دنیا

ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہورہی ہے، دو تین دن تک معاہدہ ہوسکتا ہے: ٹرمپ

📷 Progress is being made in talks with Iran, deal could be reached in two to three days: Trump

ایران کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہورہی ہے، دو تین دن تک معاہدہ ہوسکتا ہے: ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی رابطوں میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات موجودہ رفتار سے آگے بڑھتے رہے تو آئندہ دو سے تین دن کے اندر کسی اہم پیش رفت یا ابتدائی معاہدے کا اعلان سامنے آ سکتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران بعض اہم شرائط پر آمادگی ظاہر کر رہا ہے اور متعدد معاملات تیزی سے حتمی مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سفارتی ذرائع سے رابطے جاری ہیں اور بات چیت کا سلسلہ مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی میں بھی وقتی کمی آئی ہے اور دونوں جانب سے محدود وقفے پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں خطے کی مجموعی صورتحال میں کچھ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت سفارتی کوششوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے کا ایک اہم مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ ان کے بقول اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کم ہوں گے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں بھی نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی حل ہمیشہ فوجی تصادم سے زیادہ مؤثر اور دیرپا ثابت ہوتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد ممالک بھی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور خطے میں استحکام کے لیے مختلف سطحوں پر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق کئی علاقائی طاقتیں بھی کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی حمایت کر رہی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی معیشت کو درپیش مشکلات اور بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ نے تہران کو مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ امریکہ خود کو مذاکراتی عمل میں مضبوط پوزیشن میں دیکھتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں فریقوں کے درمیان مسلسل پیغامات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور اگر یہی پیش رفت برقرار رہی تو جلد ایک باضابطہ معاہدہ سامنے آ سکتا ہے۔

تاہم سیاسی اور بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اور ایران کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات میں بعض نکات پر اب بھی ابہام پایا جاتا ہے، جس کے باعث مذاکرات کے حتمی نتائج کے بارے میں کوئی فیصلہ کن رائے قائم کرنا قبل از وقت ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان کوئی جامع معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سفارت کاری پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری کی نظریں اس وقت واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیوں پر مرکوز ہیں۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories