دنیا

یورپی یونین کے ایراسمس پلس پروگرام میں پاکستان مسلسل پانچویں سال سرفہرست

📷 Pakistan tops the European Union's Erasmus Plus program for the fifth consecutive year

یورپی یونین کے ایراسمس پلس پروگرام میں پاکستان مسلسل پانچویں سال سرفہرست

اسلام آباد: پاکستان نے یورپی یونین کے معروف تعلیمی اور تبادلہ پروگرام ایراسمس پلس (Erasmus Plus) میں مسلسل پانچویں سال بھی شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ اس کامیابی کے تحت پاکستان کے 98 طلبہ و طالبات نے باوقار بین الاقوامی اسکالرشپس حاصل کی ہیں، جو ملک کے تعلیمی شعبے کے لیے ایک اہم اعزاز قرار دیا جا رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یورپی یونین نے رواں سال اپنے ایراسمس پلس پروگرام کے تحت مجموعی طور پر ایک ہزار 872 اسکالرشپس کا اعلان کیا تھا، جن کے لیے دنیا کے مختلف ممالک کے ہزاروں طلبہ نے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔ سخت مقابلے کے باوجود پاکستانی طلبہ نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ 98 اسکالرشپس اپنے نام کیں۔

اس فہرست میں بنگلہ دیش 80 اسکالرشپس کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ بھارت 75 اسکالرشپس حاصل کرکے تیسرے مقام پر رہا۔ یوں جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنی برتری ثابت کردی۔

ماہرین تعلیم کے مطابق ایراسمس پلس پروگرام دنیا کے ممتاز تعلیمی پروگراموں میں شمار ہوتا ہے، جس کے تحت منتخب طلبہ کو یورپ کی معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور بین الاقوامی تعلیمی تجربات حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام نہ صرف تعلیمی معیار کو بہتر بناتا ہے بلکہ مختلف ممالک کے طلبہ کے درمیان ثقافتی اور علمی روابط کو بھی فروغ دیتا ہے۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلسل پانچ سالہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کے نوجوان عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ کی یہ کامیابی ان کی محنت، تعلیمی استعداد اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کارکردگی کی عکاس ہے۔

ماہرین کے مطابق ایراسمس پلس اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو یورپ کی مختلف یونیورسٹیوں میں ماسٹرز اور دیگر اعلیٰ تعلیمی پروگراموں میں شرکت کا موقع ملتا ہے، جہاں وہ جدید تحقیق، نئی ٹیکنالوجی اور عالمی تعلیمی رجحانات سے آگاہ ہوتے ہیں۔ بعد ازاں یہ طلبہ اپنے تجربات اور مہارتوں کو پاکستان میں استعمال کرکے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تعلیمی ماہرین نے اس کامیابی کو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور طلبہ کی مسلسل محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی پاکستانی نوجوان بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے رہیں گے۔

پاکستان کی مسلسل پانچویں سال پہلی پوزیشن نے نہ صرف ملک کا وقار بلند کیا ہے بلکہ عالمی تعلیمی میدان میں پاکستانی طلبہ کی صلاحیتوں اور قابلیت کا ایک بار پھر بھرپور اعتراف بھی کیا ہے۔

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories