کمیونٹی

البرٹا سے برٹش کولمبیا تک نئی تیل پائپ لائن کا اعلان

📷 Announcement of a New Oil Pipeline from Alberta to British Columbia

وفاقی اور البرٹا حکومت کی مشترکہ سرمایہ کاری، روزانہ 10 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل کا منصوبہ، فرسٹ نیشنز کو بھی شراکت دار بنانے کی تجویز

کیلگری: کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی اور البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے البرٹا سے برٹش کولمبیا کے ساحل تک نئی آئل پائپ لائن تعمیر کرنے کے منصوبے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ اس منصوبے کو سرکاری اور نجی شعبے کی مشترکہ شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے تحت مکمل کیا جائے گا، جس کا مقصد کینیڈا کی توانائی برآمدات میں اضافہ، معیشت کو مضبوط بنانا اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔

کیلگری میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا کہ حکومت ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے جس سے کاروباری اداروں کو بڑے منصوبوں پر سرمایہ کاری کا اعتماد حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں وفاقی حکومت اور البرٹا حکومت برابر کی شراکت دار ہوں گی، جبکہ سرکاری ادارہ ٹرانس ماؤنٹین کارپوریشن منصوبے کی منصوبہ بندی اور تعمیر کا ذمہ دار ہوگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نجی شعبے کی معروف کمپنی پیمبینا پائپ لائن کارپوریشن بھی اس منصوبے میں شامل ہوگی، جو اپنی تکنیکی مہارت، سرمایہ کاری کے نظم و ضبط اور آپریشنل تجربے کے ذریعے پائپ لائن کی تعمیر اور مستقبل میں اس کے انتظام میں اہم کردار ادا کرے گی۔

موجودہ ٹرانس ماؤنٹین راہداری کے ساتھ تعمیر ہوگی نئی لائن

وفاقی حکومت کے مطابق نئی پائپ لائن کو موجودہ ٹرانس ماؤنٹین پائپ لائن کے ساتھ ساتھ تعمیر کیا جائے گا۔ موجودہ پائپ لائن ایڈمنٹن سے برٹش کولمبیا کے شہر برنابی میں واقع آئل ٹرمینل تک جاتی ہے اور یہ اس وقت وفاقی حکومت کی ملکیت ہے۔

نئے منصوبے کے تحت پائپ لائن البرٹا کے علاقے برودرہائم سے شروع ہوگی اور برٹش کولمبیا کے جنوبی ساحل پر ایک ایسے گہرے سمندری بندرگاہ تک جائے گی جہاں دنیا کے بڑے آئل ٹینکر (VLCC) آسانی سے لنگر انداز ہو سکیں گے۔ مجوزہ پائپ لائن کے ذریعے روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل منتقل کرنے کی صلاحیت ہوگی۔

سرمایہ کاری، خرچ نہیں: مارک کارنی

پریس کانفرنس کے دوران جب وزیرِ اعظم سے پوچھا گیا کہ اس منصوبے پر وفاقی اور البرٹا حکومتیں ٹیکس دہندگان کا کتنا سرمایہ خرچ کریں گی تو مارک کارنی نے کہا کہ اسے خرچ کے بجائے سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹرانس ماؤنٹین پائپ لائن ایک منافع بخش منصوبہ ثابت ہوئی ہے، اگرچہ اس کی لاگت ابتدائی تخمینے سے کہیں زیادہ رہی۔ یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 2018 میں یہ منصوبہ تقریباً 4.5 ارب ڈالر میں خریدا تھا، تاہم تعمیراتی اخراجات بڑھتے بڑھتے 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے تھے، جس کے بعد مئی 2024 میں اس سے تیل کی ترسیل کا آغاز ہوا۔

فرسٹ نیشنز کو بھی شراکت دار بنانے کی کوشش

حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اس منصوبے میں مقامی فرسٹ نیشنز کمیونٹیز کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مذاکرات کیے جائیں گے تاکہ انہیں منصوبے میں مکمل شراکت داری دی جا سکے۔

البرٹا کی وزیرِ اعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے اس منصوبے پر مسلسل کام کیا جا رہا تھا اور اب اسے قومی مفاد کے منصوبے (Project of National Interest) کے طور پر وفاقی حکومت کے میجر پراجیکٹس آفس میں منظوری کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق حکومت کا کردار سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد پیدا کرنا اور نجی سرمایہ کاری کے خطرات کو کم کرنا ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے تیزی سے مکمل کیے جا سکیں۔

برٹش کولمبیا کے ساتھ اہم معاہدہ

اس اعلان سے چند گھنٹے قبل وزیرِ اعظم مارک کارنی اور برٹش کولمبیا کے وزیرِ اعلیٰ ڈیوڈ ایبی نے وینکوور میں ایک اربوں ڈالر مالیت کی مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے۔

اس معاہدے کے تحت برٹش کولمبیا کے شمالی ساحل پر آئل ٹینکرز کی آمدورفت پر عائد پابندی برقرار رہے گی، تاہم اگر جنوبی راستے سے نئی پائپ لائن تعمیر کی جاتی ہے تو صوبائی حکومت اس کے خلاف عدالت سے رجوع نہیں کرے گی بلکہ اپنے آئینی فرائض کے مطابق اجازت ناموں اور راستوں سے متعلق معاملات میں نیک نیتی کے ساتھ تعاون کرے گی۔

ڈیوڈ ایبی نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ برٹش کولمبیا حکومت البرٹا کی ہر پائپ لائن تجویز کی حمایت کرتی ہے، تاہم چونکہ پائپ لائنز وفاقی دائرۂ اختیار میں آتی ہیں، اس لیے صوبہ قانونی تنازع کے بجائے آئینی ذمہ داریوں کے مطابق کام کرے گا۔

ماحولیاتی تحفظ اور مالی معاوضے کی یقین دہانی

وفاقی حکومت نے برٹش کولمبیا اور فرسٹ نیشنز کے ساتھ ابتدائی اور بامعنی مشاورت کا وعدہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ایسا مالیاتی فریم ورک تیار کیا جائے گا جس کے تحت پائپ لائن آپریٹر برٹش کولمبیا کو سالانہ رائلٹی ادا کرے گا۔

معاہدے میں ایک خصوصی ماحولیاتی ذمہ داری اور ہنگامی ردِعمل فنڈ قائم کرنے کی بھی تجویز شامل ہے، جس تک برٹش کولمبیا اور فرسٹ نیشنز دونوں کو رسائی حاصل ہوگی تاکہ کسی بھی ممکنہ ماحولیاتی نقصان کی صورت میں فوری اقدامات کیے جا سکیں۔

منصوبے کی منظوری کے لیے مقررہ مدت

وفاقی اور البرٹا حکومت کے درمیان پہلے سے طے شدہ معاہدے کے مطابق البرٹا حکومت یکم جولائی 2026 تک پائپ لائن کی باضابطہ تجویز وفاقی میجر پراجیکٹس آفس میں جمع کرائے گی، جبکہ وفاقی حکومت یکم اکتوبر 2026 تک اس منصوبے کو قومی مفاد کا منصوبہ قرار دینے کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اگر منصوبے کو منظوری مل جاتی ہے تو یہ کینیڈا کی توانائی کی صنعت، برآمدات، روزگار اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، جبکہ عالمی منڈیوں تک خام تیل کی رسائی بھی مزید بہتر ہو جائے گی۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories