کینیڈا

کینیڈا میں بھارتی بیٹی کے لیے والدین کا 20 کلو محبت بھرا تحفہ

📷 A 20-Kg Gift of Love from Parents to Indian Daughter in Canada(Instant Image)

کینیڈا میں مقیم ایک بھارتی خاتون کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو نے بیرون ملک رہنے والے بھارتی خاندانوں کے جذبات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے

آم رس، تھیپلا اور تحائف سے بھرا پارسل سوشل میڈیا پر وائرل

کینیڈا میں مقیم ایک بھارتی خاتون کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو نے بیرون ملک رہنے والے بھارتی خاندانوں کے جذبات کو ایک بار پھر اجاگر کر دیا ہے۔ ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بھارت میں رہنے والے والدین نے اپنی بیٹی کے لیے 20 کلو وزنی پارسل بھیجا، جس میں صرف کھانے پینے کی چیزیں اور تحائف ہی نہیں بلکہ والدین کی محبت اور اپنائیت بھی شامل تھی۔

بیرون ملک مقیم بہت سے بھارتیوں کے لیے گھر کی یاد صرف فون کالز یا ویڈیو چیٹس تک محدود نہیں ہوتی بلکہ کبھی کبھی ایک احتیاط سے پیک کیا گیا ڈبہ بھی ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے گھر کی خوشبو لے آتا ہے۔ اسی احساس کو کینیڈا میں رہنے والی ہمانی پرمار کی ویڈیو نے نمایاں کیا، جسے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگوں نے پسند کیا۔

بھارت سے کینیڈا تک پہنچا محبت کا پارسل

ہمانی پرمار نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ بھارت سے بھیجے گئے بڑے کارٹن کو کھولتی نظر آ رہی ہیں۔ یہ پارسل ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کینیڈا پہنچا تھا۔

جیسے ہی ہمانی نے ڈبہ کھولا، اس میں رکھی ہوئی اشیا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ان کے والدین نے بڑی محبت اور توجہ کے ساتھ ہر چیز کو ترتیب دیا تھا۔ پارسل کے اندر آم رس، تھیپلے، دیگر گھریلو اور پیک شدہ کھانے کی اشیا کے علاوہ کپڑے، زیورات، استعمال کی چیزیں اور ہمانی اور ان کے شوہر کے لیے تحائف بھی موجود تھے۔

ویڈیو پر لکھا گیا جملہ، “جب آپ کے پاپا اور ممی 20 کلو محبت اور آم رس بھیجیں”، لوگوں کے جذبات کو چھو گیا۔

ہر چیز میں والدین کی محبت محسوس ہوئی

ہمانی نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ بیرون ملک رہنے والے بھارتی ہی اس احساس کو پوری طرح سمجھ سکتے ہیں جو گھر سے ایسا پارسل ملنے پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، اس ڈبے میں صرف آم رس، آم، کپڑے اور تحائف نہیں تھے بلکہ اس میں بے شمار محبت بھری یادیں بھی شامل تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ تصور کر سکتی ہیں کہ ان کے والدین نے کس طرح مختلف دکانوں پر جا کر ایک ایک چیز کا انتخاب کیا ہوگا اور کس طرح بہترین آم تلاش کیے ہوں گے تاکہ وہ ہزاروں میل دور رہتے ہوئے بھی اپنے گھر کے ذائقوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

ہمانی نے کہا کہ پارسل میں موجود ہر چیز والدین کے دل کا ایک ٹکڑا محسوس ہو رہی تھی اور پیکنگ کی ہر تہہ میں انہیں اپنے والدین کی محبت اور شفقت کا احساس ہوا۔

فاصلے محبت کو کم نہیں کر سکتے

ہمانی نے اپنی جذباتی پوسٹ کے آخر میں لکھا کہ بچے چاہے کتنے ہی بڑے ہو جائیں یا گھر سے کتنی ہی دور کیوں نہ چلے جائیں، والدین ہمیشہ ان کی فکر کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فاصلے خاندانوں کو الگ تو کر سکتے ہیں، لیکن والدین کی محبت کو کبھی کم نہیں کر سکتے۔ ان کے مطابق، ایسے تحائف صرف چیزیں نہیں ہوتے بلکہ ان میں گھر کی یادیں، جذبات اور اپنائیت شامل ہوتی ہے۔

بھارتی برادری نے جذبات سے جوڑا

ہمانی کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئی اور خاص طور پر بیرون ملک رہنے والے بھارتی افراد نے اسے اپنے تجربات سے جوڑا۔ کئی صارفین نے کہا کہ اس ویڈیو نے انہیں اپنے خاندانوں کی جانب سے بھیجے گئے ایسے ہی پارسل یاد دلا دیے، جن میں گھر کے ذائقے اور والدین کی محبت شامل ہوتی تھی۔

کئی لوگوں نے تبصرہ کیا کہ بیرون ملک زندگی گزارنے والے افراد کے لیے گھر سے آنے والا ایک چھوٹا سا تحفہ بھی بہت خاص معنی رکھتا ہے۔ ایسے پارسل انہیں اپنے ملک، خاندان اور بچپن کی یادوں سے دوبارہ جوڑ دیتے ہیں۔

ایک ڈبہ، ہزاروں جذبات

یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ محبت کے اظہار کے لیے ہمیشہ بڑے اقدامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی ایک احتیاط سے پیک کیا گیا ڈبہ، جس میں گھر کا کھانا، چند تحائف اور والدین کی دعائیں شامل ہوں، فاصلے مٹا دیتا ہے۔

بھارت سے کینیڈا تک پہنچنے والا یہ 20 کلو کا پارسل صرف ایک سامان کا ڈبہ نہیں تھا بلکہ والدین کی محبت، یادوں اور جذبات کا پیغام تھا، جس نے دنیا بھر میں موجود بھارتی برادری کو ایک مشترکہ احساس سے جوڑ دیا۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories