تفریح

او ٹی ٹی سے دلجیت دوسانجھ کی ‘ستلج’ ہٹائے جانے پر نیرُو باجوا برہم

📷 Image credit to Neeru Bajwa

پنجابی سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے

ممبئی: پنجابی سپر اسٹار دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹائے جانے کے بعد تنازع مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اب معروف پنجابی اداکارہ نیرُو باجوا بھی دلجیت دوسانجھ کے حق میں سامنے آگئی ہیں اور انہوں نے فلم کو او ٹی ٹی سے ہٹانے کے فیصلے پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

دلجیت دوسانجھ کی فلم ‘ستلج’ ابتدا میں ‘پنجاب 95’ کے نام سے ریلیز کی جانی تھی، تاہم فلم تقریباً تین سال تک مختلف وجوہات کی بنا پر ریلیز نہ ہو سکی۔ اطلاعات کے مطابق فلم کو سینسر بورڈ کی منظوری حاصل نہیں ہو سکی تھی اور اس پر 127 کٹ لگانے کی سفارش کی گئی تھی۔

تھیٹر ریلیز کے بجائے او ٹی ٹی کا انتخاب

فلم کے پروڈیوسرز نے اسے سنیما گھروں میں ریلیز کرنے کے بجائے بالآخر 3 جولائی کو بغیر کسی کٹ کے او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو (ZEE5) پر ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم فلم کی ریلیز کے صرف دو دن بعد ہی اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر مرکزی حکومت کی جانب سے فلم کو او ٹی ٹی پلیٹ فارم سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اگلے احکامات تک بھارت میں اس کی نمائش پر پابندی برقرار رہے گی۔

فلم ہٹانے کے بعد فلمی حلقوں میں بے چینی

‘ستلج’ کو او ٹی ٹی سے ہٹائے جانے کے بعد فلمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ متعدد فنکاروں اور ناظرین نے اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور فلم کی دوبارہ نمائش کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اسی سلسلے میں پنجابی فلم انڈسٹری کی معروف اداکارہ نیرُو باجوا نے بھی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ کے ذریعے ایک تفصیلی بیان جاری کرتے ہوئے فلم کو ہٹانے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

نیرُو باجوا کا ردعمل

نیرُو باجوا نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا:

“میں نے ستلج دیکھی، جذبات یقیناً بھڑک اٹھے۔ ایک فلم محض تفریح سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔ یہ اسے بنانے والوں کی آواز، ان کے جذبے، ان کی سچائی اور برسوں کی محنت کا نتیجہ ہوتی ہے۔ کسی کے پاس جواب دہی کے بغیر اسے خاموش کر دینے کا اختیار نہیں ہونا چاہیے۔”

انہوں نے مزید لکھا:

“چاہے لوگ فلم کی حمایت کریں یا اس پر تنقید کریں، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہونا چاہیے۔ ان سے یہ انتخاب چھین لینا غلط ہے۔ ہمیں اسے دیکھنے، خود سوچنے اور یہ طے کرنے کا حق حاصل ہے کہ یہ ہمارے لیے کیا معنی رکھتی ہے۔ اگر ‘ستلج’ کو روک دیا گیا ہے تو عوام کو سچ جاننے کا حق ہے۔ ہمیں واضح اور صاف وجہ معلوم ہونی چاہیے، خاموشی نہیں۔ شفافیت کوئی خصوصی رعایت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔”

نیرُو باجوا نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا:

“پنجابی ہونے کے ناطے جب ہماری کہانیاں ہم سے چھپائی جاتی ہیں تو ہمیں سوال پوچھنے کا پورا حق ہے۔ ہم کوئی خصوصی سلوک نہیں مانگ رہے، ہم صرف سچ، انصاف اور کسی فلم کو دیکھنے اور اس کے بارے میں اپنی رائے قائم کرنے کی آزادی چاہتے ہیں۔ ہماری آواز اہمیت رکھتی ہے، ہماری کہانیاں اہمیت رکھتی ہیں اور سچ بھی اہمیت رکھتا ہے۔”

مداحوں کی جانب سے بھی ردعمل جاری

نیرُو باجوا کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ متعدد صارفین اور دلجیت دوسانجھ کے مداحوں نے بھی فلم کو ہٹانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کئی مداحوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی فلم پر اعتراض ہے تو اس کے بارے میں عوام کو مکمل معلومات فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

دوسری جانب فلم کے مستقبل کے بارے میں ابھی تک کوئی نئی سرکاری وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، جبکہ فلمی حلقے اور شائقین اس بات کے منتظر ہیں کہ آیا ‘ستلج’ کو دوبارہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر پیش کیا جائے گا یا نہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories