کینیڈین مٹر کے نشاستے پر 73.5 فیصد ابتدائی ٹیرف عائدیہ ٹیرف یکم جولائی سے نافذ ہوگا
بیجنگ: چین نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی کشیدگی کے درمیان ایک اور بڑا اقدام کرتے ہوئے کینیڈا سے درآمد کیے جانے والے مٹر کے نشاستے (Pea Starch) پر 73.5 فیصد ابتدائی اینٹی ڈمپنگ ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی وزارت تجارت کے مطابق یہ ٹیرف یکم جولائی سے نافذ ہوگا اور اسے عارضی اینٹی ڈمپنگ اقدامات کے تحت لاگو کیا جا رہا ہے۔
چینی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دس ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کیا گیا، جن میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ کینیڈا سے درآمد ہونے والا مٹر کا نشاستہ چین میں “ڈمپ” کیا جا رہا تھا، جس سے مقامی صنعت کو نمایاں مالی نقصان پہنچا۔
تحقیقات میں کیا سامنے آیا؟
چین کی وزارت تجارت کے جاری کردہ بیان کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کینیڈین برآمد کنندگان مٹر کے نشاستے کو غیر منصفانہ طور پر کم قیمت پر چینی مارکیٹ میں فروخت کر رہے تھے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس عمل کے باعث چینی مصنوعات کی مسابقت متاثر ہوئی اور مقامی صنعت کو معاشی نقصان اٹھانا پڑا۔
حکام کے مطابق اسی بنیاد پر ابتدائی طور پر 73.5 فیصد اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ تحقیقات کا حتمی مرحلہ مکمل ہونے کے بعد مستقل اقدامات پر غور کیا جائے گا۔
تجارتی تنازع کب شروع ہوا؟
یہ تجارتی تنازع گزشتہ سال اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب کینیڈا نے چین سے درآمد ہونے والی الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر اضافی ٹیرف عائد کیا تھا۔ اس کے جواب میں چین نے مختلف کینیڈین زرعی مصنوعات کے خلاف تجارتی تحقیقات شروع کر دیں۔
گزشتہ سال اگست میں چین نے کینیڈین کینولا (Canola) کے خلاف بھی اینٹی ڈمپنگ تحقیقات کا آغاز کیا تھا اور اسی روز مٹر کے نشاستے کے معاملے کی بھی تحقیقات شروع کی گئی تھیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
تعلقات میں بہتری کے باوجود نیا اقدام
اگرچہ رواں سال جنوری میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کے آثار نظر آئے تھے، تاہم چین کا تازہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ تجارتی اختلافات اب بھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے۔
رواں سال جنوری میں کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بیجنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں دونوں ممالک کے درمیان بعض تجارتی معاملات پر ابتدائی اتفاق رائے سامنے آیا تھا۔
اس ملاقات کے بعد چین نے کینیڈین کینولا پر عائد بعض ٹیرف میں نمایاں کمی کرنے اور چند زرعی مصنوعات پر عائد پابندیاں معطل کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ان اقدامات میں کینیڈین مٹر پر عائد 100 فیصد ڈیوٹی کو بھی معطل کرنے کا اعلان شامل تھا۔
تاہم مٹر کے نشاستے پر نئے ٹیرف نے یہ واضح کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازعات اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔
کینیڈا میں سخت سیاسی ردعمل
چین کے اس فیصلے پر کینیڈا کی اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
کنزرویٹو رہنماؤں جان بارلو، اسٹیفنی کوزی اور ایرک ڈنکن نے مشترکہ بیان میں کہا کہ چین کی جانب سے نیا ٹیرف اس بات کا ثبوت ہے کہ لبرل حکومت کی تجارتی حکمت عملی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کسانوں اور زرعی صنعت کے مفادات کا مناسب تحفظ نہیں کیا، جس کے نتیجے میں کینیڈین برآمد کنندگان مسلسل غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔
کسانوں کو نقصان کا خدشہ
کنزرویٹو رہنماؤں نے کہا کہ ان کی جماعت پہلے ہی خبردار کر چکی تھی کہ چین کے ساتھ ہونے والے حالیہ معاہدے سے یہ ضمانت نہیں ملتی کہ تمام تجارتی پابندیاں مستقل یا مکمل طور پر ختم ہو جائیں گی۔
ان کے مطابق مٹر کے نشاستے کی صنعت کو اب مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ کینیڈا کے زرعی اور سمندری خوراک کے برآمد کنندگان پہلے ہی چینی پابندیوں سے متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین اب بھی کینولا، مٹر، سور کے گوشت (Pork) اور سمندری خوراک (Seafood) سمیت کئی اہم کینیڈین مصنوعات پر تجارتی رکاوٹیں برقرار رکھے ہوئے ہے، جنہیں موجودہ حکومت ختم کرانے میں ناکام رہی ہے۔
تجارتی کشیدگی برقرار
ماہرین کا کہنا ہے کہ چین اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی تنازع دونوں ممالک کے زرعی شعبے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
چین دنیا کی بڑی زرعی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے، جبکہ کینیڈا اپنی زرعی برآمدات کا ایک اہم حصہ چینی مارکیٹ میں فروخت کرتا ہے۔ ایسے میں نئے ٹیرف نہ صرف برآمدات کو متاثر کریں گے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اعتماد کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں حکومتیں مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کرنے میں کامیاب نہ ہوئیں تو مستقبل میں مزید زرعی اور صنعتی مصنوعات بھی اس تجارتی تنازع کی زد میں آ سکتی ہیں، جس کے اثرات دونوں ممالک کی معیشت اور عالمی زرعی تجارت پر بھی مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

