ایران کا امریکا اور اتحادی ممالک کو دو ٹوک انتباہ,ایران کی خودمختاری کے خلاف ہر اقدام ناقابل قبول قرار
تہران: ایران کی مسلح افواج نے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی ملک، فوجی اڈہ یا تنصیب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں میں کسی بھی نوعیت کی مدد فراہم کرے گی، اسے ایرانی افواج کی جانب سے جائز فوجی ہدف تصور کیا جائے گا۔ ایرانی فوج کے اس بیان نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
ایران کی خودمختاری کے خلاف ہر اقدام ناقابل قبول قرار
ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی میں امریکی افواج کی ہر قسم کی معاونت ناقابل قبول ہے۔ بیان کے مطابق جو ممالک یا مقامات امریکی کارروائیوں میں کسی بھی شکل میں سہولت فراہم کریں گے، وہ ایرانی افواج کی ممکنہ جوابی کارروائی کی زد میں آ سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ جارح امریکی فوج کو ایران کی سرزمین اور خودمختاری کے خلاف کارروائیوں میں فراہم کی جانے والی ہر قسم کی مدد ایرانی مسلح افواج کی نظر میں ایک جائز ہدف ہو گی اور ایسے تمام مقامات کو براہ راست نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ
ایران کا یہ سخت مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کارروائیوں کے بعد کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر جنگ بندی اور مفاہمتی فریم ورک کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی تازہ فوجی کارروائیاں طے شدہ معاہدوں اور سفارتی سمجھوتوں کے منافی ہیں۔ دوسری جانب واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی شرائط کی خلاف ورزی کی، جس کے بعد امریکی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے اہم پیغام
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کا تازہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور ان ممالک کے لیے ایک اہم اور سنجیدہ پیغام ہے جہاں امریکی افواج تعینات ہیں۔ اگرچہ ایرانی حکام نے اپنے بیان میں کسی مخصوص ملک یا فوجی اڈے کا نام نہیں لیا، تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس انتباہ کا دائرہ ان تمام ممالک تک پھیلتا ہے جو امریکا کو عسکری، انٹیلی جنس یا لاجسٹک معاونت فراہم کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے استعمال کی گئی زبان اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران اب صرف سفارتی احتجاج تک محدود رہنے کے بجائے ممکنہ فوجی ردعمل کے آپشن کو بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے۔
سفارتی کوششوں کو دھچکا لگنے کا خدشہ
علاقائی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے بلکہ خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو بھی شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی عالمی سطح پر بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور عالمی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
بندر ماہشہر میں مبینہ جھڑپ کا دعویٰ
دوسری جانب ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی ایرانی بندرگاہ بندر ماہشہر میں امریکی ڈرونز کے ساتھ مبینہ جھڑپ کے دوران پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایرانی فورسز اور مبینہ امریکی ڈرونز کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی۔ تاہم ایرانی حکام نے ابھی تک ہلاک ہونے والے اہلکار کی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی اس واقعے کی مزید تفصیلات جاری کی ہیں۔
آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہ آ سکی
ایرانی میڈیا کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے ابھی تک تصدیق سامنے نہیں آ سکی ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس مبینہ واقعے پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بندر ماہشہر میں پیش آنے والے مبینہ واقعے کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے بیانات اور جوابی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر سکتے ہیں، جہاں کسی بھی معمولی واقعے کے بڑے فوجی تصادم میں تبدیل ہونے کا خدشہ مسلسل موجود ہے۔
Mohammad Shams Aghaz is an Urdu journalist and media professional based in Delhi with over a decade of experience across print, digital, and broadcast newsrooms. He holds an MA in Urdu from Jamia Millia Islamia and a Diploma in Journalism & Mass Communication. At StudioX News Urdu, he covers immigration, settlement, community life, and public-interest stories for Canada's Urdu-speaking diaspora.

