قومی سطح پر جاری طلبہ احتجاج کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے جاری طلبہ تحریک کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے
نئی دہلی: قومی سطح پر جاری طلبہ احتجاج کے بعد ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے جاری طلبہ تحریک کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے جنتر منتر سمیت ملک بھر میں جاری اپنے طلبہ و نوجوانوں کے “Gen-Z” احتجاجی تحریک کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سی جے پی کی جانب سے جاری بیان میں ملک بھر کے طلبہ، طالبات اور نوجوانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پرامن انداز میں اپنے گھروں کو واپس جائیں، جبکہ تنظیم جلد آئندہ کی حکمتِ عملی سے متعلق عوام کو آگاہ کرے گی۔
وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ
سی جے پی کے مطابق حکومت نے طلبہ کے شدید احتجاج اور عوامی دباؤ کے بعد مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کے مطالبات کے حوالے سے یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔
تنظیم کے رہنماؤں نے کہا کہ یہ استعفیٰ صرف ایک فرد کی تبدیلی نہیں بلکہ ملک کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے آغاز کی علامت ہے۔
حکومت نے کئی مطالبات تسلیم کر لیے
سی جے پی کے مطابق حکومت نے طلبہ کے متعدد اہم مطالبات منظور کر لیے ہیں، جن میں شامل ہیں:
مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ۔
پیپر لیک کے باعث خودکشی کرنے والے متاثرہ طلبہ کے اہلِ خانہ کو مالی معاوضہ دینے کا اعلان۔
دہلی سمیت تمام بی جے پی یا این ڈی اے حکومت والی ریاستوں میں احتجاجی طلبہ کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لینے کا فیصلہ۔
آئندہ احتجاج سے وابستہ کسی بھی طالب علم یا منتظم کے خلاف نئی ایف آئی آر یا قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی۔
تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں تبدیلی کے لیے سی جے پی کی جانب سے پیش کردہ پانچ نکاتی چارٹر پر مسلسل مذاکرات اور عمل درآمد۔
پیپر لیک کے مقدمات کی فوری سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ۔
پیپر لیک کی روک تھام کے لیے سخت قانون سازی کی تیاری۔
مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان
حکومت کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے کے بعد سی جے پی کے نمائندوں نے مرکزی وزراء کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
اس موقع پر سینئر مرکزی وزیر جے پی نڈا نے اعلان کیا کہ حکومت طلبہ کے اہم مطالبات پر مثبت فیصلہ کر چکی ہے اور ان پر عمل درآمد کا عمل شروع کیا جائے گا۔
اس اعلان کے فوراً بعد سی جے پی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
> “ہم تمام طلبہ، طالبات اور نوجوانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پرامن طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ آئندہ کی حکمتِ عملی مناسب وقت پر عوام کے سامنے پیش کی جائے گی۔”
پولیس کارروائی پر قانونی ایکشن کا اعلان
سی جے پی نے اپنے اسٹیج سے اعلان کیا کہ احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد اور سخت کارروائی کرنے والے پولیس افسران کی تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے تمام افسران کی فہرست تیار کی جائے گی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی بھی احتجاج کے دوران طاقت کے مبینہ غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
طلبہ تحریک کا پس منظر
واضح رہے کہ سی جے پی گزشتہ کئی ہفتوں سے نیٹ امتحان میں مبینہ پیپر لیک، امتحانی نظام میں شفافیت، طلبہ کی اموات، اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر جنتر منتر سمیت ملک بھر میں احتجاج کر رہی تھی۔
احتجاج کے دوران پارلیمنٹ مارچ، پولیس کے ساتھ جھڑپیں، متعدد طلبہ کی گرفتاری، اور سیاسی جماعتوں و سماجی شخصیات کی حمایت بھی سامنے آئی تھی، جس کے بعد حکومت پر مذاکرات کا دباؤ بڑھتا گیا۔
آئندہ اصلاحات پر نظریں
اگرچہ احتجاج ختم کر دیا گیا ہے، تاہم اب تمام نظریں حکومت کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد پر مرکوز ہیں۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امتحانی نظام میں شفافیت، سخت قانون سازی اور ادارہ جاتی اصلاحات واقعی نافذ کی جاتی ہیں تو اس سے ملک کے لاکھوں طلبہ کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
سی جے پی نے واضح کیا ہے کہ وہ حکومت کی ہر پیش رفت پر نظر رکھے گی اور اگر وعدوں پر عمل نہ ہوا تو آئندہ کے لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

