آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، عملہ محفوظ
دبئی: آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا ایک AH-64 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر منگل کی صبح حادثے کا شکار ہو گیا، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار دونوں اہلکار محفوظ رہے اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔
امریکی حکام کے مطابق حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً ساڑھے تین بجے عمان کے ساحل کے قریب ایک معمول کی گشتی پرواز کے دوران پیش آیا۔ واقعے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائی شروع کی گئی اور دو گھنٹوں کے اندر دونوں اہلکاروں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بعد میں جاری بیان میں تصدیق کی کہ دونوں اہلکاروں کی حالت مستحکم ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حادثے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ پائلٹ مکمل طور پر محفوظ ہیں اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ صدر ٹرمپ کے مطابق واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور اس حوالے سے تفصیلی رپورٹ جاری کی جائے گی۔
تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر حادثے کی اصل وجہ کیا تھی۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے بھی منگل کے روز رپورٹ کیا کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی یونٹس کے کم از کم دو اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ حملے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تسلسل کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے آغاز کے بعد خطے میں جنگی صورتحال نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس تنازع نے دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ کیا، جبکہ خوراک سمیت روزمرہ استعمال کی کئی بنیادی اشیاء بھی مہنگی ہو گئی ہیں۔
اگرچہ اپریل میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم اب تک فریقین مستقل اور جامع امن معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ دوسری جانب اسرائیل نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
فوجی ماہرین کے مطابق AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر امریکی فوج کے اہم ترین جنگی اثاثوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں ان ہیلی کاپٹروں کو ایران کی تیل بردار سرگرمیوں کی نگرانی اور بعض اوقات ان پر پابندیوں کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے اس کی خام تیل کی برآمدات اور بحری نقل و حمل کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج بھی اپاچی ہیلی کاپٹروں کو استعمال کرتے ہوئے ایران سے منسلک ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کے لیے کارروائیاں کرتی رہی ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہیلی کاپٹروں کی موجودگی خلیجی خطے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ خطے میں کسی بھی قسم کا فوجی واقعہ یا کشیدگی عالمی توانائی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، اسی لیے اس علاقے میں پیش آنے والے واقعات پر دنیا بھر کی نظریں مرکوز رہتی ہیں۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا کسی اور وجہ سے پیش آیا۔ تاہم ابتدائی طور پر کسی دشمن کارروائی یا حملے کے شواہد سامنے نہیں آئے ہیں۔
حادثے کے باوجود امریکی فوج نے واضح کیا ہے کہ خطے میں اس کی معمول کی نگرانی اور سیکیورٹی سرگرمیاں جاری رہیں گی اور آبنائے ہرمز سمیت اہم بحری راستوں کی نگرانی میں کوئی خلل نہیں آئے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

