کینیڈین شہریت بذریعہ نسب کے دعوے میں دو دستاویزات سب سے اہم، آئی آر سی سی نے نئے قواعد بھی نافذ کر دیے
اوٹاوا: کینیڈا کی شہریت بذریعہ نسب (Citizenship by Descent) حاصل کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (IRCC) نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ درخواست کے ساتھ مختلف دستاویزات جمع کرانا ضروری ہوتا ہے، تاہم دو دستاویزات سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ ان میں پیدائش کا سرٹیفکیٹ (یا بپتسمہ کا ریکارڈ) اور شادی کا سرٹیفکیٹ شامل ہیں، کیونکہ یہی دستاویزات خاندانی سلسلہ ثابت کرنے اور شہریت کے دعوے کو مضبوط بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
شہریت بذریعہ نسب کے لیے خاندانی ربط ثابت کرنا ضروری
آئی آر سی سی کے مطابق شہریت بذریعہ نسب کا دعویٰ دراصل ایک مسلسل خاندانی سلسلہ ثابت کرنے پر مبنی ہوتا ہے۔ درخواست گزار کو یہ دکھانا ہوتا ہے کہ ایک کینیڈین آباؤ اجداد سے لے کر اس تک والدین اور اولاد کا رشتہ بغیر کسی تعطل کے برقرار رہا اور ہر نسل میں کینیڈین شہریت کا تسلسل موجود رہا۔
اس مقصد کے لیے ہر نسل سے متعلق مستند سرکاری دستاویزات پیش کرنا ضروری ہوتا ہے۔
جون 2026 سے دستاویزات کے نئے اصول نافذ
آئی آر سی سی نے جون 2026 میں دستاویزات سے متعلق اپنے قواعد مزید سخت کر دیے ہیں۔ نئے ضوابط کے تحت اب صرف وہی دستاویزات قابل قبول ہوں گی جو اصل سرکاری ادارے، جیسے سول رجسٹری، وائٹل اسٹیٹس آفس یا سرکاری آرکائیوز کی جانب سے جاری کی گئی ہوں۔
محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اب صرف نسب ناموں یا جینیالوجی ویب سائٹس سے حاصل کردہ ریکارڈ کی بنیاد پر شہریت کی درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔ ایسے ریکارڈ صرف تحقیق کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں، قانونی ثبوت کے طور پر نہیں۔
پیدائش کا سرٹیفکیٹ کیوں اہم ہے؟
اگر کسی درخواست گزار کے کینیڈین آباؤ اجداد کی پیدائش کینیڈا میں ہوئی تھی تو اس کا پیدائش کا سرٹیفکیٹ دو اہم امور ثابت کرتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ وہ شخص کینیڈا میں پیدا ہوا، جس کی بنیاد پر عموماً اسے کینیڈین شہریت حاصل ہوتی ہے، اور دوسری یہ کہ وہ اپنے والدین سے کس طرح منسلک ہے۔
لانگ فارم (Long-form) پیدائش کا سرٹیفکیٹ زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس میں والدین کے نام، جائے پیدائش اور دیگر تفصیلات درج ہوتی ہیں، جبکہ مختصر سرٹیفکیٹ میں یہ معلومات اکثر موجود نہیں ہوتیں۔
اگر پیدائش کا سرٹیفکیٹ دستیاب نہ ہو تو آئی آر سی سی بعض متبادل سرکاری دستاویزات بھی قبول کرتا ہے، جن میں بپتسمہ کا مصدقہ ریکارڈ، ہسپتال یا ڈاکٹر کا ریکارڈ، دائی کا سرٹیفکیٹ، مردم شماری کا ریکارڈ اور جہاز کے مسافروں کی فہرست شامل ہو سکتی ہے، بشرطیکہ یہ تمام دستاویزات اصل سرکاری ادارے سے جاری کی گئی ہوں۔
کیوبیک کے لیے الگ ضوابط
کیوبیک سے جاری ہونے والے پیدائش اور شادی کے سرٹیفکیٹس کے حوالے سے آئی آر سی سی نے خصوصی شرائط مقرر کی ہیں۔ یکم جنوری 1994 کے بعد کیوبیک کے مجاز سرکاری ادارے کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹس ہی قابل قبول ہوں گے۔
اگر اس سے پہلے جاری کیا گیا کوئی سرٹیفکیٹ استعمال کرنا ہو تو اسے Bibliothèque et Archives nationales du Québec (BAnQ) یا Directeur de l’état civil (DEC) سے دوبارہ مصدقہ صورت میں حاصل کرنا ہوگا۔
شادی کا سرٹیفکیٹ بھی بنیادی دستاویز
آئی آر سی سی کے مطابق شادی کا سرٹیفکیٹ صرف ازدواجی رشتے کا ثبوت نہیں بلکہ نام کی تبدیلی ثابت کرنے کے لیے بھی انتہائی اہم دستاویز ہے۔
مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کا پیدائشی نام اور شادی کے بعد کا نام مختلف ہو تو شادی کا سرٹیفکیٹ دونوں ناموں کو آپس میں جوڑ کر خاندانی سلسلہ واضح کرتا ہے۔ اسی طرح اگر وقت کے ساتھ خاندان کے نام کے ہجے تبدیل ہو گئے ہوں تو شادی کا ریکارڈ ان تبدیلیوں کو بھی ثابت کرنے میں مدد دیتا ہے۔
بعض پرانے مقدمات میں شادی کا سرٹیفکیٹ خود شہریت کے دعوے کی بنیادی دستاویز بھی بن جاتا ہے، خاص طور پر ان خواتین کے لیے جنہوں نے 1947 سے پہلے کسی کینیڈین یا برطانوی شہری سے شادی کی ہو۔
اگر ریکارڈ موجود نہ ہو تو کیا ہوگا؟
آئی آر سی سی نے اس حوالے سے بھی قواعد تبدیل کیے ہیں۔ اب صرف یہ کہنا کافی نہیں ہوگا کہ مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں ہے، بلکہ درخواست گزار کو یہ بھی ثابت کرنا ہوگا کہ اس نے متعلقہ ریکارڈ حاصل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی۔
اس مقصد کے لیے آرکائیوز یا رجسٹری آفس سے کی گئی خط و کتابت، یا “نو ریکارڈ لیٹر” (No Record Letter) جیسی دستاویزات جمع کرانا ضروری ہوگا۔
درخواست کے عمل میں صبر کی ضرورت
آئی آر سی سی کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 7 جولائی 2026 تک شہریت کے ثبوت (Proof of Citizenship) کی درخواستوں پر کارروائی کا اوسط دورانیہ 19 ماہ ہو چکا ہے، جو نومبر 2025 میں تقریباً 9 ماہ تھا۔
محکمہ کے مطابق جنوری سے مئی 2026 کے درمیان تقریباً 29 ہزار شہریت کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جبکہ 82 ہزار سے زائد درخواستیں اب بھی زیر التوا ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریت بذریعہ نسب کی درخواست تیار کرتے وقت سب سے اہم مرحلہ اپنے کینیڈین آباؤ اجداد سے متعلق اصل سرکاری دستاویزات حاصل کرنا ہے۔ ایک بار پیدائش اور شادی کے ریکارڈ دستیاب ہو جائیں تو بعد کی دستاویزات تلاش کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، کیونکہ ہر ریکارڈ اگلی نسل کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے درخواست گزاروں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی درخواست جمع کرانے سے قبل تمام ضروری دستاویزات اصل سرکاری ذرائع سے حاصل کریں تاکہ ان کے دعوے کے مسترد ہونے کا خطرہ کم سے کم رہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

