امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں پر نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں
خام تیل 87 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات عالمی مالیاتی اور توانائی کی منڈیوں پر نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں۔ جمعے کے روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ دنیا بھر کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان دیکھنے میں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل کو لاحق خدشات نے سرمایہ کاروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں تیزی اور حصص بازاروں میں دباؤ بڑھ گیا ہے۔
برینٹ اور امریکی خام تیل میں نمایاں اضافہ
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت 87.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ سطح گزشتہ کئی ماہ کے دوران بلند ترین شمار کی جا رہی ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت تقریباً 4 فیصد اضافے کے بعد 82.09 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
مربان خام تیل اور ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تیل کی پوری عالمی منڈی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے اثرات سے متاثر ہو رہی ہے۔
توانائی کے شعبے میں قیمتوں کی مجموعی لہر
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف خام تیل تک محدود نہیں رہے بلکہ دیگر توانائی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔
امریکی گیسولین فیوچرز میں تقریباً 4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ یورپی قدرتی گیس کے بینچ مارک ڈچ ٹی ٹی ایف میں بھی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔
امریکی نیچرل گیس اور ایشیائی ایل این جی مارکیٹ میں بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی اہمیت نے خدشات بڑھا دیے
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی تقریباً 20 فیصد تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے۔
اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھتی ہے یا اس راستے پر جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں، جس کے عالمی معیشت پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔
عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی
تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافے کے بعد سرمایہ کاروں نے خطرات سے بچنے کے لیے حصص بازاروں سے سرمایہ نکالنا شروع کر دیا، جس کے نتیجے میں امریکا، یورپ اور ایشیا کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں گراوٹ دیکھی گئی۔
امریکا میں وال اسٹریٹ کا آغاز منفی رجحان کے ساتھ ہوا، جہاں ایس اینڈ پی 500، ناسڈیک اور ڈاؤ جونز انڈیکسز دباؤ کا شکار رہے۔
ٹیکنالوجی اور گروتھ اسٹاکس میں سب سے زیادہ فروخت دیکھی گئی، جبکہ توانائی کمپنیوں کے حصص نسبتاً بہتر کارکردگی دکھاتے رہے کیونکہ تیل کی بلند قیمتیں ان کے منافع میں اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔
یورپ اور ایشیا کی منڈیاں بھی متاثر
یورپ میں جرمنی کے ڈیکس اور فرانس کے کیک 40 انڈیکس میں کمی دیکھی گئی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں یورپی معیشت کی سست رفتار بحالی کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 نسبتاً بہتر پوزیشن میں رہا کیونکہ شیل اور بی پی جیسی بڑی توانائی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ ہوا۔
ایشیا میں جاپان کے نکی 225، جنوبی کوریا کے کوسپی اور چین کے اہم انڈیکسز میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔
بھارت اور پاکستان پر ممکنہ اثرات
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھارت اور پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
بھارت میں سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل مہنگا ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوگا، درآمدی بل بڑھے گا اور مرکزی بینک کے لیے شرح سود کے فیصلے مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔
پاکستان میں بھی صورت حال تشویش ناک سمجھی جا رہی ہے کیونکہ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی تیل سے پورا کرتا ہے۔
پاکستانی معیشت پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ
ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہے تو پاکستان کے درآمدی بل میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھنے، روپے پر دباؤ میں اضافے اور مہنگائی کی نئی لہر کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
عوامی مالیات پر بھی دباؤ بڑھے گا اور حکومت کو توانائی کے شعبے میں اضافی مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مارکیٹوں میں غیر یقینی صورتحال برقرار
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اس وقت تک جاری رہ سکتا ہے جب تک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے مستقبل کے بارے میں واضح تصویر سامنے نہیں آتی۔
اگر تنازعہ محدود رہتا ہے تو منڈیاں کسی حد تک مستحکم ہو سکتی ہیں، لیکن اگر صورتحال وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور عالمی معیشت پر شدید دباؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

