فٹ بال ورلڈ کپ 2026 سے قبل ٹورنٹو میں مہنگائی کا طوفان، ہوٹلوں کے کرایے آسمان سے باتیں کرنے لگے
ٹورنٹو: کینیڈا کے سب سے بڑے شہر ٹورنٹو میں آئندہ سال منعقد ہونے والے عالمی فٹ بال کپ 2026 سے پہلے ہی معاشی سرگرمیوں میں تیزی آنا شروع ہو گئی ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی ہوٹلوں کے کرایوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس نے سیاحوں اور شائقینِ فٹ بال کے لیے سفری منصوبہ بندی کو خاصا مہنگا بنا دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ٹورنامنٹ سے قبل ہی شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں ہوٹل بکنگ کی شرح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں ہوٹل ریزرویشنز میں تقریباً اٹھائیس فیصد اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا بھر سے شائقین کی بڑی تعداد ٹورنٹو کا رخ کرنے والی ہے۔
گریٹر ٹورنٹو ہوٹلز ایسوسی ایشن کی صدر اور چیف ایگزیکٹو سارہ اینجل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہوٹلوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے، لیکن یہ اضافہ ابتدائی توقعات سے کچھ کم ہے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے عالمی کپ کے میچز قریب آئیں گے، ویسے ویسے ہوٹلوں کی مانگ میں مزید تیزی متوقع ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔
شہر کے لگژری ہوٹلوں میں کمروں کے کرایوں میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایک معروف فائیو اسٹار ہوٹل میں ایک رات کے قیام کے لیے کمرے کا کرایہ تقریباً ایک ہزار تین سو پچیس ڈالر تک جا پہنچا ہے، جبکہ ایک دوسرے اعلیٰ درجے کے ہوٹل میں یہی کرایہ تقریباً ایک ہزار دو سو ڈالر فی رات تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی ایونٹس کے دوران مہمان نوازی کی صنعت کس طرح اپنی قیمتیں بڑھا دیتی ہے۔
دوسری جانب درمیانے درجے کے ہوٹل بھی اس رجحان سے محفوظ نہیں رہے۔ ایک تھری اسٹار ہوٹل میں ایک رات کے قیام کے لیے کرایہ تقریباً پانچ سو ننانوے ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ شہر کے مرکزی علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں یہی قیمت تقریباً چھ سو انہتر ڈالر فی رات تک جا پہنچی ہے۔ اس صورتحال نے متوسط طبقے کے سیاحوں کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جو نسبتاً کم بجٹ میں سفر کرنا چاہتے ہیں۔
سیاحت سے وابستہ حکام کا کہنا ہے کہ 2026 کے عالمی فٹ بال کپ کے دوران ٹورنٹو میں ہونے والے چھ میچز میں شرکت کے لیے آنے والے تماشائیوں میں سے نصف سے زائد بیرون ملک یا دیگر شہروں سے آئیں گے۔ اس بڑی تعداد میں آنے والے شائقین نہ صرف ہوٹل انڈسٹری بلکہ مقامی معیشت کے دیگر شعبوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوں گے۔
ماہرین اقتصادیات کے مطابق ایسے عالمی ایونٹس میزبان شہروں کے لیے ایک اہم معاشی موقع ہوتے ہیں۔ ہوٹلوں، ریسٹورنٹس، ٹرانسپورٹ اور دیگر خدمات فراہم کرنے والے شعبے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ قیمتوں میں اضافہ مقامی شہریوں اور کم بجٹ والے سیاحوں کے لیے چیلنج بھی بن جاتا ہے۔
حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ قیمتیں 2024 میں ایک بڑے عالمی میوزک کنسرٹ ٹور کے دوران دیکھے گئے انتہائی سطح تک نہیں پہنچیں، لیکن پھر بھی یہ اضافہ خاصا نمایاں ہے اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں قیمتیں مزید اوپر جا سکتی ہیں۔
شہر کے کاروباری حلقوں میں اس صورتحال کو مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے معیشت کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔ تاہم ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قیمتوں کو ایک حد میں رکھنا ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح اس عالمی ایونٹ سے لطف اندوز ہو سکیں۔
یوں ٹورنٹو ایک جانب عالمی کھیلوں کے اس بڑے میلے کی تیاریوں میں مصروف ہے، تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ہوٹلوں کے بلند کرایے اس ایونٹ کی چمک دمک کے ساتھ ایک نیا چیلنج بھی بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

