دنیا

ژوب بس حادثہ: 40 مسافر جاں بحق

📷 Zhob, Pakistan Bus Accident: 40 Passengers Killed-File Photo

بریک فیل ہونے سے مسافر بس کھائی میں جاگری، خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد لقمۂ اجل، زخمیوں کے علاج اور امدادی کارروائیاں جاری

ژوب: بلوچستان کے ضلع ژوب میں پیش آنے والے ایک ہولناک ٹریفک حادثے میں کم از کم 40 افراد جاں بحق جبکہ 8 افراد زخمی ہو گئے۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک مسافر بس بریک فیل ہونے کے باعث بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق حادثہ ژوب کے علاقے داناسر کے قریب پیش آیا، جہاں مسافر بس کو اچانک بریک فیل ہونے کے بعد ڈرائیور قابو میں نہ رکھ سکا اور گاڑی گہری کھائی میں جا گری۔ حادثہ اتنا شدید تھا کہ بس مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور متعدد مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

ابتدائی تحقیقات میں بریک فیل ہونے کی تصدیق

پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ بس کے بریک فیل ہونا ہے۔ حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد، پولیس، ریسکیو ٹیموں اور دیگر متعلقہ اداروں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال ژوب منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹرز کی خصوصی ٹیمیں علاج میں مصروف ہیں۔

ریسکیو اہلکاروں کو دشوار گزار پہاڑی علاقے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم تمام اداروں نے مشترکہ کوششوں سے زخمیوں اور لاشوں کو کھائی سے نکالا۔

حادثہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی سرحد کے قریب پیش آیا

وزیراعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا امور شاہد رند نے حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بس حادثہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقے میں پیش آیا۔ ان کے مطابق اب تک 40 افراد کے جاں بحق ہونے اور 8 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حادثے کے بعد بلوچستان حکومت کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کی ریسکیو ٹیمیں بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔ پی ڈی ایم اے، محکمہ صحت، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور دیگر متعلقہ ادارے موقع پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔

شاہد رند نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے فوری تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صوبوں کے ادارے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

بس میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے

معاون وزیراعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کا شکار بس میں معمول سے زیادہ مسافر سوار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس بس میں ایک دوسری خراب ہونے والی گاڑی کے مسافر بھی منتقل کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے گاڑی میں مسافروں کی تعداد مقررہ گنجائش سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ افسران حادثے کی تمام وجوہات کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا حادثہ صرف بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا یا اس میں کسی قسم کی غفلت بھی شامل تھی۔

شناخت اور علاج کے لیے اقدامات جاری

ضلعی انتظامیہ کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جبکہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بعض زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے دوسرے بڑے اسپتالوں میں منتقل کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

حکومت بلوچستان نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا اور زخمیوں کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتی جائے گی۔

شاہد رند نے کہا کہ حکومت بلوچستان اس المناک سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتی ہے اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔

صدر مملکت کا اظہارِ افسوس

صدر مملکت آصف علی زرداری نے ژوب شیرانی شاہراہ پر پیش آنے والے اس افسوسناک حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

صدر مملکت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اندوہناک سانحے پر پوری قوم متاثرہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

تحقیقات کا اعلان

حکومت بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ حادثے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں گی تاکہ اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی غفلت یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

یہ حادثہ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں مسافر گاڑیوں کی فٹنس، گنجائش سے زائد مسافروں کی نقل و حمل اور سڑکوں پر حفاظتی انتظامات سے متعلق سنگین سوالات کو اجاگر کرتا ہے۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت مسافر ٹرانسپورٹ کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories