شہید ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی نمازِ جنازہ اور تدفین عاشورۂ محرم کے بعد ہوگی، ایرانی میڈیا
تہران: ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں شہید ہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین عاشورۂ محرم کے بعد انجام دی جائے گی۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ اور تدفین کی حتمی تاریخ اور وقت کا ابھی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین اور نمازِ جنازہ سے متعلق تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری 2026 کو تہران میں آیت اللہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر ہونے والی شدید بمباری میں وہ شہید ہوگئے تھے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ نے حملے کے اگلے روز ان کی شہادت کی تصدیق کی تھی، جس کے بعد پورے ایران میں سوگ کی فضا قائم ہوگئی تھی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ان کے صاحبزادے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا نیا رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا۔ اس اعلان کے بعد ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں نئی قیادت کے حوالے سے مختلف ردِعمل سامنے آئے تھے۔
چند روز قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ بمباری کے روز وہ بھی آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھے۔ ان کے مطابق حملہ انتہائی شدید نوعیت کا تھا اور اس کے نتیجے میں عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
ایرانی ذرائع کے مطابق شہید رہبرِ اعلیٰ کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں ملک بھر سے لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ مختلف اسلامی ممالک کے سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی بھی شرکت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران میں محرم الحرام کے ایام کے باعث سوگ کی تقریبات جاری ہیں اور اطلاعات کے مطابق عاشورہ کے بعد آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ نمازِ جنازہ اور تدفین کے مقام اور دیگر تفصیلات کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

