امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کیے گئے تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت کارروائی کرے گا
انقرہ/دبئی: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے نام پر ایران کے مختلف علاقوں پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ اس نئی پیش رفت نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید خطرناک بنا دیا ہے اور جنگ بندی کی تمام کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی افواج نے ایران کی ان صلاحیتوں کو کمزور کرنے کے لیے نئے حملے شروع کیے ہیں جن کے ذریعے وہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایران کی جانب سے ایک روز قبل تین تجارتی بحری جہازوں پر کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر تجارتی جہازوں پر دوبارہ حملے کیے گئے تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران کی جانب سے جہازوں پر حملہ ناقابل قبول ہے اور اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔
ایران کا فوری جواب، کویت اور بحرین میں حملے
امریکی فضائی کارروائی کے چند گھنٹوں بعد ایران نے کویت اور بحرین میں واقع امریکی فوجی اڈوں کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ کویت کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے متعدد میزائل اور ڈرون راستے میں ہی تباہ کر دیے، جبکہ بحرین میں بھی خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
قطر نے بھی مختصر وقت کے لیے ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کیا، تاہم بعد ازاں صورتحال معمول پر آنے کے بعد الرٹ ختم کر دیا گیا۔
ایران کے ساحلی علاقوں میں شدید تباہی
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں کا زیادہ تر رخ جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں کی جانب تھا۔ بندر عباس، کنارک، چابہار، ایران شہر اور دیگر اہم مقامات پر دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
رپورٹس کے مطابق چابہار کے بعض علاقوں میں بجلی کا نظام متاثر ہوا، جبکہ بعد میں بجلی بحال کر دی گئی۔ ایک فضائی حملے میں ایران شہر کے ہوائی اڈے پر تعینات ایک فائر فائٹر ہلاک ہو گیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق چابہار میں بحری ٹریفک کنٹرول ٹاور کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ایران کا مؤقف، امریکہ نے معاہدے کی خلاف ورزی کی
ایران نے امریکی کارروائی کو 17 جون کو ہونے والے مفاہمتی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ معاہدے میں واضح کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات ایران کی ذمہ داری ہوں گے، لیکن امریکہ نے یکطرفہ حملے کرکے اس معاہدے کو سبوتاژ کیا۔
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکہ کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ حملہ کرے گا تو اسے اسی شدت سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز دوبارہ صرف ایران کی شرائط کے مطابق ہی کھولی جائے گی، امریکی دباؤ کے تحت نہیں۔
ٹرمپ نے جنگ بندی کو ختم قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکی میں نیٹو اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے خواہاں نہیں اور انہیں ایرانی قیادت پر اعتماد نہیں رہا۔
تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں فی الحال مکمل جنگ دوبارہ شروع ہونے کی توقع نہیں، اگرچہ مستقل امن معاہدے کے امکانات کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔
عالمی تجارت کے لیے خطرات بڑھ گئے
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی تقریباً پانچواں حصہ سپلائی ہوتا ہے۔ حالیہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی سپلائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ میں ایران کی شکایت
ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک باضابطہ خط بھی ارسال کیا ہے جس میں امریکہ پر اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے ذرائع کے مطابق حکومت مختلف جوابی اقدامات پر غور کر رہی ہے، جن میں جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) سے علیحدگی، جوہری پالیسی میں تبدیلی اور بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے باب المندب کو بند کرنے جیسے اقدامات بھی شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان تازہ فوجی تصادم نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بار پھر بڑے بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے، جبکہ عالمی برادری دونوں ممالک سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی مذاکرات بحال کرنے کی اپیل کر رہی ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

