تفریح

آسٹریلیا ساتویں مرتبہ ویمنز ٹی-20 ورلڈ کپ کا چیمپئن، فائنل میں انگلینڈ کو شکست

📷 Australia Beat England to Win Record Seventh Women's T20 World Cup Title

بیتھ مونی کی شاندار نصف سنچری، آسٹریلیا نے 17.1 اوورز میں ہدف حاصل کر لیا، فائنل میں انگلینڈ کو شکست

لارڈز، لندن: آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر خواتین کی کرکٹ میں اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے آئی سی سی ویمنز ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 کے فائنل میں انگلینڈ کو شکست دے کر ریکارڈ ساتویں مرتبہ عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس اہم مقابلے میں آسٹریلوی ٹیم نے 151 رنز کا ہدف صرف 17.1 اوورز میں تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر کے ایک مرتبہ پھر دنیا پر اپنی حکمرانی ثابت کر دی۔

فائنل میں آسٹریلیا کی فتح کی بنیاد تجربہ کار اوپنر بیتھ مونی کی شاندار نصف سنچری نے رکھی، جبکہ فوبی لیچفیلڈ نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم اچھا مجموعہ بنانے کے باوجود اپنی بولنگ کے ذریعے آسٹریلیا کی مضبوط بیٹنگ لائن کو روکنے میں ناکام رہی۔

ٹاس جیت کر آسٹریلیا کا پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ

لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلے گئے فائنل میں آسٹریلیا کی کپتان سوفی مولینکس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا، جو بعد میں ان کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوا۔

انگلینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 150 رنز بنائے۔ اگرچہ انگلش بیٹرز نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا، لیکن وہ آخری اوورز میں مطلوبہ رفتار سے رنز بنانے میں کامیاب نہ ہو سکیں۔

نیٹ سائور-برنٹ کی کپتانی اننگز

انگلینڈ کی جانب سے کپتان نیٹ سائور-برنٹ نے بہترین بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 53 گیندوں پر 58 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی۔ انہوں نے ابتدا میں محتاط انداز اپنایا اور بعد میں جارحانہ شاٹس کھیل کر ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچانے کی کوشش کی۔

نیٹ سائور-برنٹ نے اپنی اننگز کے دوران عمدہ شاٹس کھیلتے ہوئے آسٹریلوی بولرز کو دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی، تاہم انہیں دوسرے اینڈ سے مسلسل مؤثر تعاون حاصل نہ ہو سکا۔

فریا کیمپ اور ایلس کیپسی کی مفید شراکت

انگلینڈ کی جانب سے فریا کیمپ نے بھی عمدہ کھیل پیش کرتے ہوئے 44 رنز اسکور کیے، جبکہ نوجوان بیٹر ایلس کیپسی نے 23 رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کا مجموعہ 150 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم انگلینڈ کے دیگر بلے باز بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے، جس کے باعث ٹیم ایک بڑے مجموعے تک نہ پہنچ سکی۔

آسٹریلوی بولرز کی نپی تلی بولنگ

آسٹریلیا کی بولنگ لائن نے ایک مرتبہ پھر اپنی مہارت کا ثبوت دیا۔ کپتان سوفی مولینکس، کم گارتھ، لوسی ہیملٹن اور اینابیل سدرلینڈ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی اور انگلینڈ کو آزادانہ انداز میں رنز بنانے سے روکے رکھا۔

آسٹریلوی بولرز نے درمیانی اوورز میں بہترین لائن اور لینتھ برقرار رکھی، جس کے نتیجے میں انگلینڈ مطلوبہ رفتار سے اسکور نہ بڑھا سکا۔

بیتھ مونی نے میچ یکطرفہ بنا دیا

151 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا نے پراعتماد آغاز کیا۔ تجربہ کار اوپنر بیتھ مونی نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 49 گیندوں پر 64 رنز کی ناقابلِ فراموش اننگز کھیلی۔

ان کی اننگز میں دس خوبصورت چوکے شامل تھے۔ مونی نے ابتدا سے ہی انگلینڈ کے بولرز پر دباؤ برقرار رکھا اور میدان کے چاروں طرف دلکش اسٹروکس کھیل کر رنز کی رفتار تیز رکھی۔

انہوں نے نہ صرف اپنی نصف سنچری مکمل کی بلکہ ٹیم کو کامیابی کے قریب بھی پہنچا دیا۔

فوبی لیچفیلڈ کی ذمہ دارانہ بیٹنگ

بیتھ مونی کا بھرپور ساتھ نوجوان بیٹر فوبی لیچفیلڈ نے دیا، جنہوں نے 35 گیندوں پر 48 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

دونوں بیٹرز کے درمیان اہم شراکت داری نے انگلینڈ کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ لیچفیلڈ نے پراعتماد انداز میں اسپن اور فاسٹ بولرز دونوں کے خلاف جارحانہ شاٹس کھیلے اور اسکور بورڈ کو مسلسل متحرک رکھا۔

17.1 اوورز میں فتح

آسٹریلیا نے صرف تین وکٹوں کے نقصان پر 17.1 اوورز میں مطلوبہ ہدف حاصل کر لیا۔ اس آسان کامیابی نے واضح کر دیا کہ موجودہ دور میں خواتین کی کرکٹ میں آسٹریلیا کی ٹیم اب بھی سب سے مضبوط اور متوازن ٹیم سمجھی جاتی ہے۔

انگلینڈ کے بولرز وکٹیں لینے کے باوجود آسٹریلوی بیٹرز کو دباؤ میں لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ریکارڈ ساتواں عالمی اعزاز

اس کامیابی کے ساتھ آسٹریلیا نے خواتین کے ٹی-20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں ریکارڈ ساتویں مرتبہ ٹائٹل اپنے نام کر لیا، جو خواتین کی بین الاقوامی کرکٹ میں اس کی مسلسل برتری کا واضح ثبوت ہے۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق آسٹریلیا نے گزشتہ کئی برسوں سے خواتین کی کرکٹ میں جس تسلسل کے ساتھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ دنیا کی کسی بھی دوسری ٹیم کے لیے مثال بن چکی ہیں۔

انگلینڈ کی کوشش ناکام، آسٹریلیا کا غلبہ برقرار

اگرچہ انگلینڈ نے پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کھیل پیش کرتے ہوئے فائنل تک رسائی حاصل کی، لیکن فیصلہ کن مقابلے میں وہ آسٹریلیا کی منظم بولنگ اور مضبوط بیٹنگ لائن کے سامنے بے بس نظر آیا۔

دوسری جانب آسٹریلیا نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ بڑے مقابلوں میں دباؤ کو کس طرح کامیابی میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ بیتھ مونی کی میچ وننگ اننگز، فوبی لیچفیلڈ کی بہترین معاونت اور بولرز کی عمدہ کارکردگی نے آسٹریلیا کو ایک اور عالمی اعزاز دلایا، جبکہ کرکٹ کی دنیا میں اس کی حکمرانی مزید مستحکم ہو گئی۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories