“کینیڈا اسٹرونگ امریکا کو مزید مضبوط بنائے گا”: نیویارک میں مارک کارنی کا خطاب
نیویارک: کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے جمعرات کے روز امریکی سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان مضبوط معاشی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں بلکہ اس سے وسیع تر عالمی معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔
مارک کارنی نیویارک کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے کاروباری رہنماؤں، بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز اور سرمایہ کاری کے شعبے سے وابستہ شخصیات سے ملاقات کی۔ اس دورے کا بنیادی مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو کینیڈا میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنا تھا۔
انہوں نے اکنامک کلب آف نیویارک سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “یہ بات بالکل واضح ہے کہ کینیڈا اسٹرونگ امریکا کو مزید مضبوط بنائے گا۔” ان کے اس بیان نے بین الاقوامی تجارتی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔
کارنی کا یہ خطاب ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا-امریکا-میکسیکو تجارتی معاہدے (CUSMA) کے جائزے کا عمل قریب آ رہا ہے، جس کے تحت تینوں ممالک کے درمیان تجارتی پالیسیوں پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
اپنے خطاب میں کینیڈا کے وزیر اعظم نے کہا کہ کینیڈا امریکا کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور وہ امریکا سے چین، جاپان اور جرمنی کی مجموعی خرید سے بھی زیادہ اشیاء خریدتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی مفادات سپلائی چینز کے ذریعے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
مارک کارنی نے کہا کہ اوٹاوا نے امریکی انتظامیہ کو “مخصوص اور عملی تجاویز” پیش کی ہیں تاکہ دو طرفہ تجارت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے آٹو موبائل، اہم معدنیات (کریٹیکل منرلز)، زراعت اور توانائی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان مزید انضمام (integration) کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے توانائی کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کی برآمدات امریکا کے لیے توانائی کے لحاظ سے 10 ہوور ڈیمز کے برابر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور معاشی تبدیلیوں کے پیش نظر یہ سوال اہم ہے کہ کیا کینیڈا سے توانائی کی درآمد کو مزید وسعت دینا بہتر نہ ہوگا۔
کارنی نے کینیڈا کو سرمایہ کاروں کے لیے ایک “قابل اعتماد اور پیش گوئی کے قابل شراکت دار” قرار دیا اور کہا کہ آج کی دنیا میں تعلقات کی جگہ لین دین (transactions) تیزی سے لے رہا ہے، جس کے تناظر میں مستحکم شراکت داری مزید اہم ہو گئی ہے۔
اسی دوران کینیڈا کی وزیر صنعت میلانی جولی نے کہا کہ وزیر اعظم مارک کارنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رابطہ مسلسل جاری ہے، خاص طور پر CUSMA معاہدے کے قریب آنے والے جائزے کے تناظر میں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں رہنما مختلف بین الاقوامی مواقع پر ملاقات کر چکے ہیں اور آئندہ بھی ملاقاتیں متوقع ہیں، خصوصاً آئندہ ماہ فرانس میں ہونے والے جی7 اجلاس کے دوران۔
میلانی جولی کے مطابق آنے والے ہفتوں میں کینیڈا کے دیگر وزراء بھی امریکا کا دورہ کریں گے تاکہ نجی شعبے اور مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت امریکا میں مختلف صنعتوں جیسے آٹو موبائل، فاریسٹری، اسٹیل اور ایلومینیم کے شعبوں میں کام کرنے والے اداروں کے ساتھ براہ راست رابطے بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈا اب تجارتی معاملات میں زیادہ فعال (proactive) کردار ادا کر رہا ہے، بجائے اس کے کہ صرف ردعمل پر مبنی پالیسی اختیار کرے۔ ان کے مطابق 2025 میں حکومت زیادہ تر ردعمل کی پوزیشن میں تھی، جبکہ 2026 میں ایک واضح منصوبے کے تحت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اور کینیڈا کے درمیان اہم تجارتی مسائل موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک کے حکام کے درمیان رابطہ مسلسل جاری ہے۔
کینیڈا کے وزیر تجارت ڈومینک لی بلانک نے بھی امریکی حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، جبکہ میلانی جولی کے مطابق وہ خود بھی دونوں ممالک کے نجی شعبے کے نمائندوں سے ملاقات کر رہی ہیں، خاص طور پر ان صنعتوں میں جو ٹیرف سے متاثر ہوئی ہیں۔
CUSMA معاہدے کے تحت جولائی میں تین ممکنہ راستے سامنے آئیں گے: معاہدے کو مزید 16 سال کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، یا کوئی ملک اس سے نکلنے کا فیصلہ کر سکتا ہے، یا پھر عدم توسیع کے ساتھ سالانہ جائزے کا عمل شروع ہو سکتا ہے، جو طویل مذاکرات کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ امریکی انتظامیہ فوری طور پر معاہدے کی تجدید کے حق میں نہیں ہے، جس کے باعث تینوں ممالک ممکنہ طور پر طویل مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات اس وقت معطل کر دیے تھے جب انہیں اونٹاریو کی جانب سے ایک اشتہار پر اعتراض ہوا تھا جس میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے ٹیرف مخالف بیانات کو شامل کیا گیا تھا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

