بھارت

جماعتِ اسلامی ہند کے اعلیٰ سطحی وفد کی نیٹ امتحان میں بے ضابطگیوں کے خلاف جاری احتجاج میں شرکت

📷 Senior Delegation of Jamaat-e-Islami Hind Joins Ongoing Protest Against Alleged NEET Exam Irregularities(Image Credit to JIH)

جماعت طلبہ کے حقوق کے تحفظ، نظامِ تعلیم میں شفافیت، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت کرتی ہے

سونم وانگچک اور تعلیمی اصلاحات کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ سے اظہارِ یکجہتی

نئی دہلی: جماعتِ اسلامی ہند کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے نیٹ (NEET) امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہرے کا دورہ کیا اور احتجاج میں شریک طلبہ، طلبہ رہنماؤں اور مختلف سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کر کے ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

اعلیٰ سطحی وفد میں اہم ذمہ داران شامل

وفد میں جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امراء پروفیسر سلیم انجینئر اور جناب امیر ملک معتصم خان، قومی سیکریٹری مولانا شفیع مدنی اور اسسٹنٹ سیکریٹری لئیق احمد خان شامل تھے۔

وفد نے اس موقع پر واضح کیا کہ جماعتِ اسلامی ہند ملک کے نظامِ تعلیم میں انصاف، شفافیت، جوابدہی اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہونے والی ہر پُرامن اور آئینی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتی ہے۔

سونم وانگچک اور طلبہ رہنماؤں سے ملاقات

دورے کے دوران وفد نے معروف ماہرِ ماحولیات اور تعلیمی اصلاحات کے حامی سونم وانگچک اور ان طلبہ رہنماؤں سے ملاقات کی جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ وفد نے سونم وانگچک اور دیگر طلبہ کی بگڑتی ہوئی صحت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

وفد نے اس مسئلے کے منصفانہ اور فوری حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے احتجاج میں شریک مختلف طلبہ تنظیموں، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین (JNUSU) کے اراکین اور دیگر نمائندوں سے بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔

پرامن احتجاج جمہوریت کا بنیادی حق: پروفیسر سلیم انجینئر

اس موقع پر جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت طلبہ کے حقوق کے تحفظ، نظامِ تعلیم میں شفافیت، انصاف اور جوابدہی کو یقینی بنانے کی ہر مخلصانہ کوشش کی حمایت کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج اور جمہوری جدوجہد کسی بھی مضبوط جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے۔ ایسے احتجاجی اور اصلاحی اقدامات کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور حکومت کو ان کے ساتھ مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔

حکومت سے فوری مذاکرات کی اپیل

جماعتِ اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہمدردی، انسان دوستی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً ان افراد کی تشویشناک صحت کے پیشِ نظر جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

جماعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے، ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے جائز، منصفانہ اور آئینی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

شفاف تعلیمی نظام وقت کی ضرورت

جماعتِ اسلامی ہند نے اپنے بیان میں کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور تعلیمی انصاف کے لیے جاری پُرامن جمہوری تحریکوں کا جواب طاقت یا بے اعتنائی سے نہیں بلکہ سنجیدہ مکالمے، باہمی اعتماد اور تعمیری اقدامات کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔

جماعت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ طلبہ کے حقوق، ان کے روشن مستقبل اور ملک کے تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات کے لیے جاری تمام آئینی، قانونی اور پُرامن کوششوں کی آئندہ بھی بھرپور حمایت کرتی رہے گی۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories