2024 کی سرکاری رپورٹ میں تشویشناک انکشاف، شہری علاقوں میں 90 فیصد سے زائد اموات ریکارڈ
چنڈی گڑھ: بھارتی ریاست پنجاب میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہری رجسٹریشن نظام (Civil Registration System) پر مبنی اہم شماریاتی رپورٹ 2024 کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران پنجاب میں شیر خوار بچوں کی اموات میں 17.56 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں کے مقابلے میں شہری علاقوں کی صورتحال کہیں زیادہ سنگین ہے، جہاں مجموعی اموات کا تقریباً 90 فیصد حصہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایک سال میں 2671 شیر خوار بچوں کی اموات
سرکاری رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران پنجاب میں ایک سال سے کم عمر 2671 شیر خوار بچوں کی موت واقع ہوئی، جبکہ 2023 میں یہ تعداد 2272 تھی۔ اس طرح ایک سال کے اندر اموات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں سے پنجاب میں شیر خوار بچوں کی اموات کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ سال 2020 میں 1884، 2021 میں 1830، 2022 میں 2336، 2023 میں 2272 اور اب 2024 میں 2671 بچوں کی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جو صحت عامہ کے شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
شہری علاقوں کی صورتحال زیادہ تشویشناک
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے شہروں میں شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح دیہی علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔
2024 کے دوران دیہی علاقوں میں صرف 258 شیر خوار بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں، جبکہ شہری علاقوں میں یہ تعداد 2413 رہی۔ اس طرح مجموعی اموات میں تقریباً 90 فیصد واقعات شہروں میں پیش آئے، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شہری آبادی کو درپیش صحت کے مسائل مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ شہروں میں طبی سہولیات نسبتاً زیادہ دستیاب ہوتی ہیں، لیکن آبادی کا دباؤ، سرکاری اسپتالوں پر بوجھ، نجی علاج کے اخراجات اور بعض علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولیات کی کمی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
امرتسر میں سب سے زیادہ اموات
رپورٹ کے مطابق پنجاب کے مختلف اضلاع میں امرتسر سب سے زیادہ متاثرہ ضلع رہا، جہاں 2024 کے دوران 835 شیر خوار بچوں کی اموات ریکارڈ کی گئیں۔
اس کے بعد جالندھر دوسرے نمبر پر رہا جہاں 368 بچوں کی موت ہوئی، جبکہ لدھیانہ میں 348 شیر خوار بچوں کی جانیں گئیں۔
صحت کے حکام کے مطابق ان اضلاع میں خصوصی اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں تاکہ صورتحال پر قابو پایا جا سکے۔
اموات کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟
رپورٹ میں شیر خوار بچوں کی اموات کی متعدد اہم وجوہات بھی بیان کی گئی ہیں۔
ان میں قبل از وقت پیدائش، پیدائش کے دوران آکسیجن کی کمی، مختلف اقسام کے انفیکشن، حمل کے دوران مناسب طبی دیکھ بھال کا فقدان، غذائی قلت، صفائی کے ناقص انتظامات، اسہال اور دیگر متعدی بیماریاں نمایاں عوامل قرار دی گئی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حاملہ خواتین کو بروقت طبی معائنہ، متوازن غذا، محفوظ زچگی کی سہولیات اور نوزائیدہ بچوں کو فوری طبی نگہداشت فراہم کی جائے تو ان اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
قومی سطح پر صورتحال مختلف
جہاں پنجاب میں شیر خوار بچوں کی اموات میں اضافہ ہوا ہے، وہیں قومی سطح پر صورتحال نسبتاً بہتر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پورے بھارت میں 2024 کے دوران شیر خوار بچوں کی اموات میں 17.12 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
2023 میں ملک بھر میں تقریباً 1 لاکھ 45 ہزار شیر خوار بچوں کی اموات ہوئی تھیں، جبکہ 2024 میں یہ تعداد کم ہو کر 1 لاکھ 20 ہزار رہ گئی، جو قومی سطح پر صحت کے شعبے میں بہتری کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔
صحت محکمہ کے اقدامات
پنجاب کے محکمہ صحت نے بڑھتی ہوئی اموات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال بہتر بنانے کے لیے مختلف سطحوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
محکمہ کے مطابق ضلع اسپتالوں، سب ڈویژنل اسپتالوں اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹروں میں ماہر ڈاکٹروں کی تعیناتی کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کورسز مکمل کرنے والے ڈاکٹروں کے لیے حکومتی بانڈ پر سختی سے عمل درآمد بھی یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں طبی عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق خصوصی پروگرام، حفاظتی ٹیکہ جات، حمل کے دوران طبی نگرانی، غذائیت میں بہتری، صفائی کے انتظامات اور انفیکشن کی روک تھام کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔
آگاہی مہم بھی شروع
محکمہ صحت نے امرتسر، جالندھر اور لدھیانہ جیسے زیادہ متاثرہ اضلاع میں خصوصی آگاہی مہم بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان مہمات کے ذریعے والدین، خصوصاً حاملہ خواتین کو حمل کے دوران احتیاطی تدابیر، نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال، حفاظتی ٹیکوں کی اہمیت اور غذائی ضروریات کے بارے میں آگاہ کیا جا رہا ہے۔
صحت حکام کے مطابق اسپتالوں میں اضافی سہولیات فراہم کرنے، ڈاکٹرز اور طبی عملے کی کمی دور کرنے اور جدید طبی آلات کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ آئندہ برسوں میں شیر خوار بچوں کی اموات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر حکومت، طبی ادارے اور عوام مشترکہ طور پر مؤثر اقدامات کریں تو پنجاب میں بڑھتی ہوئی شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح کو کم کرنا ممکن ہے، تاہم اس کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، مؤثر نگرانی اور عوامی شعور میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

