کاروبار

مجوزہ امریکی جبری مشقت ٹیرف کینیڈا کے لیے حیران کن نہیں: مارک کارنی

📷 Proposed US forced labor tariff not surprising to Canada, Mark Carney

مجوزہ امریکی جبری مشقت ٹیرف کینیڈا کے لیے حیران کن نہیں، مارک کارنی

اوٹاوا: کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے جبری مشقت (Forced Labour) سے متعلق درآمدی پابندیوں کے نفاذ میں ناکامی کے الزام کے تحت تجویز کردہ نئے ٹیرف کینیڈا کے لیے کوئی غیر متوقع پیش رفت نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ گزشتہ کئی ماہ سے اس حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی تھی، اس لیے اوٹاوا اس اقدام سے پہلے ہی آگاہ تھا۔

بدھ کے روز امریکی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ دنیا کے متعدد اہم تجارتی شراکت داروں کی مصنوعات پر اضافی 10 فیصد یا اس سے زیادہ ٹیرف عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ان ممالک میں کینیڈا بھی شامل ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے (U.S. Trade Representative) کی جانب سے جاری رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بعض ممالک مبینہ طور پر جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی کے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں، جس کے باعث ان کے خلاف اضافی تجارتی اقدامات ضروری ہیں۔

اس حوالے سے اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا:

“This is not a surprise.”

انہوں نے مزید کہا:

“It’s something that the U.S. has been planning for a few months.”

وزیراعظم کے مطابق کینیڈا امریکی اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا اور واشنگٹن کی جانب سے ایسے فیصلے کا امکان پہلے ہی موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنی تجارتی پالیسیوں اور بین الاقوامی معاہدوں کے تحت اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا، میکسیکو، تائیوان اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کو 10 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان ممالک نے جبری مشقت سے وابستہ درآمدات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے، جس کے نتیجے میں امریکی مارکیٹ میں ایسی مصنوعات کی رسائی کا خدشہ برقرار ہے۔

تاہم وزیراعظم مارک کارنی نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ ٹیرف کے باوجود کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ (CUSMA) بدستور برقرار رہے گا اور اس معاہدے کے تحت آنے والی مصنوعات کو استثنیٰ حاصل ہوگا۔

کارنی نے کہا:

“That puts us in a position where, again, we would still have the best trade deal of any of the U.S. trade counterparts.”

ان کے مطابق CUSMA کی موجودگی کینیڈا کو دیگر تجارتی شراکت داروں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئے ٹیرف نافذ بھی ہوتے ہیں تو معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات پر ان کا اطلاق نہیں ہوگا، جس سے کینیڈا کی برآمدی صنعت کو نسبتاً کم نقصان پہنچنے کی توقع ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ CUSMA شمالی امریکہ کے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کی بنیاد ہے اور یہی وجہ ہے کہ کینیڈا امریکی تجارتی پالیسیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کے باوجود اپنی مسابقتی حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔

وزیراعظم مارک کارنی نے اس موقع پر یہ بھی واضح کیا کہ کینیڈا اصولی طور پر جبری مشقت کے خاتمے کے مقصد کی حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی سپلائی چین میں شفافیت کو یقینی بنانا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا:

“Canada also supports the objective behind the new tariffs.”

کارنی کے مطابق کینیڈا عالمی تجارت میں ایسے اقدامات کا حامی ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ اور جبری مشقت کے خاتمے کو فروغ دیں، تاہم ان پالیسیوں کے نفاذ میں بین الاقوامی تجارتی معاہدوں اور شراکت داریوں کا بھی خیال رکھا جانا چاہیے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے تجویز کردہ نئے ٹیرف عالمی تجارتی تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کی بڑی معیشتیں سپلائی چین، تجارتی تحفظ پسندی اور اقتصادی سست روی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ ٹیرف نافذ ہو جاتے ہیں تو بعض شعبوں میں برآمدی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم CUSMA کے تحت حاصل استثنیٰ کینیڈا کے لیے ایک اہم حفاظتی ڈھال ثابت ہو سکتا ہے۔

سیاسی اور اقتصادی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں واشنگٹن اور اوٹاوا کے درمیان اس معاملے پر مزید مشاورت متوقع ہے، جبکہ کاروباری حلقے بھی اس پیش رفت کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ فی الحال کینیڈین حکومت کا مؤقف یہی ہے کہ امریکی اعلان غیر متوقع نہیں تھا اور کینیڈا موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories