دنیا

کانگو میں ایبولا کا شدید بحران، ایک ہفتے میں مریضوں کی تعداد تین گنا، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

📷 Severe Ebola Crisis in Congo: Cases Triple Within a Week, WHO Issues Emergency Warning

افریقی ملک Democratic Republic of the Congo ایک بار پھر مہلک ایبولا وائرس کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں صورتحال تیزی سے سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں ایبولا کے پھیلاؤ کا خطرہ اب “بہت زیادہ” سطح تک پہنچ چکا ہے۔ ادارے کے مطابق صرف ایک ہفتے کے دوران مشتبہ مریضوں اور اموات کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس نے عالمی طبی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک تقریباً 750 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 177 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل یہ تعداد صرف 246 کیسز اور 65 اموات تک محدود تھی۔ عالمی ادارۂ صحت کے ڈائریکٹر جنرل Tedros Adhanom Ghebreyesus نے صورتحال کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائرس غیر معمولی رفتار سے پھیل رہا ہے اور اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق وائرس کا مرکز زیادہ تر Ituri Province میں ہے، جہاں طبی سہولیات پہلے ہی محدود ہیں۔ صوبے کے مختلف دیہی علاقوں میں بیماری کے پھیلاؤ نے صحت کے نظام پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں تک رسائی بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے کیونکہ کئی مقامات پر سڑکیں ناقص ہیں جبکہ بعض علاقوں میں بدامنی بھی پائی جاتی ہے۔

صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہو گئی جب روامپارا کے ایک اسپتال کے باہر قائم ایبولا علاج مرکز پر مشتعل افراد نے حملہ کر دیا اور وہاں موجود خیموں اور طبی سامان کو آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق مقامی افراد ایک شخص کی لاش حوالے نہ کیے جانے پر ناراض تھے۔ ایبولا کے مریضوں کی تدفین انتہائی سخت حفاظتی اصولوں کے تحت کی جاتی ہے تاکہ وائرس مزید نہ پھیل سکے، تاہم مقامی آبادی کے ایک حصے میں ان اقدامات کے خلاف شدید بداعتمادی پائی جاتی ہے۔

ڈبلیو ایچ او حکام کا کہنا ہے کہ مقامی کمیونٹیز میں بیرونی امدادی ٹیموں اور حکومتی اداروں پر اعتماد کی کمی وبا پر قابو پانے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں لوگ ایبولا کو حقیقت ماننے سے انکار کرتے ہیں جبکہ کچھ افراد طبی ٹیموں کو اپنے عزیزوں کے قریب آنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔

ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر این اینسیا نے کہا کہ علاج مرکز پر حملے سے امدادی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، تاہم ادارہ جلد از جلد مرکز کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایبولا کے مریضوں کو دیگر مریضوں سے الگ رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ وائرس اسپتالوں کے اندر مزید نہ پھیل سکے۔

ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ اس مرتبہ پھیلنے والا وائرس “بونڈی بوجیو” قسم کا ایبولا ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا مؤثر علاج دستیاب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ادارے احتیاطی تدابیر، فوری تشخیص اور متاثرہ افراد کے رابطوں کی نگرانی پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔

دوسری جانب امدادی تنظیموں نے وسائل کی شدید کمی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ بین الاقوامی تنظیم “کئیر انٹرنیشنل” کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس امدادی فنڈز میں کمی کے باعث صحت کا نظام پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا، جس کی وجہ سے اب صورتحال سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ عملے کی کمی، حفاظتی سامان کی قلت اور متاثرہ افراد کی نگرانی جیسے اہم مراحل بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔

ادھر سائنسدان ایک نئی اینٹی وائرل دوا “اوبیلڈیسیویر” پر تحقیق کر رہے ہیں۔ ابتدائی امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ دوا ایبولا سے متاثرہ افراد کے قریبی رابطوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین جلد متاثرہ علاقوں میں اس دوا کے تجربات شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اگرچہ عالمی ادارۂ صحت نے کانگو میں خطرے کی سطح بڑھا دی ہے، تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ عالمی سطح پر خطرہ تاحال کم ہے۔ اس کے باوجود طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر وائرس کو فوری طور پر قابو نہ کیا گیا تو یہ خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

Urdu contributor

Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

Follow StudioX Urdu News:

Read in other languages:

Related Stories