کینیڈا

ایئر کینیڈا کے سابق کپتان پر جعلی لائسنس کے ذریعے دہائیوں تک پروازیں چلانے کا الزام

📷 Former Air Canada captain accused of operating flights for decades with fake license

ایئر کینیڈا کے سابق کپتان پر جعلی لائسنس کے ذریعے دہائیوں تک پروازیں چلانے کا الزام

کینیڈا کی پیل ریجنل پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ ایئر کینیڈا کے ایک سابق کپتان نے مبینہ طور پر جعلی لائسنسنگ دستاویزات کے ذریعے کئی دہائیوں تک سینکڑوں پروازیں اڑائیں۔ پولیس کے مطابق یہ معاملہ 2009 سے متعلق ہے اور مذکورہ پائلٹ نے ایئر کینیڈا میں 27 سالہ کیریئر کے دوران اہم ذمہ داریاں انجام دیں۔

پیل ریجنل پولیس کے ڈپٹی چیف نک میلینووچ نے منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے تقریباً 17 برس تک 900 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کی کمان سنبھالی، جن میں دسیوں ہزار مسافروں نے سفر کیا۔ اس دوران وہ لاکھوں ڈالر تنخواہ اور مراعات کی صورت میں حاصل کرتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیقات کی تفصیلات کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ ملزم کے پاس مسافر بردار طیارے اڑانے کے لیے درکار ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس (ATPL) موجود نہیں تھا، حالانکہ یہ لائسنس کمرشل ایئرلائنز میں کپتان کے طور پر خدمات انجام دینے کے لیے لازمی قرار دیا جاتا ہے۔

قائم مقام ڈٹیکٹو سارجنٹ چیڈ مچل کے مطابق تحقیقات کا آغاز رواں سال جنوری میں اس وقت ہوا جب ٹرانسپورٹ کینیڈا نے ایک ریگولیٹری تحقیقات مکمل کرنے کے بعد پولیس کو معاملے سے آگاہ کیا۔ ان کے مطابق مارچ 2025 میں ٹورنٹو کے پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک آپریشنل جائزے کے دوران پائلٹ کی لائسنسنگ دستاویزات میں بے ضابطگیاں اور کارکردگی سے متعلق سوالات سامنے آئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے نہ صرف اپنے آجر یعنی ایئر کینیڈا بلکہ ریگولیٹری اداروں کو بھی اپنی اہلیت کے بارے میں گمراہ کیا۔ تحقیقات کے مطابق اس نے مبینہ طور پر اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش بھی کی اور اس مقصد کے لیے ایک جھوٹی پولیس رپورٹ درج کرانے کی کوشش کی۔

پولیس نے پائلٹ کے پورے کیریئر کا جائزہ لیا، جو 1998 میں شروع ہوا اور 2025 میں اس کی ریٹائرمنٹ پر ختم ہوا۔ تحقیقات میں اس کے تربیتی ریکارڈ، لائسنسنگ دستاویزات اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔

دوسری جانب ایئر کینیڈا نے پیر کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مذکورہ شخص مکمل تربیت یافتہ پائلٹ تھا، اس کے پاس ایک درست کمرشل پائلٹ لائسنس موجود تھا اور وہ لازمی تربیتی تقاضوں پر پورا اترتا تھا بلکہ کئی معاملات میں ان سے آگے تھا۔

ایئر کینیڈا کے مطابق جیسے ہی کمپنی کو اس معاملے کا علم ہوا، متعلقہ پائلٹ کو فعال ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا اور معاملہ رضاکارانہ طور پر ٹرانسپورٹ کینیڈا کے نوٹس میں لایا گیا۔ کمپنی نے زور دے کر کہا کہ اس واقعے سے فضائی حفاظت متاثر نہیں ہوئی کیونکہ اس کے تمام پائلٹس ہر چھ ماہ بعد لازمی تربیت حاصل کرتے ہیں جبکہ ہر 12 ماہ بعد ٹرانسپورٹ کینیڈا سے تصدیق شدہ چیک پائلٹ کے ذریعے فلائٹ ٹیسٹ بھی دیا جاتا ہے۔

تاہم ایئر کینیڈا نے یہ بھی تسلیم کیا کہ درست اور قانونی لائسنسنگ فضائی صنعت کے حفاظتی نظام کا ایک بنیادی جزو ہے، اس لیے کمپنی اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

کمپنی نے مزید کہا کہ داخلی جائزے کے دوران اسے اپنے دیگر پائلٹس میں اس نوعیت کی کسی اور خلاف ورزی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ایئر کینیڈا کے مطابق کینیڈا کے ضوابط کے تحت بڑی کمرشل پروازوں کے کپتانوں کے لیے ایئر لائن ٹرانسپورٹ پائلٹ لائسنس کا حصول لازمی ہے، جس کے لیے متعدد تحریری امتحانات اور دیگر شرائط پوری کرنا ضروری ہوتی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ جعلی دستاویزات کس طرح استعمال کی گئیں اور آیا اس معاملے میں مزید افراد بھی ملوث تھے یا نہیں۔ یہ مقدمہ کینیڈا کی فضائی صنعت میں لائسنسنگ اور نگرانی کے نظام سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا رہا ہے، جس پر متعلقہ ادارے مزید غور کر رہے ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories