کے لیے ایک مشترکہ قومی منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کا مقصد آنکھوں کی دیکھ بھال کے نظام کو مزید مؤثر اور عوام کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔

حکمتِ عملی کی تیاری کے دوران صوبائی اور علاقائی حکومتوں، مقامی و دیسی شراکت داروں، بینائی سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے افراد، طبی ماہرین اور مختلف صحتی تنظیموں سے مشاورت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں خاص طور پر ان بڑھتے ہوئے چیلنجز کو مدنظر رکھا گیا ہے جو کینیڈا کی عمر رسیدہ ہوتی آبادی اور دائمی بیماریوں میں اضافے کے باعث پیدا ہو رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق اس وقت لاکھوں کینیڈین ایسے ہیں جو آنکھوں کی قابلِ علاج یا قابلِ روک تھام بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے بہت سے افراد بروقت تشخیص، مناسب علاج یا ماہرین تک رسائی میں مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قومی حکمتِ عملی میں آنکھوں کی صحت سے متعلق آگاہی بڑھانے، خدمات تک رسائی کو آسان بنانے اور جدید طبی سہولیات کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے پر زور دیا گیا ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق اس حکمتِ عملی کے اہم مقاصد میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا، آنکھوں کی بیماریوں کے بارے میں عوامی شعور میں اضافہ کرنا، آنکھوں کے معائنے اور علاج تک رسائی بہتر بنانا، صحت سے متعلق اعداد و شمار کے استعمال کو وسعت دینا اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا شامل ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت، ٹیلی میڈیسن اور دیگر جدید طبی ٹیکنالوجیز کے ذریعے آنکھوں کی بیماریوں کی تشخیص اور علاج کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا، جس سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کو بھی بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر صحت مارجوری مشیل نے حکمتِ عملی پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ آنکھوں کی صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے ایک واضح وژن اور مشترکہ راستہ فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت چاہتی ہے کہ ملک بھر کے تمام شراکت دار اپنی مقامی ضروریات کے مطابق اس حکمتِ عملی کو اپنائیں تاکہ ہر کمیونٹی میں آنکھوں کی صحت کے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ آنکھوں کی صحت کے مسائل صرف طبی چیلنج نہیں بلکہ معاشی اور سماجی اثرات بھی رکھتے ہیں۔ اگر بینائی کی خرابی یا نابینائی کی بروقت روک تھام کی جائے تو صحت کے نظام پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے اور سماجی خدمات کے اخراجات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

پارلیمنٹ کی رکن جوڈی اے سگرو نے بھی قومی حکمتِ عملی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ آنکھوں کی صحت کو ترجیح دینا لاکھوں کینیڈین شہریوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق بینائی سے محرومی کی روک تھام، آسان اور قابلِ رسائی خدمات کی فراہمی اور ثقافتی طور پر محفوظ طبی نگہداشت اس حکمتِ عملی کے اہم ستون ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف بینائی سے محروم یا کم بینائی والے افراد کی مدد کرے گا بلکہ مجموعی صحت کے نظام پر پڑنے والے دباؤ کو بھی کم کرے گا۔ ان کے مطابق حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن کا مرکز عوام کی فلاح اور بہتر صحتی خدمات ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ کینیڈا میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھنے کے ساتھ ساتھ موتیا، گلوکوما، ذیابیطس سے متعلق آنکھوں کی بیماریوں اور عمر کے ساتھ پیدا ہونے والے بینائی کے مسائل میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ ایسے میں ایک جامع قومی حکمتِ عملی کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔

طبی ماہرین کے مطابق اگر آنکھوں کی بیماریوں کی بروقت تشخیص اور علاج کو ترجیح دی جائے تو بینائی سے محرومی کے متعدد کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عوامی آگاہی مہمات لوگوں کو باقاعدہ آنکھوں کے معائنے کی اہمیت سے بھی آگاہ کریں گی۔

وفاقی حکومت نے واضح کیا ہے کہ قومی حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ایک ایسا نظام تشکیل دینا ہے جو تمام کینیڈین شہریوں کے لیے مساوی، جامع، قابلِ رسائی اور ثقافتی طور پر محفوظ خدمات فراہم کرے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف آنکھوں کی بیماریوں کی روک تھام کو فروغ ملے گا بلکہ نابینا اور جزوی طور پر بینائی سے محروم افراد کے لیے معاونت اور سہولتوں میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

حکام کے مطابق آنے والے برسوں میں اس حکمتِ عملی کے تحت مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جائیں گے تاکہ آنکھوں کی صحت کے شعبے میں درپیش موجودہ اور مستقبل کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے اور تمام کینیڈین شہری بہتر بینائی اور بہتر معیارِ زندگی سے مستفید ہو سکیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories