اوٹاو: کینیڈا کی وفاقی وزیرِ صحت مارجوری مشیل نے پیٹنٹ ادویات کی قیمتوں کے جائزہ بورڈ (Patented Medicine Prices Review Board – PMPRB) میں دو اہم تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے تحت پیٹر مورلینڈ-گیرالڈو کو بورڈ کا نیا نائب چیئرپرسن جبکہ کونر میک کورٹ کو بورڈ کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق یہ تقرریاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب کینیڈا میں ادویات کی قیمتوں کو منصفانہ سطح پر برقرار رکھنے اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے ادارے کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
پیٹر مورلینڈ-گیرالڈو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور مختلف عدالتی و انتظامی شعبوں میں آٹھ برس کا پیشہ ورانہ تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ اکتوبر 2023 سے بورڈ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ نائب چیئرپرسن کے طور پر وہ حال ہی میں تعینات ہونے والی چیئرپرسن اینی پیرو کے ساتھ مل کر ادارے کی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور بورڈ کی پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب کونر میک کورٹ ایک ریٹائرڈ وکیل ہیں جنہیں دواسازی کے شعبے میں پیٹنٹ قوانین، صحت سے متعلق ضابطہ جاتی امور، ادویات اور حیاتیاتی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی اور قیمتوں کے تعین کے معاملات میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی مہارت بورڈ کو پیچیدہ دواسازی امور سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔
پیٹنٹ ادویات کی قیمتوں کے جائزہ بورڈ کینیڈا کی ایک آزاد اور نیم عدالتی (Quasi-Judicial) تنظیم ہے، جو پارلیمنٹ کی جانب سے 1987 میں پیٹنٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کینیڈا میں فروخت ہونے والی پیٹنٹ شدہ ادویات کی قیمتیں غیر ضروری طور پر زیادہ نہ ہوں اور صارفین کو مناسب نرخوں پر ادویات دستیاب رہیں۔
بورڈ صرف ادویات کی قیمتوں کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک میں دواسازی کی فروخت، مختلف ادویات کی قیمتوں کے رجحانات اور دوا ساز کمپنیوں کی تحقیق و ترقی پر ہونے والے اخراجات سے متعلق رپورٹس بھی جاری کرتا ہے۔
وزیرِ صحت مارجوری مشیل نے نئی تقرریوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹر مورلینڈ-گیرالڈو اور کونر میک کورٹ کی قابلیت، مہارت اور وسیع تجربہ بورڈ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں شخصیات اس اہم ادارے کے مینڈیٹ کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور کینیڈین شہریوں کو مناسب قیمتوں پر پیٹنٹ ادویات کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔
وزیرِ صحت نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت اہم قومی اداروں میں تقرریوں کے لیے شفاف، کھلے اور میرٹ پر مبنی نظام پر عمل پیرا ہے تاکہ عوامی مفاد کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔
حکومت کے مطابق یکم جنوری 2026 سے پی ایم پی آر بی کی نئی گائیڈ لائنز نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد ادویات کی قیمتوں کی نگرانی کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنانا ہے۔ اگر کسی دوا کی قیمت کے حوالے سے خدشات سامنے آئیں تو بورڈ کا عملہ چیئرپرسن کو باقاعدہ سماعت کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں بورڈ کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔ نئی تقرریوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ ادارہ ادویات کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی برقرار رکھتے ہوئے صارفین اور صحت کے شعبے کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔
یاد رہے کہ کینیڈا میں گورنر اِن کونسل کے ذریعے کی جانے والی تقرریاں قومی کمیشنز، بورڈز، سرکاری اداروں اور ٹریبونلز کے مؤثر انتظام و انصرام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، اور انہیں ملکی جمہوری نظام کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
کینیڈا حکومت کی جانب سے پیٹنٹ ادویات کی قیمتوں کے جائزہ بورڈ میں نئی تقرریوں کا اعلان
