دنیا

’وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان بل‘ پر نظرِ ثانی اور وسیع مشاورت ضروری: مرکزی تعلیمی بورڈ

📷 Review and Extensive Consultation on ‘Viksit Bharat Shiksha Adhishthan Bill’ Essential: Central Education Board(Image Credit to Talimi Board)

اعلیٰ تعلیم میں اصلاحات دستور، وفاقی نظام اور ادارہ جاتی خودمختاری کے مطابق ہوں

نئی دہلی: مرکزی تعلیمی بورڈ (ایم ٹی بی) نے مجوزہ وکست بھارت شکشا ادھیشٹھان (وی بی ایس اے) بل، 2025 پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات ضروری ہیں، لیکن یہ اصلاحات دستورِ ہند، وفاقی نظام اور تعلیمی اداروں کی خودمختاری کے اصولوں کے مطابق ہونی چاہئیں۔

یہ بل اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ایک نئے مرکزی ادارے کے قیام کی تجویز پیش کرتا ہے، جو موجودہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی)، آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای) اور نیشنل کونسل فار ٹیچر ایجوکیشن (این سی ٹی ای) کی جگہ لے گا۔ بل کا مقصد اعلیٰ تعلیم کے ضابطوں کو ایک مربوط نظام کے تحت لانا اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔

اصلاحات کے ساتھ اداروں کو بااختیار بنانا ضروری: سید تنویر احمد

مرکزی تعلیمی بورڈ کے سکریٹری سید تنویر احمد نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، تاہم ان کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ وہ تعلیمی اداروں کو زیادہ بااختیار، جواب دہ اور تحقیق و اختراع کے لیے سازگار بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا دستور وفاقی نظام کی بنیاد ہے۔ چونکہ تعلیم مشترکہ فہرست (Concurrent List) کا موضوع ہے، اس لیے مرکز اور ریاستوں دونوں کی اس شعبے میں آئینی ذمہ داریاں ہیں۔ کسی بھی نئے قانون میں اس توازن کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

اختیارات کے حد سے زیادہ مرکزیت پر تشویش

سید تنویر احمد نے کہا کہ بل میں مختلف اختیارات کو ایک مرکزی ادارے کے تحت لانے کی تجویز انتظامی لحاظ سے مفید ہو سکتی ہے، لیکن اس سے اختیارات کے حد سے زیادہ مرکزیت اختیار کرنے اور ریاستوں کے کردار کے محدود ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تعلیمی، تحقیقی اور انتظامی معاملات میں مناسب آزادی حاصل ہونی چاہیے، تاکہ وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔

ریاستوں اور ماہرینِ تعلیم کے تحفظات پر غور کی اپیل

مرکزی تعلیمی بورڈ نے توجہ دلائی کہ متعدد ریاستی حکومتوں، ماہرینِ تعلیم اور اعلیٰ تعلیمی اداروں نے بھی بل کے بعض پہلوؤں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سید تنویر احمد نے کہا کہ اتنے اہم قانون پر فیصلہ کرنے سے قبل تمام متعلقہ فریقوں سے سنجیدہ اور بامعنی مشاورت ضروری ہے۔ ان کے مطابق مضبوط تعلیمی نظام صرف مضبوط قوانین سے نہیں بلکہ اعتماد، مشاورت اور آئینی اصولوں کے احترام سے تشکیل پاتا ہے۔

جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی سے وسیع مشاورت کا مطالبہ

مرکزی تعلیمی بورڈ نے مطالبہ کیا کہ بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) ریاستی حکومتوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، اساتذہ، طلبہ، ماہرینِ تعلیم اور دیگر متعلقہ فریقوں کی آراء اور تجاویز کو سنجیدگی سے مدنظر رکھے۔

بورڈ نے کہا کہ اس عمل کے ذریعے مجوزہ قانون کو زیادہ متوازن، قابلِ عمل اور وسیع تعلیمی قبولیت کا حامل بنایا جا سکتا ہے۔

مقصد اختیارات کا ارتکاز نہیں بلکہ معیاری تعلیم کا فروغ ہونا چاہیے

سید تنویر احمد نے کہا کہ اگر ہندوستان کو عالمی معیار کا تعلیمی نظام قائم کرنا ہے تو اصلاحات کا مقصد صرف اختیارات کو ایک جگہ جمع کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ معیاری تعلیم، آزاد تحقیق، بااختیار تعلیمی اداروں اور دستورِ ہند کے بنیادی اصولوں کو مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔

Follow StudioX Urdu News:

Related Stories