کینیڈا میں پرائیویسی قوانین میں بڑی اصلاحات کا بل پیش، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے استعمال پر سخت نگرانی کی تجویز
اوٹاوا : کینیڈا کی وفاقی حکومت نے نجی شعبے میں ڈیٹا اور پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق قوانین میں بڑی اصلاحات کے لیے ایک اہم بل پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کا مقصد کینیڈین شہریوں کو ان کے ذاتی ڈیٹا پر زیادہ اختیار دینا، مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ضابطے میں لانا اور کمپنیوں کو صارفین کی معلومات کے غلط استعمال سے روکنا ہے۔
حکومت کے مطابق موجودہ پرائیویسی قوانین تقریباً پچیس سال پرانے ہیں اور ایسے دور میں بنائے گئے تھے جب نہ اسمارٹ فونز موجود تھے، نہ مصنوعی ذہانت اور نہ ہی ڈیجیٹل دنیا کی موجودہ پیچیدگیاں۔ اسی وجہ سے حکومت نے قانون کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے نئے ضوابط متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے وزیر ایون سولومن نے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کینیڈا کے قوانین کو بھی اس تبدیلی کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کی نجی معلومات کا تحفظ ایک بنیادی حق ہے اور نئی قانون سازی اسی اصول کو مضبوط بنائے گی۔
بچوں کے ڈیٹا کو خصوصی تحفظ حاصل ہوگا
نئے بل کے تحت بچوں کے تمام ذاتی ڈیٹا کو “حساس معلومات” قرار دیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنیوں کو بچوں کی معلومات جمع کرنے، محفوظ رکھنے یا شیئر کرنے کے لیے مزید سخت اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ اسی لیے بچوں کی معلومات کے استعمال پر خصوصی نگرانی رکھی جائے گی۔
شہریوں کو اپنا ڈیٹا حذف کرانے کا حق
مجوزہ قانون کے مطابق کینیڈین شہریوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی نجی کمپنی سے تحریری درخواست کے ذریعے اپنے ذاتی ڈیٹا کو حذف کرنے کا مطالبہ کر سکیں۔
اگر کسی فرد کو محسوس ہو کہ اس کی معلومات غیر مناسب طریقے سے حاصل کی گئی ہیں یا وہ پہلے دی گئی رضامندی واپس لینا چاہتا ہے تو کمپنی کو اس درخواست پر غور کرنا ہوگا۔
تاہم بعض مخصوص حالات میں کمپنی درخواست مسترد بھی کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر ڈیٹا حذف کرنے سے ادارے کو ایسا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو جو صارف کو ہونے والے ممکنہ نقصان سے زیادہ ہو۔
کمپنیوں کے لیے واضح رضامندی لازمی
نئے قانون کے تحت کمپنیوں کو صارفین کی معلومات جمع کرنے، استعمال کرنے یا شیئر کرنے سے قبل واضح رضامندی حاصل کرنا ہوگی۔
اس مقصد کے لیے اداروں کو اپنی پرائیویسی پالیسی سادہ اور عام فہم زبان میں پیش کرنا ہوگی تاکہ صارفین آسانی سے سمجھ سکیں کہ ان کا ڈیٹا کس مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ پیچیدہ قانونی اصطلاحات اور غیر واضح شرائط کے ذریعے صارفین کی رضامندی حاصل کرنے کا طریقہ اب قابل قبول نہیں ہوگا۔
الگورتھمک اور نگرانی پر مبنی قیمتوں کی جانچ
اگرچہ بل میں “مصنوعی ذہانت” یا “سرویلنس پرائسنگ” کی اصطلاحات براہ راست شامل نہیں کی گئیں، تاہم حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ قانون منظور ہونے کے بعد اس حوالے سے خصوصی ضوابط متعارف کرائے جائیں گے۔
سرویلنس پرائسنگ سے مراد وہ طریقہ ہے جس میں کمپنیوں کی جانب سے صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی بنیاد پر مختلف افراد سے مختلف قیمتیں وصول کی جاتی ہیں۔
وزیر ایون سولومن نے کہا کہ صارفین کے ڈیٹا کو ناجائز منافع خوری یا غیر منصفانہ قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، البتہ رعایتی پروگراموں، پوائنٹس سسٹم اور وفاداری پروگراموں جیسے جائز مقاصد کے لیے ڈیٹا کا استعمال جاری رکھا جا سکتا ہے۔
نیا وفاقی ریگولیٹر قائم کرنے کی تجویز
بل کے تحت ایک نیا وفاقی نگران ادارہ قائم کیا جائے گا جو نہ صرف آن لائن تحفظ بلکہ صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کی نگرانی بھی کرے گا۔
یہ ادارہ کمپنیوں کے خلاف شکایات وصول کرے گا، تحقیقات کر سکے گا اور قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار رکھے گا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کے ذریعے شہریوں کو ایک ہی ادارے سے مدد حاصل ہوگی، خواہ معاملہ آن لائن تحفظ کا ہو یا ذاتی معلومات کے غلط استعمال کا۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ نیا ریگولیٹر صرف عوامی شکایات کا انتظار نہیں کرے گا بلکہ خود بھی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات شروع کرنے کا اختیار رکھے گا۔
خلاف ورزی پر کروڑوں ڈالر جرمانے
مجوزہ قانون کے مطابق اگر کوئی کمپنی صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس پر بھاری مالی جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں کمپنی کو زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ ڈالر یا اس کی عالمی سالانہ آمدنی کے تین فیصد کے برابر جرمانہ ادا کرنا پڑ سکتا ہے، اور دونوں میں سے جو رقم زیادہ ہوگی وہ لاگو کی جائے گی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ سخت جرمانوں کے ذریعے کمپنیوں کو صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے پر مجبور کیا جا سکے گا۔
ماہرین کے تحفظات
اگرچہ ماہرین نے اس بل کو کینیڈین شہریوں کی پرائیویسی کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، تاہم بعض قانونی ماہرین نے نئے ریگولیٹری ادارے کے قیام پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔
اوٹاوا یونیورسٹی کے قانون دان فلورین مارٹن-باریٹو کے مطابق کینیڈا کے پاس پہلے ہی ایک مؤثر پرائیویسی کمشنر موجود تھا جسے صرف مزید اختیارات دینے کی ضرورت تھی۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے ادارے کی تشکیل، عملے کی بھرتی اور نظام کی تعمیر میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جس سے قانون کے مؤثر نفاذ میں تاخیر کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دور کے چیلنجز سے نمٹنے کی کوشش
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
حکام کے مطابق نئی قانون سازی کا مقصد جدت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ صارفین کی نجی معلومات، آزادی اور اعتماد کا بھی مکمل تحفظ کیا جا سکے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

