کمیونٹی

جماعت اسلامی ہند اور اے پی سی آر کے اعلیٰ سطحی وفد کا توپسیہ اور بنگال کے مختلف اضلاع کا دورہ

Image credit unavailable

بلڈوزر کارروائیوں کا سامنا کر رہے متاثرین سے ملاقات اور قانونی تحفظ کا مطالبہ

نئی دہلی: بنگال میں اسمبلی انتخاب کے بعد وہاں کی زمینی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے جماعت اسلامی ہند اور اے پی سی آر کا ایک وفد ان دنوں ریاست کے دورے پر ہے ۔ اس وفد میں جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان ، اے پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان ، ڈاکٹر مسیح الرحمان امیر حلقہ مغربی بنگال اور دیگر سماجی کارکنان شامل ہیں ۔وفد میں شامل افراد نے ریاست کےمختلف علاقوں میں مقامی افراد سے ملاقاتیں کیں اور عوامی مسائل خصوصاً توپسیہ میں مجوزہ بلڈوزر کارروائیوں کی روک تھام کے لیے تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ توپسیہ میں انتخابی نتائج کے فوراً بعد بلڈوزر کارروائی کی کوشش کی گئی جس پر عوامی احتجاج اور کورٹ کے اسٹے آرڈر کے بعد وقتی طور پر روک لگا دی گئی ہے۔لیکن اس کے با وجود ہزاروں گھروں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔ بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف مناسب اقدام نہ ہونے کی وجہ سے تقریباً پندرہ ہزار افراد کے بے گھر ہو جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔ جماعت اسلامی ہند اور اے پی سی آر نے بنگال حکومت کے اس اقدام پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور توپسیہ کے باشندوں کو یقین دلایا کہ انہدامی کارروائی کے سلسلے میں ان کی ہر ممکن قانونی اور اخلاقی مدد کی جائے گی۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے توپسیا کے عوام سے ملاقات کے دوران جماعت کی جانب سے ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔اس موقع پر ای پی سی آر کے قومی سکریٹری ندیم خان نے مسئلے کے قانونی پہلوؤں پر متاثرین اور وکلا سے گفتگو کی اور مستقبل میں قانونی کارروائیوں کے سلسلے میں مقامی افراد کو قانونی امداد کا بھروسا دلایا ۔اس موقع پر کولکاتا میں مسلم تنظیموں کے قائدین کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا ۔اس اجلاس میں بنگال کی تمام جماعتی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایک ڈھیلا ڈھالا مشترکہ نیٹ ورک قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس موقع پر بنگال کے مالدہ علاقے میں جماعت اسلامی ہند کے وفد کی جانب سے مختلف پروگرام منعقد کئے گئے ۔ ان پروگراموں میں بڑی تعداد میں مقامی باشندوں نے شرکت کی اور در پیش مسائل پر گفتگو کی۔مقامی باشندوں کی شراکت سے ہونے والے ان پروگراموں میں جماعت اسلامی ہند کے ناظمِ ضلع، امیرِ مقامی، ایس آئی او، جی آئی او اور سالیڈیریٹی سے تعلق رکھنے والے عہدے داران نے شرکت کی۔ ان اجلاس میں کوچ بہار، جلپائی گڑی، دارجلنگ، دیناج پور اور مالدہ کے ذمہ داران کے علاوہ مقامی افراد بھی شامل ہوئے۔ مالدہ میں وکلاء ، دانشوروں اوراطراف کے اضلاع کے سماجی کارکنوں کے ساتھ بھی ایک اہم نشست منعقد کی گئی ۔ اس نشست میں موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بنگال کے مسلم اکثریتی علاقے مرشد آباد میں ندیہ اور بیر بھوم میں مقامی لوگوں سے ملاقتیں کرکے ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی گئی ۔ مرشد آباد میں دانشوروں اور وکلاء کے ایک وفد سے بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر ملک معتصم خان نے کہا کہ بنگال حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے تمام باشندوں کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرے اور ان کو قانونی تحفظ فراہم کرے ۔اسی میں بنگال کی ترقی اور بھلائی مضمر ہے ۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories