نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مئی کے مقابلے میں 0.7 فیصد کم ہو کر 12.7 فیصد رہ گئی، جبکہ ایک سال قبل یہی شرح 14.2 فیصد تھی
اوٹاوا: کینیڈا کی معیشت نے جون 2026 میں بھی روزگار کے میدان میں مثبت پیش رفت جاری رکھی اور ملک میں 18 ہزار نئی ملازمتیں پیدا ہوئیں، جس کے نتیجے میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 6.5 فیصد پر آ گئی۔ شماریاتی ادارے اسٹیٹس کینیڈا (StatCan) کی جانب سے جاری کردہ لیبر فورس سروے کے مطابق مئی میں بے روزگاری کی شرح 6.6 فیصد تھی، جبکہ اس ماہ اس میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
نوجوانوں کے لیے موسم گرما کی ملازمتوں کا بہتر آغاز
رپورٹ کے مطابق جون کے دوران 15 سے 24 سال کی عمر کے 33 ہزار نوجوانوں کو ملازمتیں ملیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں بہتر آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح مئی کے مقابلے میں 0.7 فیصد کم ہو کر 12.7 فیصد رہ گئی، جبکہ ایک سال قبل یہی شرح 14.2 فیصد تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 25 ہزار نوجوانوں کو جز وقتی ملازمتیں حاصل ہوئیں۔
طلبہ کے لیے روزگار کے مواقع میں بہتری
موسم گرما کی تعطیلات میں ملازمت کی تلاش کرنے والے 15 سے 24 سال کے طلبہ کے لیے بھی صورتحال بہتر رہی۔ اس طبقے میں بے روزگاری کی شرح کم ہو کر 15.3 فیصد ہو گئی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 17.4 فیصد تھی۔
رپورٹ کے مطابق زیادہ تر طلبہ کو ریٹیل کاروبار، ہوٹل اور فوڈ سروسز اور اطلاعات، ثقافت اور تفریح کے شعبوں میں ملازمتیں ملیں۔
اعداد و شمار کے مطابق:
- 25.7 فیصد نوجوانوں کو ریٹیل سیکٹر میں ملازمت ملی۔
- 23.3 فیصد افراد نے ہوٹل اور فوڈ سروسز کے شعبے میں کام شروع کیا۔
- 13 فیصد نوجوانوں کو اطلاعات، ثقافت اور تفریح کے شعبوں میں روزگار ملا۔
ماہرین نے رپورٹ کو مثبت قرار دیا
آن لائن جاب پلیٹ فارم “انڈیڈ کینیڈا” کے سینئر ماہر اقتصادیات برینڈن برنارڈ نے کہا کہ اگرچہ یہ کوئی غیر معمولی رپورٹ نہیں، لیکن اس نے لیبر مارکیٹ کو مثبت سمت میں آگے بڑھایا ہے۔
رائل بینک آف کینیڈا (RBC) کے اسسٹنٹ چیف اکنامسٹ نیتھن جانزن نے بھی کہا کہ جون میں نوجوانوں کے لیے بہتر روزگار کی صورتحال نے بے روزگاری کی شرح میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کیا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ کینیڈا کی لیبر مارکیٹ اب بھی مکمل طور پر مضبوط نہیں ہوئی اور بے روزگاری کی شرح معمول سے زیادہ ہے۔
مینوفیکچرنگ شعبے کو دھچکا
اگرچہ مجموعی طور پر روزگار میں اضافہ ہوا، لیکن کچھ شعبوں میں کمزوری بدستور برقرار رہی۔
رپورٹ کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں جون کے دوران 17 ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں، جو اس شعبے میں 0.9 فیصد کمی کے برابر ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوری 2025 کے بعد سے اب تک مینوفیکچرنگ کے شعبے میں تقریباً 61 ہزار ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ٹیرف پالیسیوں اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال نے اس شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
زراعت اور یوٹیلیٹی سیکٹر میں بھی کمی
جون کے دوران زرعی شعبہ بھی دباؤ کا شکار رہا، جہاں 7,600 ملازمتیں ختم ہوئیں، جو 3.3 فیصد کمی کے برابر ہے۔
اسی طرح یوٹیلیٹی سیکٹر میں بھی 7,300 ملازمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، جو 4.3 فیصد کی گراوٹ ہے۔
کینیڈین چیمبر آف کامرس کے بزنس ڈیٹا لیب کی ماہر اقتصادیات انوپریا گنگوپادھیائے نے کہا کہ اگرچہ لیبر مارکیٹ کو جون میں کچھ ریلیف ملا ہے، لیکن بحالی کا عمل اب بھی غیر متوازن ہے۔
عالمی غیر یقینی صورتحال کا اثر
کینیڈا کی معیشت گزشتہ ایک سال سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں اور کینیڈا، امریکا اور میکسیکو کے درمیان تجارتی معاہدے (CUSMA) پر جاری کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال سے گزر رہی ہے۔
اس کے علاوہ ایران جنگ کے باعث تیل اور دیگر اشیائے خام کی قیمتوں میں اضافے نے بھی کاروباری لاگت بڑھا دی ہے، جس کے اثرات صارفین اور صنعتوں دونوں پر پڑ رہے ہیں۔
برینڈن برنارڈ کے مطابق جون میں کمزور کارکردگی کا سب سے زیادہ اثر مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی شعبوں پر پڑا، جہاں مئی میں ہونے والی بہتری ایک مرتبہ پھر ختم ہو گئی۔
معیشت ابھی مکمل رفتار سے نہیں چل رہی
مشاورتی ادارے ڈیلوئٹ کی گزشتہ ماہ جاری کردہ رپورٹ میں کینیڈا کی معیشت کو “وقفے کی حالت” میں قرار دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق کاروباری ادارے غیر یقینی صورتحال کے باعث نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں، اور سرمایہ کاری میں کمی کا مطلب نئی ملازمتوں کے مواقع میں کمی بھی ہے۔
بینک آف کینیڈا کے لیے اہم رپورٹ
جون کی ملازمتوں سے متعلق یہ رپورٹ بینک آف کینیڈا کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ مرکزی بینک بدھ کے روز اپنی آئندہ شرح سود کا فیصلہ کرنے جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بے روزگاری کی شرح میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے، لیکن کمزور شعبوں اور عالمی معاشی خطرات کے پیش نظر بینک آف کینیڈا کو شرح سود کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت محتاط رہنا پڑے گا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

