کینیڈا

ویسٹ جیٹ فلائٹ اٹینڈنٹس کی ہڑتال ختم، عبوری معاہدہ طے

📷 WestJet Flight Attendants End Strike, Reach Tentative Deal(Instant Image)

یاد رہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس نے اتوار کی رات ہڑتال شروع کی تھی، جس کے بعد ویسٹ جیٹ نے اپنے 737 اور 787 طیاروں کی بیشتر پروازیں معطل کر دی تھیں۔ کمپنی کے مطابق سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔

کیلگری: کینیڈا کی فضائی کمپنی ویسٹ جیٹ (WestJet) کے تقریباً 4,400 فلائٹ اٹینڈنٹس کی ہڑتال پیر کی صبح اس وقت ختم ہوگئی جب کمپنی اور ملازمین کی نمائندہ یونین کے درمیان رات بھر جاری مذاکرات کے بعد ایک عبوری معاہدہ طے پا گیا۔ اس پیش رفت سے ہزاروں مسافروں کے لیے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں کمی آنے کی امید پیدا ہوگئی ہے، تاہم معاہدہ ابھی یونین کے ارکان کی منظوری سے مشروط ہے۔

ویسٹ جیٹ اور کینیڈین یونین آف پبلک ایمپلائیز (CUPE) لوکل 8125 نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ پیر کی صبح تقریباً 4:15 بجے (ماؤنٹین ٹائم) دونوں فریقوں کے درمیان ایک عارضی معاہدہ طے پا گیا، جس کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

یونین کی صدر عالیہ حسین نے کیلگری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ ان اہم نکات پر نمایاں پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے جو یونین نے مذاکرات کے دوران اٹھائے تھے۔ ان کے مطابق اس معاہدے میں طویل عرصے سے رائج فلائٹ کریڈٹ سسٹم میں بہتری لائی گئی ہے تاکہ فلائٹ اٹینڈنٹس کی ان ذمہ داریوں کو بھی بہتر انداز میں تسلیم کیا جا سکے جو وہ پرواز کے اڑنے سے پہلے، تاخیر کے دوران اور لینڈنگ کے بعد انجام دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب یونین اس معاہدے کی تفصیلات اپنے ارکان کے سامنے پیش کرے گی، جس کے بعد ووٹنگ کے ذریعے اس کی منظوری لی جائے گی۔ ان کے مطابق آئندہ 30 دنوں کے اندر معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کیا جائے گا۔

عالیہ حسین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یونین کبھی بھی ایسا معاہدہ ارکان کے سامنے پیش نہیں کرتی جس پر اسے خود اعتماد نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کی رات کمپنی کی جانب سے پیش کی گئی تازہ پیشکش میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن کی بنیاد پر مذاکرات آگے بڑھے اور بالآخر اتفاق رائے ممکن ہوا۔

دوسری جانب ویسٹ جیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر الیکسس فان ہوئنز بروخ نے عبوری معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی اپنے کیبن کریو کی پیشہ ورانہ خدمات اور محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس معاہدے کے ذریعے ان کی خدمات کا اعتراف کیا گیا ہے۔

یہ تنازع بنیادی طور پر فلائٹ اٹینڈنٹس کو زمین پر انجام دی جانے والی ڈیوٹی کے معاوضے سے متعلق تھا۔ یونین کا مؤقف تھا کہ فلائٹ اٹینڈنٹس صرف اس وقت کی تنخواہ حاصل کرتے ہیں جب طیارہ گیٹ سے روانہ ہوتا ہے، جبکہ بورڈنگ، حفاظتی معائنوں، مسافروں کی رہنمائی، تاخیر سے نمٹنے اور لینڈنگ کے بعد کی متعدد ذمہ داریاں بلا معاوضہ انجام دی جاتی ہیں۔

ویسٹ جیٹ نے اتوار کے روز اپنی آخری پیشکش کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کمپنی 13 فیصد تنخواہ میں اضافہ کرنے پر آمادہ ہے، جو یکم اکتوبر سے نافذ العمل ہوگا اور یکم جنوری 2026 سے اس کا اطلاق ماضی کی تاریخ سے کیا جائے گا۔ اس کے بعد 2029 تک ہر سال 2.5 فیصد اضافے کی بھی تجویز دی گئی تھی۔

کمپنی نے اس کے علاوہ ایک “ڈیوٹی پے پریمیم” بھی تجویز کیا تھا، جس کے تحت زمین پر انجام دی جانے والی اضافی ڈیوٹی کے لیے علیحدہ معاوضہ دیا جانا تھا۔ ویسٹ جیٹ کے مطابق اس اضافی ادائیگی کی مجموعی مالیت تقریباً مزید 12 فیصد اضافی آمدنی کے برابر بنتی ہے۔

تاہم یونین نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ عبوری معاہدہ کمپنی کی آخری پیشکش سے کس حد تک مختلف ہے۔ ویسٹ جیٹ نے بھی معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ روایتی طریقہ کار ہے اور حتمی معلومات معاہدے کی توثیق کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔

کمپنی نے اس بات کی تصدیق کی کہ جب تک معاہدے کی منظوری کا عمل جاری ہے، اس دوران نہ ہڑتال ہوگی اور نہ ہی لاک آؤٹ، لہٰذا مسافر اعتماد کے ساتھ اپنی سفری منصوبہ بندی اور بکنگ جاری رکھ سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ فلائٹ اٹینڈنٹس نے اتوار کی رات ہڑتال شروع کی تھی، جس کے بعد ویسٹ جیٹ نے اپنے 737 اور 787 طیاروں کی بیشتر پروازیں معطل کر دی تھیں۔ کمپنی کے مطابق سینکڑوں پروازیں منسوخ ہوئیں، جس سے ہزاروں مسافر متاثر ہوئے۔

کینیڈا کی وفاقی وزیر برائے روزگار پیٹی ہائیڈو نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ خوش آئند امر ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل تک پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ بہترین معاہدے وہی ہوتے ہیں جو حکومت کی مداخلت کے بجائے براہِ راست مذاکرات کے ذریعے طے پاتے ہیں۔

اگر یونین کے ارکان اس عبوری معاہدے کی توثیق کر دیتے ہیں تو ویسٹ جیٹ اور اس کے فلائٹ اٹینڈنٹس کے درمیان جاری طویل تنازع باضابطہ طور پر ختم ہو جائے گا، جس سے فضائی آپریشن معمول پر آنے اور مسافروں کو درپیش مشکلات کم ہونے کی توقع ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories