کینیڈا

کیوبیک میں کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کا بل پیش

Image credit unavailable

کیوبیک میں کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کا بل پیش

مونٹریال: کینیڈا کے صوبہ کیوبیک میں حکومت نے نوجوانوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے انرجی ڈرنکس کی فروخت محدود کرنے کے لیے نیا قانون متعارف کرا دیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت Sonia Bélanger نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کیا، جس کا مقصد کم عمر افراد پر انرجی ڈرنکس کے ممکنہ مضر اثرات کو روکنا ہے۔”نوجوانوں کی صحت پر انرجی ڈرنکس کے مضر اثرات کی روک تھام کا قانون” کے عنوان سے پیش کیے گئے اس بل کے تحت 16 سال سے کم عمر افراد کو انرجی ڈرنکس فروخت کرنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔ یہ پابندی نہ صرف دکانوں بلکہ آن لائن فروخت اور وینڈنگ مشینوں پر بھی لاگو ہوگی۔ اس کے علاوہ اگر کوئی کم عمر فرد ان قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر 100 ڈالر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔وزیر صحت سونیا بیلانجر نے اس موقع پر کہا کہ انرجی ڈرنکس کے استعمال سے جڑے خطرات کو اکثر کم اہمیت دی جاتی ہے، حالانکہ یہ ایک سنجیدہ اور تشویشناک عوامی صحت کا مسئلہ بن چکا ہے۔اس قانون سازی کی ضرورت اس وقت شدت سے محسوس کی گئی جب 2024 میں 15 سالہ Zachary Miron کی موت کا واقعہ سامنے آیا۔ رپورٹ کے مطابق زیکری میرون نے اے ڈی ایچ ڈی کی دوا لینے کے دوران انرجی ڈرنک استعمال کی تھی، جس کے نتیجے میں کیفین اور دوا کے امتزاج نے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی (اریٹھمیا) پیدا کی اور ان کی اچانک موت واقع ہو گئی۔کورونر کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ کیفین اور دوا کے ملاپ نے ممکنہ طور پر اس مہلک صورتحال کو جنم دیا۔ اس واقعے کے بعد نوجوانوں میں انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی کے مطالبات میں تیزی آئی۔زیکری میرون کے والدین، ڈیوڈ میرون اور ویرونیکا مارٹینز، بھی اس موقع پر قومی اسمبلی میں موجود تھے، جہاں انہوں نے صوبائی قیادت سے ملاقات کی۔ کیوبیک کی وزیراعظم Christine Fréchette نے اس موقع پر کہا کہ والدین کی ہمت اور جدوجہد ہی اس قانون سازی کا باعث بنی ہے، جس پر میرون کی والدہ نے اسے ایک درست اقدام قرار دیا۔تاہم اس مجوزہ قانون کو سیاسی سطح پر مکمل اتفاقِ رائے حاصل نہیں ہے۔ کیوبیک کی کنزرویٹو پارٹی کی رکن اسمبلی Maïté Blanchette Vézina نے کہا ہے کہ وہ اس بل کو جلد بازی میں منظور کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سی اشیاء ایسی ہیں جو ادویات کے ساتھ ردعمل پیدا کرتی ہیں، لیکن ان پر پابندی نہیں لگائی جاتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ وہ مکمل پابندی کے خلاف نہیں، تاہم اس معاملے پر مزید بحث اور ماہرین کی رائے لینا ضروری ہے۔ اس حوالے سے کیوبیک کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ Éric Duhaime نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ قانون سازی سے قبل ڈاکٹروں، فارماسسٹ، صنعت کے نمائندوں اور دکانداروں سے مشاورت کی جائے۔ادھر دیگر سیاسی جماعتوں، تعلیمی اداروں، والدین، صحت عامہ کی تنظیموں اور نوجوانوں کے کھیلوں سے وابستہ حلقوں نے اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ ایک معروف فارمیسی چین نے بھی گزشتہ ماہ اپنی دکانوں سے انرجی ڈرنکس ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ماہرین کے مطابق اگر یہ قانون منظور ہو جاتا ہے تو یہ نوجوانوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا، تاہم اس کے اطلاق اور اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اسے کس حد تک مؤثر طریقے سے نافذ کیا جاتا ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories