کینیڈا

ویسٹ بینک میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد میں ملوث افراد اور تنظیموں پر کینیڈا کی پابندیوں کا پانچواں دور

📷 Canada imposes fifth round of sanctions on facilitators of extremist settler violence against civilians in West Bank

ویسٹ بینک میں انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد میں ملوث افراد اور تنظیموں پر کینیڈا کی پابندیوں کا پانچواں دور

اوٹاوا: کینیڈا نے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں فلسطینی شہریوں کے خلاف انتہا پسند آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پابندیوں کے ایک اور دور کا اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بتایا کہ حکومت نے خصوصی اقتصادی اقدامات (انتہا پسند آبادکار تشدد) ضوابط کے تحت دو افراد اور پانچ اداروں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

وزیر خارجہ کے مطابق پابندیوں کا سامنا کرنے والے افراد اور ادارے براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فلسطینی شہریوں یا ان کی املاک کے خلاف انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے کیے جانے والے تشدد، اس کی معاونت، مالی مدد یا اس کے فروغ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ کینیڈا کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی خطے میں امن و استحکام کے قیام اور بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کے لیے ضروری ہے۔

کینیڈین حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ مغربی کنارے میں انتہا پسند آبادکاروں کی کارروائیاں خطے کی صورتحال کو مزید غیر مستحکم بنا رہی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں فلسطینی برادریوں کی جبری نقل مکانی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف فلسطینیوں بلکہ اسرائیلیوں کے لیے بھی عدم تحفظ میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

کینیڈا نے اس تازہ اقدام کے ذریعے آسٹریلیا، فرانس، ناروے اور برطانیہ کے ساتھ مل کر مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی شہریوں اور ان کی املاک کے خلاف ہونے والے تشدد کے حالیہ واقعات پر مشترکہ ردعمل دیا ہے۔ ان ممالک کا مؤقف ہے کہ انتہا پسند آبادکاروں اور ان سے وابستہ عناصر کی سرگرمیاں خطے میں کشیدگی اور بدامنی کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔

اوٹاوا نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں کی توسیع کی مخالفت کرتا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسے جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کا حامی ہے جس میں اسرائیلی اور فلسطینی دونوں امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

کینیڈا نے 16 مئی 2024 کو “اسپیشل اکنامک میژرز (ایکسٹریمسٹ سیٹلر وائلنس) ریگولیشنز” متعارف کرائے تھے، جن کے تحت انتہا پسند آبادکاروں کے تشدد میں ملوث افراد اور اداروں پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ تازہ پابندیوں کے بعد کینیڈا اب تک پانچ مختلف مراحل میں مجموعی طور پر 19 افراد اور 12 اداروں کو بلیک لسٹ کر چکا ہے۔

بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق 2025 مغربی کنارے میں تشدد کے حوالے سے اب تک کا سب سے پرتشدد سال ثابت ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 کے دوران فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند آبادکاروں کے کم از کم 1800 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں جانی و مالی نقصان کے متعدد واقعات شامل ہیں۔

کینیڈا نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 1967 میں اسرائیل کے زیر قبضہ آنے والے علاقوں پر مستقل اسرائیلی کنٹرول کو تسلیم نہیں کرتا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے مطابق متنازع ہے اور ان کے مستقبل کا فیصلہ مذاکرات کے ذریعے ہونا چاہیے۔

بیان میں 1949 کے چوتھے جنیوا کنونشن کا بھی حوالہ دیا گیا، جس کے تحت جنگ یا قبضے کی صورتحال میں شہری آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانا لازم قرار دیا گیا ہے۔ کینیڈا کے مطابق یہ کنونشن مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر لاگو ہوتا ہے اور اسرائیل پر بطور قابض طاقت وہاں کے شہریوں کے انسانی اور قانونی حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔

کینیڈین حکومت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں 446 (1979) اور 465 (1980) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیاں چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی تصور کی جاتی ہیں۔ ان قراردادوں کے مطابق بستیوں کی تعمیر اور توسیع مشرقِ وسطیٰ میں ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا امن کے حصول کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ کینیڈا کی جانب سے پابندیوں کے اس نئے دور کا مقصد مغربی کنارے میں بڑھتے ہوئے تشدد پر دباؤ بڑھانا اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فلسطینی علاقوں میں جاری کشیدگی اور بستیوں کے مسئلے پر عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories