دنیا

امریکا اسرائیل کو لگام ڈالے ورنہ ہم ڈال دیں گے:ایران کے وزیرِ خارجہ

📷 Instant Image

اسرائیلی وزیرِ دفاع کے بیان پر ایران کا سخت ردعمل,ایران اپنے قومی مفادات اور اعلیٰ قیادت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا

تہران، 2 جولائی: ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اپنے قومی مفادات اور اعلیٰ قیادت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی قسم کی جارحیت کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔

عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں اسرائیلی وزیرِ دفاع کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا واقعی خطے میں کشیدگی کم کرنا چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کو قابو میں رکھنا ہوگا، بصورت دیگر ایران خود مناسب جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

“اسلام آباد میمورنڈم” کا حوالہ

اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے دیے گئے بیان کے اسکرین شاٹ کو شیئر کرتے ہوئے عباس عراقچی نے لکھا کہ “اسلام آباد میمورنڈم کے نکات بالکل واضح اور سب کے سامنے ہیں، جس کے مطابق امریکی صدر نے تل ابیب میں موجود اپنے پالتو جانوروں کو لگام ڈال کر رکھنے کی ذمہ داری لی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ “اگر اسرائیل نے اپنے آقا (امریکا) کے حکم کو نظر انداز کیا تو ایران انہیں خود اچھی طرح سبق سکھائے گا۔”

ایرانی وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور قیادت کے دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی ممکنہ حملے یا اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اسرائیل کاٹز کا متنازع بیان

عباس عراقچی کا یہ ردعمل ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے خلاف ایک انتہائی سخت اور اشتعال انگیز بیان جاری کیا تھا۔ اپنے بیان میں اسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیل کے نشانے پر ہیں۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع نے مزید کہا تھا کہ اسرائیلی فوج نے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے “بلیو اینڈ وائٹ” نامی آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے تحت ایران کے اندر کارروائی کرتے ہوئے اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کا مکمل منصوبہ تیار کیا جا چکا ہے۔

مزید حملوں کی دھمکی

اسرائیل کاٹز نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل ماضی میں ایران کے خلاف دو مرتبہ پیشگی کارروائیاں کر چکا ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو تیسری بار بھی ایران کو نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

اسرائیلی وزیرِ دفاع کے اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حالیہ بیانات نہ صرف سفارتی ماحول کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی ان کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان لفظی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں پہلے ہی سلامتی کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور عالمی برادری کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

ایران کا دوٹوک مؤقف

ایران کی جانب سے بارہا یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی، خودمختاری اور اعلیٰ قیادت کے خلاف کسی بھی خطرے کو برداشت نہیں کرے گا، جبکہ اسرائیل مسلسل یہ دعویٰ کرتا رہا ہے کہ وہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

دوسری جانب عباس عراقچی کے تازہ بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ تہران اسرائیل کی جانب سے آنے والی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور امریکا کو بھی اس صورتحال میں ذمہ دار قرار دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر واشنگٹن اسرائیل کو روکنے میں ناکام رہا تو ایران اپنے دفاع کے لیے خود اقدامات کرے گا۔

سفارتی چیلنجز برقرار

ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے اس نوعیت کے سخت بیانات خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جس کے باعث مستقبل قریب میں سفارتی کوششوں اور علاقائی استحکام کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories