وینکوور میں 60 افراد نے شہریت کا حلف اٹھایا، جذباتی مناظر، خاندانوں کی خوشیاں اور کینیڈا کے 159ویں یومِ تاسیس کی تقریبات کا آغاز
وینکوور: کینیڈا کے 159ویں یومِ تاسیس (کینیڈا ڈے) کے موقع پر برٹش کولمبیا کے شہر وینکوور میں ایک یادگار اور جذباتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 60 نئے شہریوں نے باضابطہ طور پر کینیڈا کی شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر تقریب میں شریک افراد اور ان کے اہل خانہ کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے، جبکہ پورا ہال مبارک باد، تالیاں اور خوشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔
یہ خصوصی تقریب کینیڈا پلیس کے ایک بال روم میں منعقد ہوئی، جہاں نئے شہریوں نے حلف اٹھانے کے بعد اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ تقریب میں وفاقی اور مقامی حکام کے علاوہ مختلف مقامی مقامی (Indigenous) اقوام کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔
فلپائن سے آنے والی خاتون کے جذباتی لمحات
تقریب کی سب سے یادگار شخصیات میں جینس واکر بھی شامل تھیں، جن کا تعلق فلپائن سے ہے۔ جیسے ہی وہ شہریت کا حلف لینے کے لیے اسٹیج پر پہنچیں، ان کے اہل خانہ نے پرجوش انداز میں تالیاں بجا کر اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا استقبال کیا، جس سے تقریب کا ماحول مزید جذباتی ہو گیا۔
شہریت حاصل کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جینس واکر نے کہا کہ وہ خود کو بے حد خوش نصیب اور باعزت محسوس کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ “میرے لیے یہ ایک خواب کی تعبیر ہے۔ میں اس لمحے کا تقریباً سات برس سے انتظار کر رہی تھی۔”
سات برس کا طویل سفر
جینس واکر نے بتایا کہ کینیڈا پہنچنے کے بعد سب سے پہلے انہیں مستقل رہائش (Permanent Residency) حاصل کرنے کے لیے طویل قانونی اور انتظامی مراحل سے گزرنا پڑا۔ ان کے مطابق مستقل رہائش ملنا ان کی زندگی کا ایک اہم سنگ میل ضرور تھا، لیکن کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کا احساس اس سے کہیں زیادہ منفرد اور جذباتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقل رہائشی ہونے اور مکمل شہری ہونے میں بہت فرق ہے۔
ان کے الفاظ میں، “جب آپ کینیڈا کے شہری بن جاتے ہیں تو پھر یہی ملک آپ کا حقیقی گھر بن جاتا ہے۔”
خاندان کے ساتھ خوشیوں کی تکمیل
جینس واکر نے کہا کہ اس خوشی کے موقع پر ان کے شوہر اور دونوں بیٹیاں بھی ان کے ساتھ موجود تھیں، جس کی وجہ سے یہ لمحہ ان کے لیے مزید یادگار بن گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کی محبت اور تعاون کی بدولت اس مقام تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں اور خود کو اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار سمجھتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وہ پوری ذمہ داری کے ساتھ کینیڈا کی ترقی اور معاشرے کی خدمت میں اپنا کردار ادا کریں گی۔
وفاقی اور مقامی قیادت کی شرکت
شہریت کی تقریب میں وزیر مملکت برائے کمیونٹی سیفٹی اینڈ انٹیگریٹڈ سروسز ٹیری ینگ، وینکوور کی رکن پارلیمنٹ ہیڈی فرائی اور مقامی فرسٹ نیشنز یعنی مسکیم، اسکوامش اور تسلی واتوٹھ اقوام کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
مقررین نے نئے شہریوں کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف زبانوں، مذاہب، ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ مل کر ایک مضبوط، متنوع اور پرامن معاشرہ تشکیل دیتے ہیں۔
انہوں نے نئے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کینیڈا کی جمہوری اقدار، قانون کی پاسداری، مساوات اور سماجی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔
کینیڈا ڈے کی رنگا رنگ تقریبات
شہریت کی تقریب کے فوراً بعد “کینیڈا ٹوگیدر 2026” کے عنوان سے یومِ تاسیس کی مرکزی تقریبات کا آغاز کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
تقریبات میں موسیقی، ثقافتی پروگرام، عوامی تفریح، بچوں کی سرگرمیوں اور مختلف فنکاروں کی پرفارمنس شامل تھیں۔
اس موقع پر معروف کنٹری میوزک گلوکار جوش راس نے بھی اپنی شاندار پرفارمنس پیش کی، جسے حاضرین نے بے حد سراہا۔
تنوع اور یکجہتی کا پیغام
تقریب کے منتظمین کا کہنا تھا کہ ہر سال کینیڈا ڈے پر شہریت کی تقریب منعقد کرنے کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ کینیڈا مختلف قومیتوں اور ثقافتوں کو ساتھ لے کر چلنے والا ملک ہے۔
ان کے مطابق نئے شہری صرف قانونی طور پر کینیڈا کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ اس ملک کی ترقی، معیشت، تعلیم، ثقافت اور سماجی زندگی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب میں شریک متعدد نئے شہریوں نے بھی اس بات کا اظہار کیا کہ وہ کینیڈا کو امن، مساوات، آزادی اور مواقع کی سرزمین سمجھتے ہیں اور مستقبل میں اس ملک کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔
نئے سفر کا آغاز
کینیڈا ڈے کے موقع پر شہریت حاصل کرنے والے افراد کے لیے یہ دن دوہری خوشی کا باعث بن گیا۔ ایک طرف انہوں نے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شمار ہونے والے کینیڈا کی شہریت حاصل کی، تو دوسری جانب اسی دن ملک کے قومی دن کی تقریبات میں بھی شریک ہوئے۔
منتظمین کے مطابق ایسے پروگرام نہ صرف نئے شہریوں میں اعتماد پیدا کرتے ہیں بلکہ انہیں کینیڈین معاشرے کا فعال حصہ بننے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے شہریوں کی کامیاب شمولیت ہی کینیڈا کی حقیقی طاقت، ثقافتی تنوع اور قومی یکجہتی کی بنیاد ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