اوٹاوا (ویب نیوز): کینیڈا کی وفاقی وزیرِ صحت مارجوری مشیل نے پیٹنٹ ادویات کی قیمتوں کے جائزہ بورڈ (Patented Medicine Prices Review Board – PMPRB) میں دو اہم تقرریوں کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے تحت پیٹر مورلینڈ-گیرالڈو کو بورڈ کا نیا نائب چیئرپرسن جبکہ کونر میک کورٹ کو بورڈ کا رکن مقرر کیا گیا ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق یہ تقرریاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب کینیڈا میں ادویات کی قیمتوں کو منصفانہ سطح پر برقرار رکھنے اور صارفین کے مفادات کے تحفظ کے لیے ادارے کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
پیٹر مورلینڈ-گیرالڈو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں اور مختلف عدالتی و انتظامی شعبوں میں آٹھ برس کا پیشہ ورانہ تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ اکتوبر 2023 سے بورڈ کے رکن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ نائب چیئرپرسن کے طور پر وہ حال ہی میں تعینات ہونے والی چیئرپرسن اینی پیرو کے ساتھ مل کر ادارے کی ذمہ داریاں نبھائیں گے اور بورڈ کی پالیسی سازی اور نگرانی کے عمل میں اہم کردار ادا کریں گے۔
دوسری جانب کونر میک کورٹ ایک ریٹائرڈ وکیل ہیں جنہیں دواسازی کے شعبے میں پیٹنٹ قوانین، صحت سے متعلق ضابطہ جاتی امور، ادویات اور حیاتیاتی مصنوعات کی مارکیٹ تک رسائی اور قیمتوں کے تعین کے معاملات میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کی مہارت بورڈ کو پیچیدہ دواسازی امور سے نمٹنے میں مدد فراہم کرے گی۔
پیٹنٹ ادویات کی قیمتوں کے جائزہ بورڈ کینیڈا کی ایک آزاد اور نیم عدالتی (Quasi-Judicial) تنظیم ہے، جو پارلیمنٹ کی جانب سے 1987 میں پیٹنٹ ایکٹ کے تحت قائم کی گئی تھی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کینیڈا میں فروخت ہونے والی پیٹنٹ شدہ ادویات کی قیمتیں غیر ضروری طور پر زیادہ نہ ہوں اور صارفین کو مناسب نرخوں پر ادویات دستیاب رہیں۔
بورڈ صرف ادویات کی قیمتوں کی نگرانی تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک میں دواسازی کی فروخت، مختلف ادویات کی قیمتوں کے رجحانات اور دوا ساز کمپنیوں کی تحقیق و ترقی پر ہونے والے اخراجات سے متعلق رپورٹس بھی جاری کرتا ہے۔
وزیرِ صحت مارجوری مشیل نے نئی تقرریوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹر مورلینڈ-گیرالڈو اور کونر میک کورٹ کی قابلیت، مہارت اور وسیع تجربہ بورڈ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں شخصیات اس اہم ادارے کے مینڈیٹ کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے اور کینیڈین شہریوں کو مناسب قیمتوں پر پیٹنٹ ادویات کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔
وزیرِ صحت نے اس موقع پر اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت اہم قومی اداروں میں تقرریوں کے لیے شفاف، کھلے اور میرٹ پر مبنی نظام پر عمل پیرا ہے تاکہ عوامی مفاد کا بہتر تحفظ کیا جا سکے۔
حکومت کے مطابق یکم جنوری 2026 سے پی ایم پی آر بی کی نئی گائیڈ لائنز نافذ العمل ہو چکی ہیں۔ ان رہنما اصولوں کا مقصد ادویات کی قیمتوں کی نگرانی کے طریقہ کار کو مزید شفاف بنانا ہے۔ اگر کسی دوا کی قیمت کے حوالے سے خدشات سامنے آئیں تو بورڈ کا عملہ چیئرپرسن کو باقاعدہ سماعت کی سفارش بھی کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں بورڈ کی ذمہ داریاں پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہیں۔ نئی تقرریوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ ادارہ ادویات کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی برقرار رکھتے ہوئے صارفین اور صحت کے شعبے کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔
یاد رہے کہ کینیڈا میں گورنر اِن کونسل کے ذریعے کی جانے والی تقرریاں قومی کمیشنز، بورڈز، سرکاری اداروں اور ٹریبونلز کے مؤثر انتظام و انصرام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، اور انہیں ملکی جمہوری نظام کا ایک اہم حصہ تصور کیا جاتا ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

