بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کو اپنے مشہور سمندر کنارے واقع بنگلے “منت” کی توسیع کے معاملے میں سپریم کورٹ سے ,2500 کروڑ روپے مالیت کے بنگلے کی توسیع کے خلاف دائر درخواست مستردبڑی قانونی راحت مل گئی ہے
ممبئی: بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کو اپنے مشہور سمندر کنارے واقع بنگلے “منت” کی توسیع کے معاملے میں سپریم کورٹ سے بڑی قانونی راحت مل گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں شاہ رخ خان اور ان کی اہلیہ گوری خان کو بنگلے کی توسیع اور تزئین و آرائش کے لیے دی گئی منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص قانون کے مطابق اپنے گھر میں تعمیراتی تبدیلیاں کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا مکمل حق حاصل ہے۔
رہائشی کی درخواست مسترد
یہ درخواست ممبئی کے ایک رہائشی کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ “منت” کی توسیع کے لیے ماحولیاتی قوانین اور ساحلی ضوابط پر مکمل عمل نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ منصوبے کے لیے مرکزی وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی (MoEFCC) سے خصوصی منظوری لینا ضروری تھا، کیونکہ تعمیراتی منصوبے کی لاگت مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی۔
درخواست گزار کی جانب سے سپریم کورٹ میں سینئر وکیل شعیب عالم نے مؤقف اختیار کیا کہ پانچ کروڑ روپے سے زائد لاگت والے منصوبوں کے لیے ماحولیات کی منظوری لازمی ہوتی ہے، جبکہ اس منصوبے میں مبینہ طور پر ان ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی۔
سپریم کورٹ کا اہم تبصرہ
چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ “منت” ایک نجی رہائش گاہ ہے اور اگر اس کے مالکان قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس میں توسیع یا تزئین و آرائش کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔
عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی شہری کو اپنے ذاتی گھر میں قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے تبدیلیاں کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔
این جی ٹی بھی پہلے درخواست مسترد کر چکی
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ معاملہ نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے سپرد کیا جائے، تاہم سپریم کورٹ نے اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا۔
عدالت نے یاد دلایا کہ اس سے قبل نیشنل گرین ٹریبونل بھی اسی معاملے میں دائر اپیل کو خارج کر چکا ہے، جس میں “منت” کی توسیع اور تعمیراتی منصوبے کے لیے جاری کی گئی ماحولیاتی اور ساحلی منظوری کو چیلنج کیا گیا تھا۔
سپریم کورٹ نے این جی ٹی کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ مرحلے پر مزید کارروائی کی ضرورت نہیں۔
عدالت: مشہور شخصیت ہونا فیصلہ کن نہیں
عدالت نے سماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ اس کے فیصلے پر کسی شخص کی شہرت یا فلمی حیثیت کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ عدالت صرف قانونی نکات کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے اور کسی بھی شہری کے ساتھ یکساں سلوک کیا جاتا ہے، خواہ وہ عام آدمی ہو یا معروف شخصیت۔
‘منت’ میں دو نئی منزلیں تعمیر ہوں گی
گوری خان نے “منت” کے احاطے میں واقع چھ منزلہ اینیکس (ملحقہ) عمارت میں مزید دو منزلیں تعمیر کرنے کی درخواست دی تھی۔
اس منصوبے کا مقصد رہائشی سہولتوں میں اضافہ کرنا اور عمارت کی جدید طرز پر تزئین و آرائش کرنا ہے۔ اسی توسیعی منصوبے کو لے کر ساحلی ضوابط اور ماحولیاتی منظوری کے حوالے سے قانونی تنازع کھڑا ہوا تھا۔
سپریم کورٹ کے تازہ فیصلے کے بعد اب شاہ رخ خان اور گوری خان قانونی طور پر منصوبے پر کام آگے بڑھا سکیں گے۔
2500 کروڑ روپے مالیت کی ‘منت’
ممبئی کے پوش علاقے باندرہ میں واقع “منت” نہ صرف شاہ رخ خان کی رہائش گاہ ہے بلکہ شہر کی نمایاں ترین عمارتوں میں بھی شمار ہوتی ہے۔
تقریباً 2500 کروڑ روپے مالیت کے اس بنگلے کو دیکھنے کے لیے روزانہ بڑی تعداد میں مداح جمع ہوتے ہیں، جبکہ شاہ رخ خان بھی عید، اپنی سالگرہ اور دیگر مواقع پر اسی بنگلے کی بالکونی سے مداحوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
“منت” کئی برسوں سے شاہ رخ خان کی شناخت بن چکا ہے اور ممبئی آنے والے سیاحوں کے لیے بھی یہ ایک اہم پرکشش مقام سمجھا جاتا ہے۔
قانونی رکاوٹ ختم
سپریم کورٹ کی جانب سے درخواست مسترد کیے جانے کے بعد “منت” کی توسیع کے منصوبے کی راہ میں موجود بڑی قانونی رکاوٹ ختم ہو گئی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کے فیصلے سے یہ اصول بھی واضح ہوا ہے کہ اگر کسی نجی تعمیراتی منصوبے کے لیے متعلقہ اداروں سے ضروری منظوری حاصل کر لی گئی ہو اور منصوبہ قانونی تقاضوں کے مطابق ہو تو محض اعتراضات کی بنیاد پر اس پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔
اس فیصلے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ “منت” میں مجوزہ تعمیراتی کام جلد شروع کر دیا جائے گا، جس کے تحت اینیکس عمارت میں دو نئی منزلوں کا اضافہ کیا جائے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

